visitors

free counters

Friday, 10 June 2011

انکار حق کی وجوہات


انکار حق کی وجوہات


سچی، کھری ،ٹھوس اور موافق واقعہ بات کو حق کہتے ہیں اس اعتبار سے قران مجید اور احادیث نبویﷺ

حق کی اعلیٰ ترین صورتیں ہیں۔ان دونوں میں ایک حرف بھی ایسا نہیں جو خلاف حق ہو ۔یہی وجہ ہے کہ ہر ذی شعور اور صاحب عقل وحلم جب ان کا مطالعہ کرتا ہے تو بے ساختہ یہ کہہ اٹھتاہے :أی وربی إنہ لحق"اللہ کی قسم !یہ حق ہے ۔" خرد ودانش کا تقاضہ ہے کہ آدمی حق کو پائے تو اسے قبول کرے ۔جسے حق پر دیکھے،اس کا ساتھ دے۔صدائے حق کو بلند کرے ۔سمجھ دار آدمی اپنی سمجھ داری کو بروئے کار لا کر حق کو تسلیم کرتا ہے ۔بعض اوقات آدمی عقل ودانش سے بہرہ ور ہوتا ہے،اسے مکمل آگا ہی ہوتی ہے کہ حق کیا ہے اور نا حق کیا ہے ،صحیح کون ہے ،غلط کیا ہے ؟لیکن اس کے باوجود وہ قبول حق سے جی چراتا ہے ۔انکار حق کے لیے مختلف تاویلات اور تلبیسات کے سہارے تلاش کرتا ہے ۔جھوٹے مخمصوں کو بنیاد بنا کر خود کو تسلی دیتا ہے راہ حق کی کٹھن اور پر آشوب راہوں پر جینے کی بجائے دنیاوی چکا چوند اور زیبائش وآرائش کو ترجیح دیتاہے۔ایسے لوگ دنیا ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔وہ بھول جاتے ہیں کہ دنیا عارضی ہے،فانی ہے اور جلد ختم ہوجانے والی ہے ۔دنیا میں جو بھی آیا ہے،چلا گیا ہے۔بڑے بڑے فراعنہ جو خود کو رب اعلیٰ کہلاتے رہے ،حق اور حق کوماننے والوں کا قتل عام کرتے رہے،آج قصہٴپارینہ بننے کے ساتھ سامان عبرت بن چکے ہیں ۔دنیا میں کوئی اچھے الفاظ میں ان کو یاد کرنے والا نہیں ہے ۔اس کے برعکس جو لوگ جان جوکھوں میں ڈال کر حق کا علم لہراتے رہے، وہ اگرچہ دنیاوی اعتبار سے کمزور تھے۔دنیا،اس کی رنگینیوں اور اس کے متائے غرور سے کچھ ان کے پاس نہ تھا،لیکن صدائے حق بلند کرنے اور قبول حق کی وجہ سے آج اگرچہ وہ سینہٴ ارض پر موجود نہیں،لیکن ان کا روشن تذکرہ تاریخ حق کے ماتھے کا جھومر ہے۔یہ لوگ تاقیامت زندہ رہیں گے اور اپنے محسنین اور متبعین سے اسوہٴ حق بننے کی داد وتحسین وصول کرتے رہیں گے۔طلبا کو ایسے عظیم لوگوں کے حالات کا مطالعہ کرنا چاہیے اور ساری زندگی کے لیے یہ اسلو ب بنا لینا چاہیے کہ حق کو قبول کرنا ہے،وہ جہاں بھی ہوجس کے ساتھ بھی ہواوراس کا علمبردار جو بھی ہو،ماضی میں بہت سے لوگ ایسے گزرے ہیں جو حق کو پالینے کے بعد محض لغو اور بے معنی اعتراضات اور اسباب کی وجہ سے قبول حق سے انحراف کے مرتکب ہوئے،آج بھی بہت سے لوگ نئی آرائشوں کا شکار ہو کر حق کو قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ہر شخص کو اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ کہیں میں غلط روش اپنا کر انکار حق کا مرتکب تو نہیں ہورہا ۔کیا کہیں میرے اندر انکار حق کی وجوہات میں سے کوئی وجہ تو نہیں پائی جار ہی ۔انکار حق کے اسباب اور اس کی وجوہ کیا ہیں ذیل میں ہم ان کا تذکرہ کرتے ہیں:



انا پرستی:
حق سے اعراض اور عدم قبو ل کی ایک بڑی وجہ انانیت اور انا پرستی ہے ۔بہت سے لوگوں پر حق کی حقانیت واضح ہوجاتی ہے، لیکن قبول حق کی صورت میں انہیں اپنی حشمت وجاہ اور اجارہ داری جاتی نظر آتی ہے اس لیے وہ حق کو قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔نضر بن حارث ملعون ایک بہت بڑا تاجر تھا ۔یہ تجارت کے سلسلے میں مختلف ممالک کا سفر کیا کرتا تھا ۔ایک دفعہ یہ بلاد فارس گیا وہاں سے اس نے ان کے بادشاہوں رستم اور اسفند یار کے قصے معلوم کیے۔جب واپس آیا تو اس نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمدﷺکو نبی بنا کر مبعوث فرما دیا ہے اور آپ ﷺلوگوں کو قران مجید پڑھ پڑھ کر سنا رہے ہیں ۔رسول اللہﷺجب کسی مجلس سے اٹھتے تو یہ لوگوں کو رستم اور اسفند یار کے قصے سنا نے لگ جاتا۔پھر کہتا:اے اللہ!تو ہی بتا ہم سے کسی کے قصے اچھے ہیں میرے یا محمد(ﷺ)کے نعوذ باللہ۔گویا اس بدبخت نے اپنی انانیت کی وجہ سے قران مجید کو اساطیر الاولین قرار دیا اور دعوی کیا کہ وہ بھی اس جیسا کلام پیش کرنے پر قادر ہے ۔اسی لیے جب قران مجید کا اعجاز اس کی تمام تر حیلوں کو ناکام بنا دیتا تو وہ اس کوماننے کی بجائے کفر،سرکشی اور عناد کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتا:﴿اَللَّهُمَّ إِنْ کَانَ هَذَا الْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْعَلَيْنَاحِجَارَةًمِّنَ السَّمَآءِ اَوِئْتِنَا بِعَذَابٍ عَلَيْم﴾(الانفال:۳۲)
