visitors

free counters

Tuesday, 9 October 2012

’’بنگسا مورو‘‘

دنیا میں ’’بنگسا مورو‘‘کے نام سے نئے اسلامی ملک کا اضافہ
بین الاقوامی خبریں | October 8, 2012

منیلا(ثناء نیوز )اسلامی دنیا میں ایک نئے ملک کا ا ضافہ ہوگیا ہے ۔ بنگسا مورو (Bangsamoro) نام کے نئے اسلامی ملک ملائشیا اور فلپائن کے درمیان بنایا جائے گا نئے اسلامی ملک کے قیام کے معائدے پر15 اکتوبر کو دستخط کیے جائیں گئے ۔اس سلسلے میں۔فلپائن حکومت نے ملک کے سب سے بڑے باغی مسلمان گروپ کے ساتھ امن معاہدے کا فریم ورک طے کر لیا ہے۔اِس بات کا اعلان فلپائن کے صدر بینگنو اکوانو نے کیا ہے۔اس امن معاہدہ کے لیے مورو اسلامک لبریشن فرنٹ (ایم آئی ایل ایف) کے ساتھ بات چیت کا ایک طویل دور چلا تا کہ چالیس سال سے جاری تصادم ختم کیا جا سکے جس میں ایک تخمینے کے مطابق ایک لاکھ بیس ہزار جانیں جا چکی ہیں۔اس معاہدہ کے تحت جنوب میں ایک خود مختار علاقہ بنایا جائے گا جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ حالانکہ یہ مجموعی طور پر کیتھولک ملک ہے۔یہ معاہدہ پڑوسی ملک ملائشیا میں فریقین کے درمیان بات چیت کے بعد طے پایا ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ فلپائن کے دارالحکومت میں پندرہ اکتوبر کو باضابطہ طور اس معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے۔خبروں میں کہا گیا ہے کہ مورو اسلامک لبریشن فرنٹ کے ایک ترجمان نے اس معاہدے پر بے حد خوشی کا اظہار کیا ہے۔ایم آئی ایل ایف کے سیاسی امور کے نائب صدر غزالی جعفر نے کہا کہ ہم لوگ کافی خوش ہیں اور ہم اس کے لیے صدر کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔صدر اکوانو نے ملک کے جنوبی علاقے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ فریم ورک معاہدہ مندانا میں حتمی اور پائدار امن کا راستہ ہموار کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ ابھی بھی فریقین میں بہت سی تفصیلات پر اتفاق ہونا ہے۔اس فریم ورک معاہدے کی ایک کاپی میں کہا گیا ہے کہ جامع معاہدہ اس سال کے آخیر تک ہو جائے گا۔نامہ نگاروں کا کہنا ہے یہ معاہدہ قیام امن کے سلسلے میں ایک اہم قدم ہے حالانکہ ایم آئی ایل ایف کے ساتھ گزشتہ پندرہ برسوں میں امن کی تمام کوششیں ناکام اور تشدد کا شکار رہی ہیں۔یہ امید بھی ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس معاہدے پر دو ہزار سولہ میں صدر اکوانو کے عہدہ صدارت کے اختتام تک عملی جامہ پہنایا جائے گا۔صدر اکوانو نے کہا ہے کہ اس خودمختار علاقے کا نام وہاں کے مورو باشندوں کے نام پر ‘بنگسامورو’ رکھا جائے گا۔صدر نے کہا کہ یہ معاہدہ تمام تعصبات سے بالا تر ہو کر کیا گیا ہے اور بے یقینی اور کم نظری کو خارج کیا گیا ہے جس نے گزشتہ تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا تھا۔’اتوار کو ہونے والے اس معاہدے سے ایک عبوری کمیشن کا قیام عمل میں آیا ہے جو اس فریم ورک معاہدے کے ضوابط طے کرے گا۔فلپائنی حکومت اور مسلم علیحدگی پسندوں کے مرکزی گروپ کے مابین ملائشیا کی میزبانی میں جاری مذاکرات میں کامیابی کے اشارے سامنے آئے ہیں۔ فلپائن کے صدر اکینو کے مطابق ممکنہ معاہدے کی ابتدائی شکل پر اتفاق رائے پیدا ہو گیا ہے۔ منیلا سے جاری ہونے والے ایک حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت اور مسلمان علیحدگی پسندوں کے بڑے گروپ مورو اسلامک فرنٹ کے درمیان جاری بات چیت کے دوران حتمی امن معاہدے کی ابتدائی صورت پر اتفاق رائے پیدا ہو گیا ہے۔ ابتدائی معاہدے کے مطابق فریقین رواں برس کے اختتام پر سمجھوتے کی حتمی دستاویز پر دستخط کر دیں گے۔ ابتدائی معاہدے پر فریقین اپنی رضامندی کے اظہار کے طور پر دستخط پندرہ اکتوبر کو کر رہے ہیں۔ اس تقریب میں میزبان ملائشیا کے وزیراعظم نجیب رزاق اور فلپائن کے صدر بینِیگنو اکینو بھی شریک ہوں گے۔اس معاہدے کے تحت ایک نئے خود مختار علاے کے قیام کے روڈ میپ پر عمل کیا جائے گا اور حتمی معاہدے کے بعد اس خود مختار علاقے کو ایک نئے سیاسی نام کے ساتھ مزید اختیارات سن 2016 میں دے دیے جائیں گے۔ یہ خود مختار علاقہ صدر اکینو کی مدت صدارت سے قبل قائم کر دیا جائیگا۔ اکینو کی مدت صدارت سن 2016 کے اختتام پر پوری ہونے سے قبل الیکشن بھی شیڈیول ہیں۔فلپائن کے اگلے عام انتخابات سے قبل نئے خود مختار علاقے کے حوالے سے ایک استصواب رائے بھی تجویز کیا گیا ہے۔ نئے خود مختار علاقے کا نام بنگسا مورو (Bangsamoro) رکھا جائے گا۔ بنگسا مورو کا نام اس علاقے کے مقامی باشندوں کی مناسبت سے ہے۔ اکینو نے اس نام کی مناسبت سے کہا کہ یہ منڈانا میں جد و جہد کرنے والوں کے اعزاز میں رکھا گیا ہے۔ ایسے خدشات کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ مورو اسلامک فرنٹ سے انتہا پسند گروپ علیحدگی اختیار کر سکتا ہے، جس سے تشدد اور کشیدگی کی ایک نئی لہر ابھر آئے گی۔ اس ابتدائی معاہدے کے اعلان کے فوری بعد ایک دوسرے متحرک انتہا پسند گروپ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ اس علاقے میں اسلامی ریاست کے قیام تک تحریک جاری رکھے گا۔ یہ اعلان بنگسا مورو اسلامک فریڈم موومنٹ کی جانب سے کیا گیا ہے۔فلپائن کے علاقے جنوبی منڈانا کے جنوبی خطے میں تنازعہ گزشتہ چار دہائیوں سے جاری ہے۔ مسلمان علیحدگی پسندوں کے چالیس سالہ پرانے مسلح تنازعے میں اب تک ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔ فلپائن رومن کیتھولک مسیحی اکثریت آبادی کا حامل ملک ہے۔ جنوبی منڈانا کا سارا علاقہ معدنی دولت سے مالا مال تصور کیا جاتا ہے اور یہ فلپائن کی اقتصادی بحالی میں اہم کردار کر سکتا ہے۔
Tags: favourite
http://beta.jasarat.com/international/news/7140

No comments:

Post a Comment