visitors

free counters

Tuesday, 25 October 2011

نظام تعلیم پر استعماری اثرات اور احمد رضا خان


 

علم اور تعلیم کی اشاعت و فروغ میں مسلمانوں نے جو کردار انجام دیا اس کے معترف اغیار بھی ہیں،مسلمانوں نے قرآنی احکام کی بنیاد پر خدمتِ علم کی، چناں چہ جانسن (Johnson)لکھتا ہے: "یہی (قرآنی) پیغام ایک تعمیری قوت کے طور پر وجود میں آیا، اور عیسائی دنیا میں بہ طور نور (علم) پھیل گیا اور جہالت کی ظلمت کو دور کر گیا۔"
(تبرکات عالمی مبلغ اسلام، ص۳۹۴)

قرآن مقدس نے جہاں انسان کو معبود حقیقی سے قریب کیا وہیں علم سے بھی رشتہ استوار کیا، اس کا یہ اعجاز ہے کہ ہر دور میں اس کی رہ نمائی نے انسانیت کی زلفِ برہم کو سنوارا، اس کے قوانین کی روشنی میں مسلمان علما نے علومِ جدیدہ کی بنیاد ڈالی، ایمانل ڈوش (Emmanuel Deutsch ) کے الفاظ میں: "قرآن مجید میں سائنسی مطالعہ پر زور مذاہب عالم میں بالکل منفرد ہے۔".... مسلسل سازشوں کے نتیجے میں ایک دور وہ آیا کہ مسلمانوں کا علم سے متعلق مزاج بدل گیا، وہ احساس کم تری کا شکار ہو گئے، ہندوستان میں جب کہ مغلوں کا سورج غروب ہوا اور انگریز غالب آئے تو انگریزوں نے مدارس کو بھی مفلوک الحال کر چھوڑا۔ نتیجے میں مدارسِ اسلامیہ زوال سے دوچار ہو گئے۔ اس تنزلی نے فکری سطح کو بھی مجروح کیا، اور پھر سازشوں کے بطن سے علم کا جو تصور اُبھرا اس نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔ ڈاکٹر محمد یوسف کے بہ قول:"مغربی استعمار نے بھی اولین مرحلے میں مسلمانوں کی فکری و نظری اساس پر حملہ کیا۔ اور اس کے لیے انھوں نے مسلمانوں کے نظام تعلیم کے اندر تشکیک و الحاد، اپنے مخصوص نظریہ اباحیت و عریانیت اور تجدد پسندی کے اثرات پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ نصوصِ قرآن و سنت میں من مانی تاویلیں کرنے کی سوچ کی سرپرستی کرتے ہوئے اسے پروان چڑھایا۔" (ضیاے حرم لاہورفروری۱۰۰۲ئ، ص۴۳)

تجدد پسندی کے اثرات سے ابوالکلام آزاد جیسے لیڈر بھی خود کو محفوظ نہ رکھ سکے، اور اسلامی نظام تعلیم جسے انھوں نے اپنے طالب علمی کے زمانے میں "درس نظامیہ" کی شکل میں سیکھا تھا سے متعلق لکھ دیا: "پھر اس تعلیم کا حال کیا تھا جس کی تحصیل میں تمام ابتدائی زمانہ بسر ہوا! اس کا جواب اگر اختصار کے ساتھ بھی دیا جائے تو صفحوں کے صفحے سیاہ ہو جائیں...." (غبار خاطر، ص۷۹).... یہ تھا فکری انحطاط و زوال کا نمونہ۔

