visitors

free counters

Sunday, 5 June 2011

طاہر القادری ناقدین کے حصار میں

فتنہ طاہریہ( طاہر القادری) کے عقائد


 


 


موجودہ دور میں جہاں ہزاروں فتنے بر پا ہوئے وہاں اہلسنّت و جماعت سنّی حنفی بریلوی مسلک کا لبادہ اوڑھ کر ایک نیا فتنہ طاہر القادری کی شکل میں نمودار ہوا۔اپنے آپ کو سنّی قادری اور حنفی کہلانے والا طاہر القادری پس پر دہ کیا عقائد رکھتا ہے طاہر القادری نہ قادری ہے نہ حنفی نہ سنّی ہے بلکہ ایک نیا فتنہ ہے جسے فتنہ طاہریہ کہنا غلط نہ ہوگا ۔


اپنے آپ کو امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کا مقلّد کہتا ہے مگر امام اعظم کی بات کو نہیں مانتا اور امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے خلاف بات کرتا ہے

1)....طاہر القادری کہتا ہے کہ عورت کی دیت (گواہی )مرد کے برابر ہے ۔

2)....میں حنفیت یا مسلک اھلسنّت و جماعت کی بالا تری کے لئے کام نہیں کر رہا ہوں ۔

( نوائے وقت میگزین ص 4تا 19ستمبر 1986ءبحوالہ رضائے مصطفی گوجرانوالہ )

3)....نماز میں ہاتھ چھوڑنا یا باندھنا اسلام کے واجبات میں سے نہیں اہم چیز قیام ہے قیام میں اقتداءکر رہا ہوں (امام چاہے کوئی بھی ہو)امام جب قیام کرے سجود کرے ،سلام پھیرے تو مقتدی بھی وہی کچھ کرے یہا ں یہ ضروری نہیں ہے کہ امام نے ہاتھ چھوڑ رکھے ہیں اور مقتدی ہاتھ باندھ کر نماز پڑھتا ہے یا ہاتھ چھوڑ کر ۔

(بحوالہ :نوائے وقت میگزین 19ستمبر 1986ءمخصاًرضائے مصطفی گوجرانوالہ ماہِ ذیقعد 1407ھ)[/color]

اپنے آپ کو اہلسنّت وجماعت کہتا ہے مگر پسِ پردہ


 

4)....میں فرقہ واریت پر لعنت بھیجتا ہوں میں کسی فرقہ کا نہیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نمائندہ ہوں ۔

(رسالہ دید شیند لاھور 4تا19اپریل 1986ءبحوالہ رضائے مصطفی گوجرانوالہ )

5)....میں شیعہ اور وہابی علماءکے پیچھے نماز پڑھنا صرف پسند ہی نہیں کرتا بلکہ جب بھی موقع ملے ان کے پیچھے نماز پڑھتا ہوں ۔(رسالہ دید شنید لاھور 4تا19اپریل 1986ء،رضائے مصطفی گوجرانوالہ )

6)....بحمد للہ مسلمانوں کے تمام مسالک اور مکاتب فکر میں عقائد کے بارے میں کوئی بنیادی اختلاف موجود نہیں ہے البتہ فروعی اختلافات صرف جزئیات اور تفصیلات کی حد تک ہیں جنکی نوعیت تعبیری اور تشریحی ہے اس لئے تبلیغی امور میں بنیادی عقائد کے دائرہ کو چھوڑ محض فروعات و جزئیات میں الجُھنا اور ان کی بنیاد پر دوسرے مسالک کو تنقید و تفیق کا نشانہ بنانا کس طرح دانشمندی اور قرین انصاف نہیں ۔(بحوالہ :کتاب فرقہ پرستی کا کیو نکر ممکن ہے ص65)


اپنے آپ کو اسلام کا خیر خواہ کہتا ہے مگر نظریہ :

7)....روزنامہ جنگ جمعہ میگزین 27فروری تا 5مارچ 1987ءایک انٹر ویو میں کہتا ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں اگر تعلیمی اور دینی مقصد کےلئے آپس میں ملیں تو ٹھیک ہے ۔

8)....داڑھی رکھنا میرے نزدیک ضروری نہیں ہے ۔

9)....روزنامہ جنگ 19مئی 1987ءکے ایک مضمون میں طاہر القادری کا شائع کردہ ہے کہتا ہے کہ تمام صحابہ کرام بھی اکٹھے ہوجائیں تو علم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کوئی ثانی نہیں ۔

10)....حسّام الحرمین جو امام اہلسنّت فاضل بریلی علیہ الرحمہ کی کتاب ہے اس کے متعلق کہتا ہے کہ وہ اس زمانے میں قابل قبول نہیں بلکہ اُس وقت تھی ۔

اپنے منہ میاں مٹھو بننا :

1)....طاہرالقادری لکھتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے (والد صاحب )کو طاہر کے تو لد ہونے کی بشارت دی اور نام بھی خود تجویز فرمایا سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے خود میرے والد کو خواب میں حکم دیا کہ طاہر کو ہمارے پاس لاؤ۔پھر محمد طاہر کو دودھ کا بھرا ہو ا مٹکا عطا کیا اور اسے ہر ایک میں تقسیم کرنیکا حکم فر مایا میں وہ دودھ لیکر تقسیم کرنے لگا ۔اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پیشانی پر لوسہ دیکر مجھ پر اپنا کرم فرمایا ۔ (کتاب نابغہ عصر ،قومی ڈائجسٹ لاھور 1886ء)

2)....منہاج القرآن کے حوالے سے احیاءاسلام کےلئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا فرمایا میں یہ کام تمہارے سپرد کرتا ہوں تم شروع کرو منہاج القرآن کا ادارہ بناؤ میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ لاھور میں تمہارے ارادہ منہاج القرآن میں خود آؤ نگا ۔(ماہنا مہ قومی ڈائجسٹ نومبر 1986ءص 24/22/20)

3)....حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں مجھ سے پی آئی اے کا ٹکٹ مانگا اور مجھ سے کہا کہ میں سب علماءسے ناراض ہوں صرف تم سے راضی ہوں ۔


محترم حضرات ! اس کے علاوہ بھی پروفیسر کی باتیں موجود ہیں انہی عقائد کی بناءپر پروفیسر کو اہلسنّت وجماعت سنّی حنفی بریلوی سے خارج کردیا گیا اسکا اہلسنّت سے کوئی تعلق نہیں ہے جو آدمی امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے فقہ پر اعتراض کرے ۔


امام اہلسنّت امام احمد رضا بریلی علیہ الرحمہ کی کتاب حسام الحرمین کو تسلیم نہ کرے اور گمراہ کُن عقائد رکھتا ہو ایسا شخص گمراہ ہے اور ایسے شخص کی جماعت منہاج القرآن نہیں ،منہاج الشیطان ہے ۔

No comments:

Post a comment