visitors

free counters

Sunday, 19 June 2011

اعراض کی پالیسی اور مولانا وحید الدین خاں

ہمارے حالات اور صلح حدیبیہ کا سبق
مولانا وحیدالدین خان۔۔ سنہ 6ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ عمرہ کررہے ہیں۔ صحابہ کو آپ نے خواب بتایا تو وہ بہت خوش ہوئے کہ چھ سال کے بعد اب مکہ جانے اور حرم کی زیارت کرنے کا موقع ملے گا۔ اس خواب کے مطابق رسول اللہ صلى الله عليه وسلم مکہ کے لئے روانہ ہوئے۔ چودہ سو اصحاب بھی آپ کے ساتھ ہوگئے۔ غدیر اشطاط کے مقام پر پہنچ کر معلوم ہوا کہ قریش آپ کے سفر کی خبر پاکر سرگرم ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ایک لشکر جمع کیا ہے اور عہد کیا ہے کہ آپ کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیں گے۔
کعبہ کی زیارت سے کسی کو روکنا عرب روایات کے بالکل خلاف تھا۔ مزید یہ کہ آپ اشارہ خداوندی کے تحت یہ سفر کررہے تھے۔ مگر اس کے با وجود آپ اس خبر کو سن کر مشتعل نہیں ہوئے۔ آپ کے جاسوس نے بتایا کہ خالد بن ولید دو سو سواروں کو لے کر مقام غمیم تک پہنچ گئے ہیں تا کہ آپ کا راستہ روکیں۔ یہ خبر سن کر آپ نے یہ کیا کہ معروف راستہ کو چھوڑ دیا اور ایک غیر معروف اور دشوار گزر راستہ سے چل کر حدیبیہ تک پہنچ گئے تا کہ خالد سے ٹکراؤ کی نوبت نہ آئے۔ اس واقعہ کو ابن ہشام نے جن الفاظ میں نقل کیا ہے وہ یہ ہیں:
قال من رجل یخرج بنا علی طریق غیر طریقھم التی ھم بھا۔ قال رجل انا یا رسول اللہ۔ قال مسلک بھم طریقا دعراً اجرل بین شعاب فلما خرجوا منہ وقد شق ذلک علی المسلمین وافضوا الی ارض سھلۃ عند منقطع الوادی قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم للناس قولوا نستغفر اللہ ونتوب الیہ فقالوا ذلک۔ فقال واللہ انھا للحطۃ التی عْرضت علی بنی اسرائیل فلم یقولوھا۔ (جزء3 صفحہ357)۔ ترجمہ: "رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے کہا کون شخص ہے جو ہم کو ایسے راستہ سے لے جائے جو ان کے راستہ سے مختلف ہو۔ ایک شخص نے کہا کہ میں اے اللہ کے رسول۔ چنانچہ وہ لوگوں کو لے کر ایسے راستہ پر چلا جو سخت دشوار اور پتھریلا تھا اور پہاڑی راستوں سے گزرتا تھا۔ جب لوگ اس راستہ کو طے کرچکے اور مسلمانوں کو اس پر چلنا بہت شاق گزراتھا اور وہ وادی کے ختم پر ایک ہموار زمین میں پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کہا کہ کہو ہم اللہ سے مغفرت مانگتے ہیں اور اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ لوگوں نے اسی طرح کہا۔ آپ نے فرمایا: خدا کی قسم یہی حطّہ ہے جو بنی اسرائیل کو پیش کیا گیا تھا۔ مگر انہوں نے نہیں کہا۔"
حطہ کا مطلب توبہ اور بخشش ہے۔ اس صبر آزما موقع پر توبہ واستغفار کرانا ظاہر کرتا ہے کہ خدا کے بتائے ہوئے صابرانہ طریق کار کا آدمی کو اس قدر زیادہ پابند ہونا چاہئے کہ اس راہ پر چلتے ہوئے جو کمزور یا جھنجھلاہٹ پیدا ہو اس کو بھی آدمی گناہ سمجھے اور اس کے لیے خدا سے معافی مانگے۔ اس کو خدا کے طریقہ پر راضی رہنا چاہئے نہ کہ وہ اپنے جذبات سے مغلوب ہوکر خود ساختہ طریقے نکالنے لگے۔
حدیبیہ کامقام مکہ سے 9 میل کے فاصلے پر ہے۔ یہاں آپ ٹھر گئے تا کہ حالات کا جائزہ لے سکیں۔