"اے اللہ یہ اگر (قران)تیری طرف سے برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہم پر تکلیف دینے والا عذاب بھیج دے۔"
چاہیے تو یہ تھا کہ کہتا:اے اللہ !اگر یہ قران تیری طرف سے برحق ہے تو ہمیں اس کی ہدایت فرما اور اس کی اتباع کی توفیق عطا فرما، لیکن اس کی بجائے اس نے عذاب کا مطالبہ کر دیا یہ سب کچھ اس نے اپنی انا پرستی کی وجہ سے کیا ۔
اسی طرح جب یہ بدبخت غزوہٴ بدر میں قیدی بن کر آیا تو رسول اللہ ﷺنے حکم دیا کہ آپ کے سامنے اس کی گردن اڑا دی جائے ،چنانچہ صحابہ نے تعمیل ارشاد کرتے ہوئے اس کی گر دن تن سے جدا کردی۔(تفسیر الخازن:۲ /۳۰۸)
امام شعبہ  نے عبد الحمید صاحب الزیادی کے حوالے سے حضرت انس سے روایت کیا ہے کہ (نضر بن حارث کی بجائے) ابو جہل نے یہ بات کہی ۔(صحیح البخاری :۴۶۴۸)
آیت کا مصداق ابو جہل ہو یانضر بن الحارث دونوں کا مقصود اپنی انانیت کو قائم رکھنا تھا۔اس وجہ سے انہوں نے قبول حق پر عذاب کو ترجیح دی ۔آج بھی بہت سے لوگ محض اپنے تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے حق کو دھتکار دیتے ہیں حالانکہ انہیں بخوبی علم ہوتا ہے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے ،چنانچہ وہ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اورعوام الناس کا بھی بیڑا غرق کرتے ہیں۔
قوم اور قبیلے کی حمایت:
بہت سے لوگ کسی بات،فکر یا نظریے سے متفق ہوتے ہیں انہیں علم ہوتا ہے کہ یہ بات حق ہے لیکن حق کے علمبردار سے وہ متفق نہیں ہوتے، کیونکہ اس کا تعلق ان کی قوم،قبیلے یا برادری سے نہیں ہوتا۔اس لیے وہ قبول حق سے منہ موڑ لیتے ہیں ۔یہودی رسول اللہﷺ کو ایسے پہچانتے تھے جیسے ان میں سے کوئی اپنی اولاد کو پہچانتا ہے ۔قران مجید اس بارے میں کہتا ہے:﴿اَلَّذِيْنَ اتَيْنَهُمُ الْکِتٰبَ يَعْرِفُوْنَ کَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَ هُمْ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنْهُمْ لَيَکْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُوْنَ﴾(البقرة :۱۴۶)
"جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی وہ اس (رسولﷺ)کو ایسے پہچانتے ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اور بلا شبہ ان میں سے ایک گروہ ضرور حق کو چھپاتا ہے ،حالانکہ وہ جانتے ہیں۔"
کسی چیز کے صحیح ہونے کے بارے میں عرب یوں مثال دیا کرتے تھے کہ یہ اس کو ایسے جانتا ہے جیسے اپنے بیٹوں کو جانتا ہے ،جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ رسو ل اللہﷺنے ایک شخص سے کہا جس کے ساتھ اس کا چھوٹا بچہ بھی تھا کہ کیا یہ تیرا بیٹا ہے ؟اس نے عرض کی جی ہاں،میں اس کی گواہی دیتا ہوں۔آپﷺ نے فرمایا:"یہ تمہارے اور تم اس کے گنا ہ کے ذمہ دار نہیں ہوگے۔(مسندأحمد :۴/۱۶۳)
حضرت عمرنے حضرت عبداللہ بن سلام سے پوچھا :کیا آپ حضرت محمدﷺکو اسی طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹے کو؟انہوں نے کہا:ہاں،بلکہ اس سے بھی زیادہ۔آسمان سے ایک امین جبریلؑ زمین کے ایک امین حضرت موسیٰؑ پر نازل ہوا اور اس نے آپ کی شان بتائی جس کی وجہ سے میں نے آپ کوپہچان لیا ہے ،حالانکہ آپ کی اولاد کے بارے میں مجھے کوئی علم نہیں ہے۔(صحیح البخاری :۲/۱۶۳)
یہود جواس قدر نبی کریم ﷺکی معرفت کرتے تھے، لیکن وہ محض اس وجہ سے ایمان نہ لائے کہ آپ کا تعلق بنو اسرائیل کی بجائے بنو اسماعیل سے ہے ۔آپ ان کے قبیلے اور قوم سے نہیں ہیں ۔جیسا کہ ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ:یہ حق واضح ہونے کے باوجود کہ حضرت محمدﷺاللہ کے رسول ہیں،یہود نے کفر کو اختیار کیا، کیونکہ وہ آپ کے بارے میں تورات وانجیل میں لکھا ہوا بھی پاتے ہیں مگر انہوں نے محض اس وجہ سے حسد وسرکشی کو اختیار کرتے ہوئے کفر کیا کہ آپ کا تعلق بنواسرائیل سے نہیں بلکہ ایک دوسرے قبیلے سے ہے۔(تفسیر ابن ابی حاتم :۱/۲۰۵)