ایسے دور میں جب کہ اسلامی نظام تعلیم سے ذہنوں کو متنفر اور فکروں کو پراگندہ کیا جا رہا تھا امام احمد رضا محدث بریلوی (۲۷۲۱ھ۔۰۴۳۱ھ) نے مسلمانوں کی سوچ و فکر کو اسلام کی طرف مائل کیا اور حوصلوں کو سہارا دیا، اس کا اندازا آپ کے افکار و تحریرات کے مطالعہ سے ہوتا ہے، آپ نے اُس دور کی یاد تازہ کر دی جس میں امام غزالی و امام سیوطی جیسی با کمال شخصیات علم و فن کے دریا بہا رہی تھیں، امام احمد رضا چاہتے تھے کہ مسلمان علم دین حاصل کرے اور پھر معاصر علوم سے بھی آراستہ ہو لے۔ اور یہ سوچ ایسی ٹھوس تھی کہ اس سے ایک طرف ایمان بھی محفوظ رہتا اور دوسری طرف قوم کو جدید و قدیم علوم سے آراستہ باصلاحیت افراد بھی میسر آتے۔ اسی نوع کا ایک معاملہ پیش ہوا کہ ، تعلیم انگریزی و ہندی کی مسلمان کو جائز ہے یا نہیں؟ تو ارشاد فرمایا:"اگر جملہ مفاسد سے پاک ہو تو علوم آلیہ مثل ریاضی و ہندسہ و حساب و جبر و مقابلہ و جغرافیہ و امثال ذٰلک ضروریاتِ دینیہ سیکھنے کے بعد سیکھنے کی ممانعت نہیں، کسی زبان میں ہو اور نفسِ زبان کا سیکھنا کوئی حرج رکھتا ہی نہیں۔" (فتاویٰ رضویہ، ج۳۲، ص۶۰۷)

جو قومیں اپنے اسلاف کی راہ سے ہٹ جاتی ہیں وہ تباہ ہو جاتی ہیں، پھر سوچنے کی بات ہے کہ مسلمان دین کا علم چھوڑ کر کس طرح دوسرے علوم ہی کو مقصد قرار دے سکتا ہے؟ تاریخ اسلامی میں ہر نمونہ شخصیت اول علم دین ہی سے آراستہ نظر آتی ہے اور پھر دوسرے علوم میں بھی ممتاز۔ اور پھر مذکورہ اقتباس میں جو "مفاسد سے پاک علم" کی شرط لگائی گئی ہے وہ غیر ضروری نہیں، اس لیے کہ استعماری قوتوں نے جہاں اسلامی علوم سے مسلمانوں کو دور کرنے کی کوشش کی وہیں جدید علوم میں ایسے نظریات کو رواج دیا جو اسلامی عقاید سے متصادم و متعارض تھے۔ امام احمد رضاکا یہ فکری نکتہ نیا نہیں امام غزالی (۰۵۴ھ۔۵۰۵ھ) نے بھی علوم کو دو انواع میں تقسیم کیا ہے: (۱) محمود (۲) مذموم.... امام احمد رضا کی تعلیمی فکر علوم محمودہ کے حصول پر زور دیتی ہے اور وہ علوم جن سے عقاید کم زور ہوں یا سوچ منفی بنے، اور ایمان و عقیدے میں بگاڑ پیدا ہونے کا اندیشہ ہو۔ ان سے آپ بچنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ اسی لحاظ سے انگریزی تعلیم کے پڑھنے پڑھوانے سے متعلق یہ فکر دیتے ہیں جس میں اعتدال و توازن بھی ہے:"یہ بھی ضروری ہے کہ اپنے دین و اخلاق و وضع پر اثر نہ پڑے، اسلامی عقاید و خیالات پر ثابت و مستقیم اور مسلمانی وضع پر قائم رہے۔ ان سب شرائط کے اجتماع کے بعد جائز رزق حاصل کرنے کے لیے (انگریزی پڑھنے میں) حرج نہیں۔" (مرجع سابق، ص۰۱۷)

استعماری نظام تعلیم کا مقصد برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی پالیسی کے مطالعہ سے بھی ہوتا ہے اس کا ایک نکتہ اس طرح ہے:"کمپنی کی حکومت کا واضح مقصد انگریزی زبان اور مغربی علوم کو ہندوستان میں رایج کرنا (ہے)تا کہ یہاں کے لوگ "مغربی تہذیب" اور "مغربی مذہب" کو قبول کریں۔" (ضیاے حرم لاہورفروری۱۰۰۲ئ، ص۵۳)