حدیبیہ سے آپ نے خراش بن امیہ خزاعی کو ایک اونٹ پر سوار کرکے اہل مکہ کے پاس بھیجا کہ ان کو خبر کردیں کہ ہم صرف بیت اللہ کی زیارت کے لئے آئے ہیں، جنگ کے لئے نہیں آئے ہیں۔ جب وہ مکہ پہنچے تو اہل مکہ نے ان کے اونٹ کو ذبح کر ڈالا اور خود حضرت خراش کو بھی قتل کرنے کے لئے دوڑے۔ مگر وہ کسی طرح بچ کر واپس آگئے۔ پھر آپ نے حضرت عثمان کو یہ پیغام دے کر مکہ بھیجا کہ تم لوگ مزاحمت نہ کرو، ہم عمرہ کے مراسم ادا کرکے خاموشی سے واپس چلے جائیں گے۔ اہل مکہ نے حضرت عثمان کو بھی روک لیا۔ پھر مکرز بن حفص پچاس آدمیوں کولے کر رات کے وقت حدیبیہ پہنچا اور مسلمانوں کے پڑاؤ پر تیر اور پتھر برسانے لگا۔ مکرز کو گرفتار کرلیا گیا۔ مگر اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اس کو بلا شرط چھوڑ دیا گیا۔ اسی طرح مقام تنعیم کی طرف سے 80 آدمی صبح سویرے آئے اور عین نماز کے وقت مسلمانوں پر چھاپہ مارا۔ یہ لوگ بھی پکڑ لئے گئے۔ مگر آپ نے ان کو بھی غیر مشروط طور پر رہا کردیا۔
اس کے بعد قریش سے طویل مذاکرات کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان صلح ہوئی۔ مگر یہ صلح ظاہر بینوں کے لئے سراسر قریش کی فتح اور مسلمانوں کی شکست کے ہم معنی تھی۔ مسلمان یہ سمجھے ہوئے تھے کہ وہ بشارت الہی کے تحت عمرہ کرنے کے لئے مکہ جارہے ہیں مگر جو صلح ہوئی اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شرط پر راضی پوگئے کہ وہ عمرہ کئے بغیر حدیبیہ واپس چلے جائیں۔ اگلے سال وہ عمرہ کے لیے آئیں مگر صرف تین دن مکہ میں ٹھہریں اور اس کے بعد خاموشی سے واپس چلے جائیں۔ اس طرح کی ذلت آمیز دفعات مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لئے بالکل کافی تھیں۔ مگر آپ نے بظاہر شکست کے باوجود تمام دفعات کو منظور کرلیا۔
قریش نے اس موقع پر آپ کے ساتھ جو کچھ کیا آپ کو اشتعال دلانے کے لیے کیا۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ کسی طرح آپ کو مشتعل کرکے آپ کی طرف سے کوئی جارحانہ اقدام کرادیں تا کہ قریش کے لئے آپ سے لڑنے کا جواز نکل آئے۔ حرم کی زیارت سے روکنا یوں بھی عرب روایات کے خلاف تھا۔ مزید یہ کہ یہ ذوقعدہ کا مہینہ تھا جو عربوں میں حرام مہینہ شمار ہوتاتھا۔ اس میں جنگ ناجائز سمجھی جاتی تھی۔ اس لئے اہل مکہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کے اوپر جارحیت کی ذمہ داری ڈال کر ان سے جنگ کی جائے۔ مسلمان اس وقت کم تعداد میں تھے۔ ان کے پاس سامان جنگ نہیں تھا۔ وہ مرکز مدینہ سے ڈھائی سو میل دور اور دشمن کے مرکز (مکہ) کی عین سرحد پر تھے۔ قریش کے لئے بہترین موقع تھا کہ آپ کے اوپر بھر پور وار کر کے آپ کے خلاف اپنے دشمنانہ حوصلوں کو پورا کر سکیں۔ اسی لئے انھوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ کسی طرح آپ مشتعل ہوکر لڑ پڑیں۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر شرارت کو نظر انداز کرتے رہے اور کسی طرح اشتعال کی نوبت نہ آنے دی۔
یہ معاملہ اتنا سنگین تھا کہ حضرت ابوبکر کے سوا صحابہ کرام میں کوئی شخص نہ تھا جو یہ محسوس نہ کررہا ہو کہ ہم ظالم کے آگے جھک گئے ہیں اور اپنے کو توہین آمیز شرائط پر راضی کرلیا ہے۔ قرآن میں جب اس معاہدہ کے بارے میں آیت اتری کہ یہ فتح مبین ہے تو صحابہ نے کہا: کیا یہ فتح ہے۔ ایک مسلمان نے کہا: یہ کیسی فتح ہے کہ ہم بیت اللہ جانے سے روک دئے گئے۔ ہماری قربانی کے اونٹ آگے نہ جاسکے۔ خدا کے رسول کو حدیبیہ سے واپس آنا پڑا۔