افسوس!کتنے ایسے لوگ ہیں جو محض برادری ازم کی وجہ سے حق کو ٹھکرا دیتے ہیں ۔اللہ انہیں ہدایت دے۔
حسد:
کچھ لوگ حق کے قائلین سے حسد کی بنا پر حق کا انکار کر دیتے ہیں۔ان کا دل گواہی دیتا ہے کہ فلا ں شخص برحق ہے، لیکن حسد کی وجہ سے ان کی زبان حق کے اقرار پر آمادہ نہیں ہوتی بلکہ الٹا وہ حق گو کے خلاف سازشیں اور پروپیگنڈہ کر کے خو د کو مطمئن اور لوگوں میں اپنا اعتماد اور وقار قائم رکھنے کی کوششیں کرتے ہیں۔عبداللہ بن ابی سلول اس کی واضح مثال ہے ہجرت مدینہ سے قبل خزرج اور اوس نے اسے متفقہ طو ر پر اپنا سربراہ بنا نے کا فیصلہ کر لیا تھا اور اس کے لیے باقاعدہ تاج بھی بنوایا جا رہا تھا اسی اثنا میں نبی کریمﷺمدینہ تشریف لے آئے اور لوگوں نے آپﷺ کی اطاعت کو قبول کر لیا اس کی سرداری دھری کی دھری رہ گئی اس بنا پریہ شخص حسد میں مبتلا ہوگیا اوراس نے اسلام قبو ل کرنے سے انکار کردیا ،اگرچہ کچھ عرصہ بعد منافقانہ طور پر اسلام بھی قبول کر لیا تھا لہذا نبی کریمﷺسے حسد کی وجہ سے یہ بدبخت نعمت اسلام سے محروم رہا
حسد بڑی بیماری ہے حسد ہی کی وجہ سے دنیا پر پہلا انسانی قتل ہوا جب قابیل نے اپنے چھوٹے بھائی ہابیل کو قتل کردیا حسد ہی کی وجہ سے برادران یوسف نے حضرت یوسفؑ کو اندھے کنویں میں پھینکا حسد ہی کی وجہ سے یہود نے نبی رحمت ﷺکو رسول ماننے سے انکار کردیا جیسا کہ قران مجید میں ہے:
﴿وَدَّکََثِيْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْکِتٰبِ لَوْ يَرُدُّوْنَکُمْ مِّنْ بَعْدِاِيْمَانِکُمْ کُفَّارًا حَسَدًا مِّنِ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ مِّنْ بَِعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ﴾(البقرة:۱۰۹)
"اہل کتاب میں سے بہت سے یہ چاہتے ہیں کاش!وہ تمہارے ایمان لانے کے بعد تمہیں پھیر کر کافر بنا دیں،اپنے دلوں میں حسد کرتے ہوئے اس کے بعدکہ ان کے سامنے حق واضح ہوچکا"
حافظ ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: "يحذر تعالیٰ،عباده المومنين عن سلوک طرائق الکفار من اهل الکتب ويعلمهم بعد اوتهم لهم فی الباطن الظاهر،وماهم مشتملون عليه من الحسد للمومنين،مع علمهم بفضلهم وفضل نبيهم"(تفسیر ابن کثیر :۱/۳۳۵)
"اللہ تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کو اہل کتاب میں سے کفار کے رستے پر چلنے سے منع فرما رہا ہے کہ یہ اپنے ظاہر وباطن میں ان کے لیے کس قدر شدید دشمنی اور کس قدر شدید حسد رکھتے ہیں،حالانکہ انہیں مسلمانوں اور ان کے نبی کی فضیلت کے بارے میں خوب علم ہے۔"
تکبر:
انکار حق کی بڑی وجوہات میں سے ایک وجہ تکبر ہے۔انسان خود کو بڑا اور دوسروں کو حقیر وذلیل سمجھنے کی وجہ سے حق کا انکار کر دیتا ہے ۔تکبر کامطلب ہے حق کا انکار اور لوگوں کو استخفاف اور استحقار کی نگاہ سے دیکھنا ہے ۔رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ((لا يدخل الجنة من کان فی قلبه مثقال ذرة من کبر))
"جس شخص کے دل میں ذرہ برابر تکبر بھی ہے،وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔"
ایک شخص نے عرض کی کہ آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا لباس اور جوتے اچھے ہوں۔(کیا یہ بھی تکبر ہے؟)
آپﷺ نے فرمایا:((ان الله جميل ويحب الجمال،الکبر بطر الحق وغمط الناس)) "اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتاہے،(یہ تکبر نہیں ہے)تکبر تو حق کو رد کرنا اور لوگوں کو حقیرجاننا ہے " (صحیح مسلم:۹۱)
تکبر کی وجہ سے ابلیس نے حضرت آدم  کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا تھاقران مجید کہتا ہے:
﴿اَبٰی وَاسْتَکْبَرَ وَکَانَ مِنَ الْکٰفِرِيْنَ﴾(البقرة:۳۴) "ابلیس نے (سجدے سے)انکار کردیا اور وہ تھا ہی کافروں میں سے "بہت سے انبیاء کی قوموں نے تکبر ہی میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ان کی اتباع وپیروی کرنے سے انکار کردیا تھا حضرت نوح ؑنے اپنی قوم کو دعوت توحید دی تو انہوں نے جواب دیا: ﴿انُوْمِنُ وَاتَّبَعَکَ الْاَرْزَلُوْن﴾ (الشعراء:۱۱۱) "کیا یہ تجھ پر ایمان لے آئیں جبکہ تیرے پیروکار تو ذلیل لوگ ہیں"