بات اگر صرف انگریزی زبان کی ہوتی تو کوئی تعجب نہیں تھا، مگر یہاں مقصد "مغربی مذہب" عیسائیت کی تبلیغ ہے، امام احمد رضا کی فراست ایمانی دیکھ رہی تھی کہ "مغربی نظام تعلیم" میں کچھ مستور ہے اسی لیے آپ نے علوم جدیدہ کے حصول کی اجازت دی تو علم دین حاصل کر لینے کے بعد تا کہ غیر اسلامی نظریات سے آگہی بہ آسانی ہو، اور جو باتیں خلافِ اسلام ہوں ان کی تردید کی جا سکے۔ اور آج تو علوم میں کس قدر غیر اسلامی افکار پڑھائے جاتے ہیں یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، اقبال نے کہا تھا:
یورپ میں بہت روشنیِ علم و ہنر ہے
حق یہ ہے کہ بے چشمہ حیواں ہے یہ ظلمات

سر سید نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انگریزی حکومت کی طرف سے عیسائیت کے پرچار اور مغرب کی عریاں تہذیب کی خفیہ مہم تعلیم سے مربوط چھیڑی گئی تھی جس کا اظہار "اسباب بغاوت ہند" میں ملتا ہے، وہ لکھتے ہیں: "لڑکیوں کی تعلیم کا بہت چرچا ہندوستان میں تھا اور سب یقینا جانتے تھے کہ سرکار کا مطلب یہ ہے کہ لڑکیاں اسکولوں میں آئیں اور تعلیم پائیں اور بے پردہ ہو جائیں۔" (اسباب بغاوت ہند، ص۶۲۱)

مغربی نظام تعلیم کا ایک اور مقصد یہ تھا کہ "جدید تعلیم کے زیور سے آراستہ ایک ایسی جماعت تیار کی جائے جو اسلام اور اسلامی اقدار سے اعلان برات نہ کرے تو کم از کم اظہار نفرت تو کرے۔" (ضیاے حرم لاہورفروری۱۰۰۲ئ، ص۴۴)

آج منظر نامہ اس کی تصدیق کر رہا ہے کہ خود کو مسلمان کہنے اور کہلوانے والا ایک ماڈریٹ طبقہ اسلامی اقدار و تہذیب سے بے زار نظر آتا ہے، اس کے مشاہدات ہمیں آئے دن دیکھنے میں آتے ہیں۔ مثلاً:
٭مسلم پرسنل لا سے متعلق بہت سے دانش ور قسم کے افراد اسلامی احکام سے جدا غیر اسلامی نظریے کی تائید کرتے ہیں۔
٭ شرعی احکام و مسائل میں اپنی عقل کی بات لاتے ہیں۔
٭حجاب کے مسئلے میں بھی، اسے "قد آمت پسند" "فرسودہ علامت" بھی قرار دینے والوں میں بعض کلمہ گو نظر آتے ہیں۔
٭سود سے متعلق اسلامی حکم سے خلاف کرنے والے بھی بہت سے کلمہ گو ہیں۔

(یہ حقیقت ہے کہ ایسا طبقہ ۹۰۰۲ءکی The Royal Islamic Strategic Studies Center کی سروے رپورٹ کے مطابق ایک فی صد ہے۔مگر ان کے جرثومے مسلم معاشرے میں اپنے دامن پسار رہے ہیں۔)

استعماری نظام تعلیم کے زیر اثر الحاد کو راہ ملی.... امام اہل سنت اسی سے قوم کو بچانا چاہتے تھے۔ اقبال نے الحاد کے پس منظر میں کہا تھا:
خوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقی سے مگر
لبِ خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ
ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ

مسئلہ در اصل یہ تھا کہ انگریز اپنے نظام تعلیم کے توسط سے مسلمانوں کو ذہنی غلام بنا رہا تھا۔ فکر مرتی ہے تو قوم مر جاتی ہے۔ امام احمد رضا اسلامی سوسائٹی کو اس کی فکری اساس کے ساتھ دیکھنا چاہتے تھے۔ اس لیے ہر اس عمل کی آپ نے مخالفت فرمائی جس سے ہمارے دینی تشخص کو خطرہ لاحق ہو۔

امام اہل سنت کے نزدیک تعلیم کا مقصد "خدا رسی و رسول شناسی" ہے، اور بقول استاذ سلیم اللہ جندران: "آپ تعلیم براے تفہیم ِدین کے قائل ہیں۔".... استعماری نظام تعلیم کے مقابل آپ کے نظریات دین کے فکری سرمائے کی حفاظت کے لیے نہایت اہم مقام رکھتے ہیں۔ انھیں وجوہ سے اسلامی دنیا میں آپ کے عہد میں آپ کے پاے کا کوئی ماہر تعلیم نظر نہیں آتا.... مغربی فکر کے مقابل آپ کی ذات غزالیِ عصر نظر آتی ہے، اور بعض دانش وروں نے جو اپنے دور کا بو حنیفہ کہا وہ مطالعے کے آئینے میں دیکھتے ہیں تو درست پاتے ہیں۔

فرنگی اثرات کے تحت ہی آپ نے کالج کی تعلیم کے سلسلے میں شریعت کے پاس و لحاظ کی قید لگائی ہے، جہاں آپ نے علومِ جدیدہ کے حصول کی ترغیب دی وہیں شریعت کے اصولوں کی پاس داری کا درس بھی دیا ہے۔ فرماتے ہیں:"کالج اور اس کی تعلیم میں جس قدر بات خلافِ شریعت ہے اس سے بچنا ہمیشہ فرض تھا اور ہے، جہاں تک مخالفتِ شرع نہ ہو اس سے بچنا کبھی بھی فرض نہیں۔" (فتاویٰ رضویہ قدیم، ج۶، طبع ممبئی ص۱۷۱)

یہ ایک عقلی بات ہے کہ جو قائد ہو گا وہ اپنی مذہبی و قومی روایات کا پاس دار ہوگا، اور اس میں معمولی لچک بھی اسے گوارا نہ ہو گی۔ امام احمد رضا ملت اسلامیہ کے قائد تھے، انھوں نے قیادت بھی خوب نبھائی جب کہ بڑے بڑے پھسل گئے تھے اس وقت آپ نے اسلامی نظام تعلیم و معاشرہ کے تشخص کو بچایا اور اسلام کی اس روایتی سوسائٹی کو قائم رکھا جو ہمارا آئیڈیل رہی ہے۔ اور ہماری اسلامی شان کی مظہر بھی۔ اس سلسلے میں آپ نصاب سازی میں اسلامی فکر و روایات کی پاس داری پر زور دیتے ہیں۔

آپ کی خدمت میں ایک سوال اسی قسم کا کوچین مالا بار سے آیا جس میں پوچھا گیا کہ: آج کل مسلمان جو تکمیل یونی ورسٹی کی کوشش کرتے ہیں اور چندہ فراہم کرتے ہیں وہ ثواب ہے یا نہیں؟ اس کے جواب میں آپ نے چند شرائط اسلامی رو سے ذکر کیں اور ان بنیادوں پر یونی ورسٹی کے تعاون کی اجازت دی۔ جنھیں نمبر وار درج کیا جاتا ہے:"اگر یہ بات قرار پائے اور اس کے افسر عہدہ داران اس کا پورا ذمہ قابل اطمینان کریں کہ،
(۱) اس کا حصہ دینیات صرف اہل سنت و جماعت کے متعلق رہے گا،
(۲) جن کے عقاید مطابق علماے حرمین طیبین ہیں، انھیں کی کتب نصاب میں ہوں گی،
(۳) انھیں کے علما مدرسین ہوں گے،
(۴) انھیں کی تربیت میں طلبا رہیں گے،
(۵) غیروں کی صحبت سے ان کو (طلبا کو) بچایا جائے گا،
(۶) روپیہ جو اہل سنت سے لیا جائے گا صرف اسی کام میں صرف کیا جائے گا،