ہمارے مظلوم بھائی (ابوجندل اور ابوبصیر) کو اس صلح کے تحت ظالموں کے حوالے کردیا گیا۔ وغیرہ۔ مگر اسی ذلّت آمیز صلح کے ذریعہ خدا نے فتح عظیم کا دروازہ کھول دیا۔
یہ معاہدہ بظاہر دشمن کے آگے جھک جانا تھا۔ مگر حقیقۃً وہ اپنے کو مضبوط اور مستحکم بنانے کا وقفہ حاصل کرنا تھا۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے قریش کے تمام مطالبات منظور کرکے ان سے صرف ایک یقین دہانی لے لی۔
یہ کہ قریش اور مسلمانوں کے درمیان دس سال تک کوئی لڑائی نہ ہوگی۔ اب تک یہ تھا کہ مسلسل حالت جنگ کی وجہ سے تبلیغ وتعمیر کا کام رکا ہوا تھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے حدیبیہ سے لوٹ کر فوراً دعوت وتبلیغ کا کام عرب اور اطراف عرب میں تیزی سے شروع کردیا۔ ابتدائی زمین پہلے تیار ہوچکی تھی۔ پر امن حالات نے جو موقع دیا اس میں دعوت کا کام تیزی سے پھیلنے لگا۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ اسلام قبول کرنے لگے ۔ عرب قبائل ایک کے بعد ایک اسلام میں داخل ہونے لگے۔ عرب کے باہر ملکوں میں اسلام کی دعوت پھیلائی جانے لگی۔ مشرکین کے ساتھ داخلی استحکام اور تیاری کا کام بہت بڑے پیمانہ پر ہونے لگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صلح کے صرف دو سال بعد اسلام اتنا طاقت ور ہوگیا کہ قریش نے لڑے بھڑے بغیر ہتیار ڈال دئے۔ جس مکہ سے توہین آمیز واپسی پر اپنے کو راضی کرلیا گیا تھا اسی مکہ میں اس واپسی سے فاتحانہ داخلہ کا راستہ نکل آیا۔
آج لوگوں کا حال یہ ہے کہ حریف کی طرف سے کوئی ناخوش گوار بات پیش آئے تو فوراً بپھر اٹھتے ہیں اور اس سے لڑجاتے ہیں۔ اور جب بے فائدہ لڑائی کے نقصانات بتائے جائیں تو کہتے ہیں کہ ہم خود سے نہیں لڑے۔ ہمارے خلاف سازش کرکے ہم کو جنگ میں الجھایا گیا۔ یہ لوگ نہیں جانتے کہ نہ لڑنا حقیقۃً اس کا نام نہیں ہے کہ کوئی لڑنے نہ آئے تو آپ نہ لڑیں۔ نہ لڑنا یہ ہے کو لوگ لڑنے آئیں پھر بھی آپ ان سے نہ لڑیں۔ لوگ آپ کو اشتعال دلائیں مگر آپ مشتعل نہ ہوں۔ لوگ آپ کے خلاف سازشیں کریں مگر اپنی خاموش تدبیروں سے آپ ان کی سازش کو نا کام بنادیں۔ لوگ آپ کے خلاف اپنے دلوں میں دشمنی لئے ہوئے ہوں تب بھی آپ ان کی دشمنی کو عمل میں آنے نہ دیں۔
زندگی کا اصل راز حریف سے لڑنا نہیں ہے۔ زندگی کا راز یہ ہے کہ لڑائی سے بچ کر اپنے آپ کو اتنا طاقت ور بنایا جائے کہ لڑائی کے بغیر محض دبدبہ سے ہتھیار ڈال دے۔ جو لوگ مشتعل ہوکر لڑنا جائیں اور خاموش ہوکر تیاری کرنا نہ جائیں ان کے لئے یہاں صرف بربادی کا انجام ہے۔ ناممکن ہے کہ خدا کی دنیا میں وہ کامیاب ہوسکیں۔
کیسی عجیب بات ہے، جو کامیابی پیغمبر صلى الله عليه وسلم نے نہ ٹکراتے کی پالیسی اختیار کرکے حاصل کی اس کو ہم ٹکرانے کا طریقہ اختیار کرکے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ پھر بھی ہمارا یقین ہے کہ ہم رسول خدا کے امتی ہیں اور آپ ضرور خدا کے یہاں ہماری شفاعت فرمائیں گے۔
ماخوذ: پیغمبر انقلاب از مولانا وحیدالدین خان

No comments:

Post a comment