تکبر کی وجہ سے خود کو عزت دار اور اہل ایمان کو حقیر وذلیل گردانتے ہوئے،قوم نوح نے قبول حق سے انکار کردیابعض اوقات آدمی حق کو قبول کرلیتا ہے، لیکن تکبرانہ عناصر اس کے رگ وپے میں موجود ہوتے جو اسے حق سے منحرف کردیتے ہیں اور وہ راندہ درگاہ الہٰی بن جاتا ہے۔مشہور واقعہ ہے کہ غسان کے بادشاہ جبلہ بن ایہم نے اسلام قبول کر لیا اور حضرت عمر کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ ان کے پاس حاضر ہونا چاہتا ہے ۔حضرت عمراور تمام مسلمان اس سے بڑے خوش ہوئے۔حضرت عمر نے اسے لکھا :
ضرور تشریف لائیں ،لیکن تم ہمارے حقوق کا خیال رکھناہم تیرے حقوق کی پاسبانی کریں گے،چنانچہ جبلہ اپنی قوم کے پچاس شاہسواروں کی معیت میں مدینہ کی طرف روانہ ہوا ۔جب وہ مدینے کے قریب پہنچا تو اس نے سونے کی تاروں سے کڑھا ہوا لباس زیب تن کیا اور ہیرے جواہرا ت سے مرصع تاج سر پرپہنا اور اپنے ساتھیوں کو بھی فاخرانہ لباس زیب تن کرایا۔جب وہ مدینہ میں داخل ہوا تو چھوٹے بڑے،بچے اور عورتیں بھی اس کے استقبال کے لیے آئے۔حضرت عمر نے اسے "مرحبا"کہا اور اپنے قریب بٹھا لیا ۔کچھ دنوں بعد حج کاموسم آگیا تو حضرت عمر کے ساتھ جبلہ نے بھی حج کا ارادہ کر لیا۔بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے بنوفزارہ کے ایک بدو نے جبلہ کا تہبند روند دیا۔جبلہ غضبناک ہوگیا اور اس نے بدو کے منہ پر طمانچہ مار کر اس کے ناک کی ہڈی توڑدی ۔بدو بھی غصے میں آگیا اور اس نے حضرت عمر سے فریادکی اور انصاف چاہا۔حضرت عمر نے جبلہ کو طلب کیا اور پوچھا :تم نے دوران طواف اپنے بھائی کے منہ پر طمانچہ مار کر اس کے ناک ہڈی کیوں توڑدی ؟جبلہ غرور وتکبر سے پھولا کہنے لگا:اس نے میرا تہبند روندا ہے ،اگر حرمت کعبہ کا پاس نہ ہوتا تو میں اس کا سرتن سے جدا کر دیتا۔حضرت عمر  نے فرمایا:تم نے خود اقبال جرم کرلیا ہے ۔اب دو ہی صورتیں ہیں یاتو اس کو راضی کرویا قصاص کے لیے تیار ہوجاوٴ۔جبلہ کہنے لگا:یہ مجھ سے قصاص لے گا ؟ایسا نہیں ہوسکتا،میں بادشاہ ہوں اور یہ بازاری آدمی ہے۔حضرت عمرکہنے لگے:جبلہ! اسلام میں سب برابر ہیں ،اور تقوی کے سوا کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔جبلہ کہنے لگا:تب پھر میں عیسائی ہوجاوٴ ں گا۔حضرت عمرنے فرمایا :اگر تم عیسائیت اختیار کروگے تو میں تیر ی گردن مار دوں گا،کیونکہ جو دین بدلے اسے قتل کردیا جاتا ہے ۔جبلہ کہنے لگا:امیر الموٴمنین !مجھے ایک دن کی مہلت دے دیں ۔حضرت عمر نے اسے مہلت دے دی۔جب شام ہوئی تو جبلہ اور اس کے ساتھی مکہ مکرمہ سے فرار ہو کر قسطنطنیہ بھاگ گئے اور نصرانیت اختیار کرلی۔کچھ عرصہ یہ وہاں ٹھہرا رہا ۔دنیاوی لذتوں سے اس کا دل بھر گیا اور حسرتوں اور ندامتوں نے اس پر ڈیرہ ڈال لیا ۔اب اسے مسلمانی کے دن یاد آنے لگے ،صوم وصلاة کی لذتیں یاد آنے لگیں ،چنانچہ ترک اسلام اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے کی وجہ سے شرمند ہ ہوا اور یہ اشعار کہے:
تنصرت الاشراف من عار لطمة وما کان فيها لو صبرت لها ضرر تکتفنی منها لجاج ونخوة وبعت لها العين الصحيحة بالعور
فياليت أمي لم تلدني وليتنی رجعت الي القول الذی قاله عمر فياليت ارعی المخاض بقفرة وکنت أسيرا في ربيعة أو مضر
ويا ليتنی لی بالشام ادنی معيشة أجالس قومی ذاهب السمع والبصر
"شرفا نے ایک طمانچے کی عار کے باعث نصرانیت قبول کرلی،حالانکہ اگر وہ صبر کرتے تو انہیں کوئی ضرر نہیں پہنچتا۔غرور ونخوت نے مجھے قبول حق سے روک دیا اور میں نے صحیح آنکھ کو اندھی آنکھ کے بدلے بیچ دیا۔کاش!میر ی ماں مجھے نہ جنتی اور کاش!میں حضرت عمر کی بات مان لیتا۔کاش!(وہی دن ہی رہتے کہ)چٹیل میدانوں میں اونٹنیاں چرایا کرتا اور ربیعہ ومضر کے درمیان چلا پھرا کرتا۔کاش!شام میں میرے لیے تھوڑی سن معیشت ہوتی اور میں کانوں سے بہرہ اور آنکھوں سے اندھا ہوکر اپنی قوم میں بیٹھارہتا۔"(الأنساب للصحاری :۱/۱۷۷)
چنانچہ عیسائیت ہی کی حالت میں یہ بدبخت فوت ہوگیا اور تکبر ونخوت نے اسے مرتے دم تک کفر اور شرک ہی پر رکھا۔(اعاذنا اللّٰہ منہ)
اجداد کی پیروی:
اباء واجداد کی پیروی اور تقلید بھی راہ حق پر چلنے سے مانع ہوتی ہے ۔آدمی کو حق کو پہچاننا چاہیے اور اسے قبول کرنا چاہیے خواہ اس کے والدین اور عزیز واقارب اس کے مخالف ہی کیوں نہ ہوں۔لیکن بہت کم لوگ اس کٹھن راہ کو اختیار کرتے ہیں اور اکثر لوگ حق پر والدین کے رسوم ورواج کو ترجیح دیتے ہیں،سابقہ اقوام کے حق سے انحراف کی قران مجید نے ایک وجہ یہی بیان کی ہے:وَاِذَا قِيْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَا اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مُااَلْفَيْنَاعَلَيْهِ أبَآءَ نَا أوَلَوْکَانَ أبَاوُٴهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ شَيْئًا وَلاَ يَهْتَدُوْنَ﴾(البقرة:۱۷۰)
"اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب کی پیروی کروتو جواب دیتے ہیں کہ ہم اس طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا گو ان کے باپ دادے بے عقل اور راہ گم کردہ ہوں"
صحیح بخاری میں حضرت سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ ان کے دادا'حزن'نبی کریم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان سے پوچھا :تمہارا نام کیا ہے ؟انہوں نے کہا:میرا نام حزن ہے۔آپﷺ نے فرمایا:تم سہل ہو ،یعنی تمہارا نام حزن کی بجائے سہل ہے۔میرے دادا کہنے لگے: میں تو اپنے والد کا رکھا ہوانام نہیں بدلوں گا۔حضرت سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد سے اب تک ہمارے خاندان میں سختی اور مصیبت ہی رہی۔(صحیح البخاری:۶۱۹۰)
آج بھی بہت سے لوگ حق سے آشنا ہونے کے باوجود صرف اس وجہ سے حق کا انکار کریتے ہیں کہ وہ والدین کے طور اطوار یا رسوم ورواج کے خلاف ہوتا ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنے سے ان کی ناک کٹ جائے گی اور ان کی توہین وتذلیل ہوگی،جبکہ یہ شیطانی وسوسہ ہوتاہے۔قبو ل حق سے نہ صرف آدمی کی شخصیت نکھرتی اور مستحکم ہوتی بلکہ عنداللہ وہ ماجور بھی ہوتا ہے۔
سلطنت واقتدار کا استحکام:
کچھ لوگ اس خوف سے حق قبول نہیں کرتے کہ اگر انہوں نے حق قبو ل کرلیا تو ان کی سلطنت اور اقتدار جاتا رہے گا۔لوگ ان کے خلاف بغاوت کردیں گے،چنانچہ وہ اپنے جھوٹے اقتدار کو بچانے یا اسے طول دینے کے لیےقبول حق سےانکار کردیتے ہیں۔نبی کریم ﷺ نے ۶ھ میں جب مختلف ممالک کے سربراہان کو دعوت اسلام سے متعلق خطوط لکھے تو ان میں ایک خط روم کے بادشاہ ہرقل کے نام بھی لکھا۔ہرقل ان دنوں ایران کو شکست دینے کے بعد شکرانے کے طور پر مقامات مقدسہ کی زیارت کے لیے شام آیا ہوا تھاآپ نے اپنا خط عظیم بصری کے نام لکھا اور اسے تلقین کی کہ وہ یہ خط ہرقل تک پہنچا دے ہرقل کے پاس خط پہنچا تو اس نے حکم دیا کہ کسی ایسے فرد کو تلاش کیا جائے جو اس نبی کے علاقے سے تعلق رکھتا ہو ،اس کے کارندے ابو سفیان کو پکڑ کر لے گئے ۔ہرقل اور ابو سفیان کا چند باتوں پر مکالمہ ہوا اس کے بعد ہرقل نے ایک بند کمرے میں اپنے وزراء اور اراکین حکومت کو اکٹھا کیا اور ان سے کہا:
"يا معشر الروم !هل لکم فی الفلاح والرشد وان يثبت ملککم فتبايعوا لهذا النبی" "اہل روم!اگر تم فلاح وہدایت کے متمنی ہواور چاہتے ہو کہ تمہاری سلطنت قائم رہے تو اس نبی کی اتباع کرلو۔" وزراء نے یہ بات سنی تو وہ وحشی گدھوں کی طرح بدکتے ہوئے دروازوں کی طرف بھاگے،لیکن دروازے بند تھے۔ہرقل نے جب یہ منظر دیکھا اور ان کی ایمان سے نفرت اور ناامیدی کو ملاحظہ کیا تو فورا رخ بدل لیا اور کہنے لگا:
"ردوهم علی،وقال:انی قلت مقالتی انفا اختبربها شدتکم علی دينکم،فقد رأيت " "واپس آجاوٴ!میں نے تو یہ بات اس لیے کہی تھی تاکہ دیکھوں کہ تم اپنے دین پر کس قدر سخت اور مضبوط ہو اور وہ میں نے دیکھ لیاہے۔" "فسجدوا له ورضوا عنه""لوگ اس سے راضی ہوگئے اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے۔"(صحیح البخاری:۷)
چنانچہ اس بدبخت نے اپنی سلطنت کے بقاء کے لیے اعلان حق سے انکار کردیا۔دور حاضر میں بھی ایسے مظاہر عام دیکھنے میں آتے ہیں کہ لوگ اپنی چودھراہٹ،کرسی،اقتدار اور سلطنت کے حصول کے لیے حق کی ممانعت کرتے ہیں آج مسلم ممالک کے حکمران امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو اسلام اور مسلمانوں کا دشمن سمجھتے ہیں اور مختلف بیانات سے اس امر کا اظہار بھی کرچکے ہیں ،لیکن چونکہ وہ اپنے اقتدار کا استحکام اور بقاء امریکی خوشنودی میں خیال کرتے ہیں،اس لیے بلاتامل اس کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتے ہیں اور اس "راہ وفا" میں ہزاروں مسلمانوں کے قتل کی بھی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔
عار وملامت کا خوف:
بعض لوگ حق سے اچھی طرح شناسا اور آگاہ ہوتے ہیں،لیکن ایک عجیب قسم کا عفریت انہیں قبول حق سے باز رکھتا ہے ،وہ ہے عار وملامت کاخوف۔وہ لو گ ڈرتے ہیں کہ اگر ہم نے اس کو تسلیم کر لیا تو لوگ کیاکہیں گے۔اگر میں نے داڑھی رکھ لی تو لوگ مولوی کہیں گے۔شلوار ٹخنوں سے اوپر رکھی تو لوگ بدتہذیب کہیں گے۔شادی بیاہ کے موقع پر ہندوانہ رسوم ادانہ کیں تو معاشرے میں ناک نہیں رہے گی،چنانچہ غلط کاموں کو غلط سمجھتے ہوئے بھی ان کا ارتکاب کرتے ہیں ۔محض عار اور ملامت کے خوف سے ۔یہی حال نبی کریمﷺکے چچا ابو طالب کا تھا ۔جب اس کا آخری وقت آیا تو رسو ل اللہﷺنے اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔آپﷺ نے کہا:
((قل:لااله الا الله کلمة اشهد لک بها يوم القيامة)) "چچا جان !کلمہ لا الہ الا اللہ کا اقرار کرلیں میں قیامت کے دن آپ کی گواہی دوں گا۔"
ابو طالب کہنے لگا: "لولا ان تعيرنی قريش يقولون :انما حمله علی ذلک الجزع الأ قررت بها عينک" "اگر مجھے قریش کی عار کا خوف نہ ہوتا تو میں (اسلام قبو ل کر کے)آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کردیتا۔"
چنانچہ ابو طالب قریش کی عار کے خوف سے قبو ل اسلام منکر رہا اور کفر ہی کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا۔
تقلید آئمہ:
تقلید آئمہ کامطلب ہی حق سے انحراف ہے ۔جولوگ قران وحدیث سے روگردانی کرکے کسی امام کی تقلید اختیار کرتے ہیں،وہ حق سے منہ موڑنے والے اور حق پر باطل کو ترجیح دینے والے بن جاتے ہیں،کیونکہ مقلد کے لیے استناد اور برہان اس کے امام کا قول ہوتا ہے:اما المقلد فمستندہ قول مجتہدہ۔اس لیے جو بات اس سانچے میں ڈھلتی نظر نہ آئے،مقلد بڑی بے باکی سے اس کاانکار کردیتا ہے،خواہ وہ ارشاد الہٰی یا فرمان نبویﷺ ہی کیوں نہ ہو۔اس کی کئی ایک مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں لیکن میں ان سب کوصرف نظر کرتے ہوئے صرف ایک مثال ذکر کرتا ہوں۔شیخ الہند مولانا محمود حسن تقریر ترمذی میں حدیث البیعان بالخیار پر بحث کرتے ہوئے،اس بارے میں امام شافعی اور امام ابوحنیفہ  کے دلائل کا تقابل کرتے ہیں اور آخر میں نتیجہ یوں بیان کرتے ہیں:
"الحق والانصاف ان الترجيح للشافعی فی هذه المسئلة ونحن مقلدون يجب علينا تقليد امامنا ابی حنيفه"(تقری ترمذي:۴۹)
"حق اور انصاف یہ ہے کہ اس مسئلے میں ترجیح امام شافعی کو حاصل ہے، لیکن چونکہ ہم مقلد ہیں اس لیے ہم پر اپنے امام اب حنیفہ کی تقلید واجب ہے"
ملاحظہ ہو کہ دلائل کی رو سے جان بھی لیا کہ حق اور ناحق کیا ہے،لیکن چونکہ امام کی تقلید اختیار کرچکے ہیں اس لیے انہیں حق کو جھٹلانے میں کوئی باک نہیں ہے
ضد اور ہٹ دھرمی:
کچھ لوگ حق کو پالیتے ہیں اور دلائل و براہین کے ذریعے سے ان پر حق واضح ہوجاتاہے لیکن وہ محض اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کے باعث قبو ل حق سے روگردانی کرتے ہیں اور کفر ہی پر مصر رہتے ہیں نمرود خو کو اس کائنات کا خالق والہ تصور کرتا تھا،چنانچہ حضرت ابراہیم ؑاس سے بات چیت کے لیے گئے آپؑ نے فرمایا:تم میرے معبود نہیں ہو
میرا معبود تو وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتابھی ہے نمرود کہنے لگا:میں بھی زند ہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں حضرت ابراہیم ؑفرمانے لگے:میرا رب سورج کو مشرق سے طلو ع کرتاہے تو اس کو مغر ب سے طلوع کر کے دکھااس بدبخت سے اس کا کوئی ٹوٹاپھوٹا جواب بھی نہ بن سکا اور بے زبان ہو کر اپنی عاجزی کا معترف ہوگیا اور اللہ کی حجت اس پر پوری ہوگئی لیکن ضدی اور ہٹ دھرم تھا اس لیے قبو ل حق سے محروم رہاایسے بدوضع لوگوں کو اللہ تعالیٰ کوئی دلیل نہیں سمجھا اور وہ حق کے مقابلے میں بغلیں جھانکتے ہی نظر آتے ہیں (تفسیر ابن کثیر،تحت سورةالبقرة:۲۵۸)