اس وقت اہل سنت کو ان میں داخل ہونا جائز اور باعث ثواب ہو گا، اور جو کچھ اس میں دیا جائے گا صدقہ جاریہ ہو گا۔" (فتاویٰ رضویہ، ج۳۲، ص۴۸۶۔۵۸۶)

فکری حملہ ظاہری حملے سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے، استعماری قوتوں نے اسی رُخ کو اختیار کیا کیوں کہ وہ جہدِ مسلسل کے بعد بھی اسلام کی شمع بجھا نہ سکے، انھوں نے فکری حملے شروع کیے اور جدید علوم کے توسط سے صہیونی افکار کو نصابِ تعلیم کا حصہ بنایا اسی وجہ سے امام احمد رضا نے مذکورہ اقتباس میں اسلامی اصولوں کو فایق رکھتے ہوئے یونی ورسٹی کی اعانت اور اس میں حصول علم کی اجازت دی.... پھر ایک پہلو یہ بھی آتا ہے کہ جب ہمارے یہاں سب کچھ موجود ہے تو مخالفینِ اسلام کے مرہونِ منت کیوں بن رہے ہیں؟ اس پہلو سے امام احمد رضا نے قوم کو ماضی کی حوصلہ افزا تاریخ کا اشارہ دیا ہے کہ اب بھی وقت ہے سنبھل جاؤ اور اپنے اسلاف کے نظام تعلیم کو عام کرو، کیوں ہم غیر کے محتاج بن رہے ہیں، تعجب خیز انداز میں تحریر فرماتے ہیں:"سائنس میں وہ باتیں ہیں جو عقایدِ اسلام کے خلاف ہیں، بچوں کی تربیت دینے، تہذیب و انسانیت سکھانے کے لیے دنیا بھر میں کوئی مسلمان نہ رہا؟ عرب، مصر، روم، شام حتیٰ کہ حرمین شریفین کے علما و مشایخ میں کوئی اس قابل نہیں ، ہاں! کمالِ مہذب و شیخ تربیت و پیرِ افادت بننے کے لایق یورپ کے عیسائی ہیں؟" (مرجع سابق)
قوت فکرو عمل پہلے فنا ہوتی ہے
تب کسی قوم کی شوکت پہ زوال آتا ہے

امام احمد رضا قرآن مقدس کی روشنی میں سائنس کو پرکھنے کے قائل تھے، اسی لیے جن سائنسی دلائل کو قرآن مقدس کے مطابق پایا انھیں تسلیم کیا اور جنھیں قرآنی فیصلے سے متصادم پایا ان کی مخالفت کی، ایک مقام پر لکھتے ہیں:"قرآن عظیم کے وہی معنٰی لینے ہیں جو صحابہ و تابعین و مفسرین و معتمدین نے لیے ان سب کے خلاف وہ معنٰی لینا جن کا پتا نصرانی سائنس میں ملے مسلمان کو کیسے حلال ہو سکتا ہے۔"
(نزول آیات فرقان بسکون زمین و آسمان،ص۰۲،طبع کراچی)

مجھے اس مقام پر نو مسلم مغربی دانش ور ڈاکٹر محمد ہارون (متوفیٰ ۸۰۰۲ئ) کا وہ تبصرہ یاد آرہا ہے جس میں آپ نے فکرِ رضا کی ہمہ گیری اور فکرِ مغرب کی خامی کو سائنس کے تناظر میں واضح کیا ہے۔ موصوف لکھتے ہیں: "امام احمد رضا (مغربی) سائنس کے مقابل اسلام کا دِفاع کرنے اور سائنس کی حدیں واضح کرنے کی کاوشوں کی وجہ سے عالمی اہمیت کی حامل شخصیت ہیں.... صرف امام احمد رضا کے افکار کو اپنا کر ہی مسلم دنیا اپنے تباہ کن حالات سے پیچھا چھڑا سکتی ہے.... اگرچہ وہ خود سائنس میں خاصی مہارت رکھتے تھے، لیکن اگر کوئی اسلام میں سائنس سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے کوئی تبدیلی لانا چاہتا تو آپ اسے ٹھوس علمی دلائل سے جواب دیتے.... یہی امام احمد رضا کی عالمی اہمیت کی ایک دلیل ہے۔"
(امام احمد رضا کی عالمی اہمیت، مترجم ڈاکٹر ظفر اقبال نوری،ص۸۔۹، طبع مالیگاؤں۵۰۰۲ئ)

مسلمانوں کی تعلیمی پس ماندگی کے خاتمہ کے لیے امام احمد رضا نے کئی تعلیمی منصوبے پیش کیے، معاشی جہت سے آپ کا ۲۱۹۱ءکا چار نکاتی منصوبہ "تدبیر فلاح و نجات و اصلاح" مطبوع ہے جس کے نکات پر آج بھی عمل ہو جائے تو مسلمان کسی غیر کے محتاج نہ ہوں گے، اور پھر کسی سچر کمیٹی کی رپورٹ ہمیں تعلیمی و ترقیاتی میدان میں ابتر و پست ثابت نہ کر سکے گی، ضرورت اس بات کی ہے کہ احساس کم تری اور مایوسی کے غار سے نکلیں اور آفاقی دین کے حامل ہونے کے ناطے علم و فن سے رشتے استوار کریں، امام احمد رضا کی یہی فکر تھی، تعلیم براے خدمت و اشاعت حق حاصل کریں اور رزق کا دینے والا تو حق تعالیٰ ہے، اس لیے اسباب کے بجائے خالقِ اسباب پر بھروسا کریں، حسنِ نیت کے ساتھ ہم تعلیم کے میدان میں آگے بڑھیں گے تو کام یابیاں منزل کا پتا دیں گی:
ہر اِک منتظر تیری یلغار کا
تری شوخیِ فکر و کردار کا

ریلوے کےپاس تیل نہیں؟ تیل بچانے کا طریقہ ہو تو بتائیں


پاکستان ریلوے کے وفاقی وزیرغلام احمد بلور کا کہنا ہے کہ ریلوے کے پاس پینشن دینے اور تیل خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہیں اور ملک بھر میں ایک سو چھ ریل گاڑیاں بند کردی گئی ہیں۔
یہ بات پاکستان ریلوے کے وفاقی وزیر حاجی غلام احمد بلور نے جمعہ کو قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے اراکین کی طرف سے پیش کردہ توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہی۔نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ملک میں ایک سو پندرہ ریل گاڑیاں بند ہوگئی ہیں اور وہ حکومت کی توجہ عوام میں پائی جانے والی اس گہری تشویش کے معاملے پر مبذول کرانا چاہتے ہیں۔شیرین ارشد خان اور دیگر اراکین نے سوالات کیے کہ جب ریلوے کا نظام بہتر کرنے پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں تو آخر 
یہ نظام بہتر کیوں نہیں ہو رہا۔