دنیاوی مال ومتاع کی طمع ولالچ:
بعض اوقات انسان حق کو پالیتا ہے،قبول حق کے لیے خود کو تیار بھی کرلیتا ہے اور اس کے لیے تگ ودو بھی شروع کردیتا ہے ۔ادھر شیطان بھی اس کے تعاقب میں لگ جاتا ہے اور اسے حق سے دور کرنے کے لیے طرح طرح کے وساوس اس کے ذہن میں ڈالتا ہے ،دنیوی اشیاء اور مال ومتاع کی چکا چوند سے اسے مرعوب کرنے کو کوشش کرتا ہے۔کامل ایمان والے ان شیطانی ہتھکنڈوں سے متاثر نہیں ہوتے ،لیکن درہم ودینار کے بندے بہت جلد اس سے متاثر ہوتے ہیں اور حق کے بدلے ضلالت کو خرید لیتے ہیں۔مال ودولت میں اللہ تعالیٰ نے بڑی کشش رکھی ہے ۔یہ بہت سے لوگوں کے قلوب واذہان کے دھار ے کو تبدیل کردیتا ہے ۔اس لیے نبیﷺمال کے فتنے سے پناہ مانگا کرتے تھے، کیونکہ مال ودولت کی حرص کاحصول انسان کو حق گوئی سے روک دیتا ہے اور قبول حق کی راہ میں حجاب بن جاتا ہے یہی حال معروف عرب شاعر اعشیٰ بن قسی کا تھا شاعری میں یہ اپنی مثال آپ تھا اس کے دل میں قبول اسلام کا خیال پیدا ہوا ، چنانچہ یہ یمامہ کے علاقے نجد سے نکلا اور مدینہ کی راہ لی اس نے نبیﷺ سے ملاقات کرکے اسلام قبول کرنے کا مصمم ارادہ کرلیا ۔راستے میں یہ اپنی سواری پر سوار آقائے دوجہاںﷺکی مدح وستائش میں یہ اشعار پڑھ کر گنگناتا رہا:
ألم تغتمض عيناک ليلة أرمد ا وبت کما بات السليم مسهّدا ألا أيهذا السائلی اين يمت فان لها فی أهل يثرب موعدا
نبيا يری مالا ترون وذکره أغار لعمری فی ألبلاد وأنجدا أجدک لم تسمع وصاة محمد نبی الإ له حيث أوصی وأشهدا
إذاأنت لم ترحل بزاد من التقی ولا قَيتَ بعد الموت مَنْ قد تزودا ندمت علی أن لا تکون کمثله فترصد للأمر الذی کا ن أرصد
"کیا تیری آنکھیں خراب ہونے کی وجہ سے نیند سے دور نہیں رہیں اور تو نے ایسے رات گزاری ہے جیسے سانپ کا ڈسا ہوا بے خواب شخص رات گزارتا ہے ۔اے میری سواری کے بارے میں پوچھنے والے! کہ اس نے کہاں کا رادہ کیا ہے؟اسے چھوڑدو، کیونکہ اس کے وعدے کی جگہ یثرب ہے ۔وہاں ایسا نبی ہے جو ان چیزوں کودیکھتا ہے جنہیں تم نہیں دیکھتے ۔میری عمر کی قسم!اس کے ذکر کا شہرشہر چرچا ہے اور خوب بلند ہے ۔میں تجھے دیکھتاہوں کہ تم محمد(ﷺ)کی وصیت پر کان نہیں دھرتے ہو،حالانکہ وہ اللہ کا نبی ہے ،اللہ نے اس کو ماننے کی وصیت کی ہے اور اس پر گواہی دی ہے۔اگر تو تقوی کوزادراہ نہیں بنائے گا تو (یادرکھنا)موت کے بعد ہر شخص کو وہی ملے گا جو اس نے زاد راہ لیا ہوگا۔تم اس جیسے کیوں نہیں ہو،نادم نہ ہو بلکہ اس کے حکم کے تابع ہوجاوٴ جسے وہ(محمدﷺ)لے کر آیا ہے۔"
جب یہ مدینے کے قریب پہنچا تو کچھ مشرکین کو اس کی خبر ہوگئی۔وہ اس سے ملے اور پوچھنے لگے کہ کہاں جارہے ہو؟اعشیٰ کہنے لگا:رسول اللہﷺسے مل کر اسلام (حق)قبول کرنا چاہتا ہوں۔مشرکین بڑے پریشان ہوئے۔وہ تو حضرت حسان بن ثابت کی شاعری کا جواب دینے سے عاجز تھے۔اب اگر اعشیٰ جیسا قادر الکلام شاعر بھی حلقہ بگوش اسلام ہوگیا تو جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہوگااور قوت اسلام کو روکنا ان کے بس میں نہیں ہوگا،چنانچہ وہ اعشیٰ سے کہنے لگے:اعشیٰ تمہارے اباوٴ اجداد کا دین اس کے دین سے کہیں بہتر ہے ۔اعشیٰ کہنے لگا:نہیں،اس کا دین ان کے دین سے بہتر ہے۔مشرکین ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور مشورہ کرنے لگے کہ اس کو قبو ل اسلام سے کیسے روکا جائے ۔اب وہ کہنے لگا:اعشیٰ!محمدﷺ تو زنا کوحرام قراردیتا ہے؟وہ کہنے لگا :کوئی بات نہیں میں بوڑھا ہوچکا ہوں ،اب مجھے عورتوں سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔مشرکین کہنے لگے:و ہ شراب کو بھی حرام قرار دیتا ہے ۔اعشیٰ کہنے لگا:مجھے شراب سے بھی کوئی غرض نہیں ،شراب عقل انسانی کو ختم کر دیتی ہے اور انسان کو ذلیل ورسوا کردیتی ہے۔جب مشرکین نے دیکھا کہ اعشیٰ قبول اسلام کا مصمم ارادہ کرچکا ہے تو انہوں نے اسے دنیاوی مال ومتاع کی لالچ سے زیر کرنا چاہا،چنانچہ وہ کہنے لگے:اعشیٰ!اگر تم اسلام قبول کیے بغیر واپس اپنے گھرجاوٴ گے تو ہم تمہیں سواونٹ دیں گے۔اس پیشکش نے اس کس عقل پر پردہ ڈال دیا اور وہ غور وفکر کرنے لگا اور کچھ دیر کے بعد بولا :اگر تم مجھے اس قدر مال دو تو میں تمہاری بات مان سکتا ہوں۔