http://www.facebook.com/photo.php?v=1015049079
http://www.facebook.com/video/video.php?v=10150490793373146
حکومت کی اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر نے کہا کہ رقم کی قلت کی وجہ سے گزشتہ تین روز میں ترپن ریل گاڑیاں بند کردی گئی ہیں اور مجموعی طور پر بند ہونے والی گاڑیوں کی تعداد اب ایک سو چھ ہوگئی ہے۔کوئی روٹ ایسا نہیں جہاں مکمل طور پر گاڑیاں بند کی گئی ہوں اگر کسی روٹ پر پانچ گاڑیاں چل رہی تھیں تو اس پر اب دو چل رہی ہیں۔"
غلام احمد بلور
تاہم وزیر نے وضاحت کی کہ کوئی روٹ ایسا نہیں جہاں مکمل طور پر گاڑیاں بند کی گئی ہوں۔ ان کے بقول فرض کریں اگر کسی روٹ پر پانچ گاڑیاں چل رہی تھیں تو اس پر اب دو چل رہی ہیں۔اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ عالمی بینک ہو یا آڈیٹر جنرل آف پاکستان ان کی رپورٹس کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ریلوے کا خسارے میں رہنے کی سب سے بڑی وجہ بدعنوانی اور بدانتظامی ہے اور اس پر کوئی حکومت قابو نہیں پاسکی۔وفاقی وزیر نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ فی الوقت ایک سو دو ریلوے انجن قابل استعمال ہیں جس میں چھ مال گاڑیوں اور چھیانوے مسافر گاڑیوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
بعدازاں متحدہ قومی موومینٹ جو حکومت کی اتحادی جماعت ہے اس کے ایک رکن ساجد احمد نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ بارہ اکتوبر کو ایوان صدر میں ریلوے کے بارے میں اہم اجلاس ہونا تھا جو عین وقت پر ملتوی کردیا گیا۔ ان کے بقول یہ پانچویں بار ہے کہ اجلاس عین وقت پر ملتوی ہوا۔انہوں نے کہا کہ ریلوے کے پاس تنخواہ اور تیل کے لیے پیسے نہیں ہیں ساڑھے پانچ سو کے قریب ریلوے انجن خراب پڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بین الصوبائی ٹرانسپورٹ کا بزنس تو چمک اٹھا ہے لیکن ریلوے خسارے میں ہے۔ ان کے بقول اس سے انہیں شک ہوتا ہے کہ اس میں ٹرانسپورٹ مافیا کا ہاتھ ہے اور ریلوے کے وزیر کو مستعفی ہوجانا چاہیے۔
یاد رہے کہ متحدہ قومی موومینٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کے درمیاں کراچی میں اختلافات کی وجہ سے مار دھاڑ اور الزامات پر مبنی بیان بازی ہوتی رہتی ہے۔اقتصادی سروے میں دیے گئے سرکاری اعداد وشمار کے مطابق سنہ دو ہزار آٹھ اور نو میں ریلوے کی آمدن تئیس ارب سولہ کروڑ روپے تھی جو پچھلے مالی سال کی نسبت سولہ فیصد زیادہ تھی لیکن اس کے باوجود بھی ریلوے مسلسل خسارے میں ہے۔