مشرکین نے اسے سو اونٹ دے دیے اور اس نے قبو ل اسلام کا اردہ ترک کردیا او رواپس اپنے اہل وعیال کی طرف رواں دواں ہوگیا۔اپنے آگے چلتے سو(۱۰۰)اونٹ دیکھ کر وہ دل ہی دل میں بڑاخو ش ہورہا تھا اور تقدیر الہٰی اس کی گھات میں تھی،چنانچہ وہ اپنے وطن سے کچھ میل کے فاصلے پر تھا کہ اونٹ سے گر پڑا اور اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہیں جہنم واصل ہوگیا۔(سیرت ابن ہشام:۱/۳۸۶۔۳۸۸)اور اس طرح دنیاوی ومال واسباب کو حق پر ترجیح دینے والا ہمیشہ کے لیے دنیا چھوڑگیا۔
عدم خوداعتمادی:
بعض اوقات انسان عجیب مخمصے کا شکار ہوجاتا ہے،اسے صاف نظر آرہا ہوتاہے کہ حق کیا ہے ،وہ لوگوں کو اسے تسلیم کرنے کی ترغیب وتاکید بھی کرتا ہے ،مشکل اوقات میں حق کا ساتھ بھی دیتا ہے ،بلکہ اس کی خاطر سردھڑ کی بازی بھی لگا دیتا ہے، لیکن عدم خوداعتمادی کی وجہ سے بزبان خود اس کا اظہار نہیں کرتا اور حق کی خاطر اس قدر قربانی دینے کے باوجود مخالفین ومعاندین میں شمار ہوتا ہے ۔یہی حال مخیریق یہودی کا تھا۔مخیریق یہودی عالم اور نہایت مالدار شخص تھا۔اپنی کتابوں کی رو سے رسو ل اللہ ﷺکی صفات سے خوب واقف تھا۔جب احد کی جنگ کا موقع آیا تو وہ ہفتہ کا دن تھا۔مخیریق نے یہودیوں سے کہا :یا معشر یہود!انکم لتعلمون ان نصر محمد علیکم لحق ۔"اے گروہ یہود!تم جانتے ہو کہ محمدﷺ کی مدد کرنا تم پر فرض ہے ۔"
یہودی کہنے لگے !آج تو ہفتہ کا دن ہے ۔مخیریق نے کہا :ہفتہ سے تمہارا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔یہودیوں نے اس کی بات کو نہ مانا تو اس نے اپنا ہتھیار لیا اور رسو ل اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہوا۔رسول اللہﷺاس وقت احد میں تشریف فرما تھے ۔جب مخیریق اپنی قوم سے جانے لگا تو انہیں یوں وصیت کی:"ان قتلت هذا اليوم۔فاموالی لمحمد يضع فيها ما اراده الله""اگر آج میں قتل کردیا جاوٴ ں تو میرا سارا مال محمدﷺکو دے دینا ،وہ جیسے چاہیں،اس میں تصرف کریں۔"چنانچہ مخیریق میدان احد میں داد شجاعت دیتے ہوئے قتل ہوگیا۔رسول اللہﷺنے اس کا سارا مال اپنے تصرف میں لے لیا اور مدینے میں آپ کے تمام اخراجات اسی سے ادا ہوتے تھے۔رسول اللہ ﷺفرمایا کرتے تھے:"مخيريق خير يهود"'مخیریق بہترین یہودی تھا۔"(سیرة ابن ہشام:۲/۵۱۸)
دیکھیے !مخیریق جان ومال سب کچھ اسلام کی خاطر قربان کرگیالیکن زبان سے اعلان حق نہ کرنے کی وجہ سے حلقہٴ یہود سے نہ نکل سکا۔
احساس کمتری کا شکارہونا:
احساس کمتری کا شکار ہونا بھی انحراف کی وجوہ میں داخل ہے ۔دور حاضر میں جہاں مغربی ثقافتی یلغار نے سختی سے امتِ مسلمہ میں اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں،جس سے بہت سے کمزور ایمان والے متاثر ہوئے،ان میں سے اکثریت نوجوانوں کی ہے۔بہت سے نوجوان اس وجہ سے اسلامی شعائر سے روگردانی کرتے ہیں کہ لوگ بالخصوص مغرب زدہ،اس کو اچھا نہیں جانتے۔داڑھی رکھ لی تو لوگ مولوی کہیں گے،شلوار ٹخنوں سے اوپر ہوئی تو لوگ قدامت پسند کہیں گے۔بال سنت کے مطابق بڑے کر لیے تو لوگ دہشت گرد کہیں گے،وغیرہ۔چنانچہ احساس کمتری کا شکار ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ صحیح بات کو اپنانے سے اعراض کرتے ہیں۔
یہ وجوہات ہیں جو عام طور پر قبول حق کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ہر شخص کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیے اور جائزہ لینا چاہیے کہ کہیں وہ ان میں سے کسی وجہ کامرتکب ہو کر حق کامنکر تونہیں ہورہا۔سچے مسلمانوں کا شیوہ ہوتا ہے کہ جب اسے اچھی بات سنائی دیتی ہے تو وہ فوراً اس کو قبول کرلیتاہے ۔اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی یوں تعریف فرمائی ہے:
﴿الذين يستمعون القول فيتبعون أحسنه۔أولئک الذين هداهم الله وأولئک هم أولوالألباب﴾(الزمر:۱۸)
"وہ لوگ جو کان لگا کر بات سنتے ہیں پھر اس میں سب سے اچھی بات کی پیروی کرتے ہیں،یہی لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت د ی اور یہی عقلوں والے ہیں۔"
اللهم ارنا الحق حقه وارزقنا اتباعه وارنا الباطل باطله وارزقنا اجتنابه۔

No comments:

Post a comment