پاکستانی حکمرانوں کی سوچ




وفاقی وزیر ریلوے غلام احمد بلور نے کہا ہے کہ محکمہ ریلوے کے سالانہ اخراجات ساٹھ ارب روپے کے قریب ہیں جبکہ ا
 سال اس محکمے کی آمدنی بارہ ارب روپے سے زائد نہیں ہوگی۔منگل کے روز اپنے دفتر میں پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ان حالات کو دیکھتے ہوئے اُنہوں نے صدر آصف علی زرداری کو ریلوے کا محکمہ بند کرنے کی تجویز دی تھی جس سے اتفاق نہیں کیا گیا۔
وفاق وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ کہ سنہ دو ہزار نو میں ریلوے کی آمدنی بائیس ارب روپے تھی جبکہ سنہ دوہزار دس میں یہ آمدنی کم ہوکر اٹھارہ ارب روپے رہ گئی تھی۔اُنہوں نے کہا کہ وزارت خزانہ کی طرف سے ایک ارب روپے ملنے کے بعد ملازمین کو بدھ سے تنخواہوں اور پینشن کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا۔ حکومت کی طرف سے اس اعلان کے بعد ریلوے ملازمین نے مختلف شہروں میں جاری ہڑتال کا سلسلہ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
غلام احمد بلور کا کہنا تھا کہ ریلوے کی بحالی کے لیے فوری ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ریلوے کے محکمے کو چلانے کے لیے ہر سال صرف تنخواہوں اور پنشن کی مد میں تیس ارب روپے کی ضرورت ہے۔وفاقی وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ ریلوے کو چلانے کے لیے مختلف بینکوں سے چالیس ارب روپے بطور قرض لیے گئے تھے جن پر پانچ ارب روپے کے قریب سود بھی ادا کیا جا چکا ہے۔پیر کو ایوان صدر میں ہونے والے اجلاس میں یہ تجویز دی تھی کہ ریلوے کا محکمہ مسلسل خسارے میں جارہا ہے لہذا اس کو بند کر دیا جائے۔ جس طرح افغانستان اور سعودی عرب میں بھی ریلوے کا محکمہ نہیں ہے اُسی طرح اگر پاکستان میں بھی نہ ہو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔"
غلام احمد بلور، وزیرِ ریلوے
غلام احمد بلور کا کہنا تھا کہ اُن کی وزارت میں یہ قرضہ واپس کرنے کی سکت نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ٹرینوں کو چلانے کے لیے تین سو انجن فوری درکار ہیں جبکہ پچیس انجن ہر سال سسٹم میں آ جانے چاہیئیں۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے پیر کو ایوان صدر میں ہونے والے اجلاس میں یہ تجویز دی تھی کہ ریلوے کا محکمہ مسلسل خسارے میں جارہا ہے لہذا اس کو بند کر دیا جائے۔اُنہوں نے کہا کہ جس طرح افغانستان اور سعودی عرب میں بھی ریلوے کا محکمہ نہیں ہے اُسی طرح اگر پاکستان میں بھی نہ ہو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔غلام احمد بلور کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے صدر سے کہا تھا کہ اگر اُن کی وجہ سے ریلوے کا محکمہ خسارے میں جا رہا ہے تو ابھی وہ اپنی وزارت سے مستعفی ہونے کو تیار ہیں۔یاد رہے کہ صدر آصف علی زرداری نے ٹرینیں چلانے کے لیے انجن کی خریداری کے لیے وزارت ریلوے کو چھ ارب روپے دینے کے بارے میں ہدایات جاری کی ہیں۔


حکومت برطانیہ نے ڈیرھ سو برس قبل کراچی اور کوٹری کے درمیان ریل کی پٹری بچھا کر تیرہ مئی سنہ اٹھارہ سو اکسٹھ کو ریل گاڑی چلانا شروع کی تھی۔کراچی اور کوٹری کے بعد کوٹری اور حیدرآباد کے درمیاں بہنے والے دریا سندھ پر پل کی تعمیر کی گئی اور ریل کی پٹری کا جال بچھایا گیا۔ بڑی لائن کے ساتھ ساتھ ملک کے تمام صوبوں کے مختلف علاقوں میں چھوٹی لائن بھی بچھائی گئی۔مقصد صرف یہ تھا کہ بیک وقت مسافر اور مال گاڑی چلائی جا سکے اور پھر کراچی کو پشاور سے جوڑ دیا گیا۔ڈیڑھ سو برس قبل انگریز سرکار نے عوام کو سفر کی جو سہولت فراہم کرنے کا آغاز کیا تھا اس میں اضافہ اور ترقی کے بجائے تنزلی ہوتے ہوتے صورتحال ایسی بن گئی ہے آج کے حکمران عوام سے یہ سہولت بھی چھینے پر تلے ہوئے ہیں۔مرکزی ریلوے لائن کے علاوہ چھوٹے چھوٹے دیہاتوں اور علاقوں میں بھی ریل کی پٹری بچھائی گئی۔اکثر مقامات پر تو چھوٹی لائن بچھائی گئی اور ریلوے سٹیشن تعمیر کیے گئے۔ 

حد تو یہ کہ ڈھورونارو جیسے دور افتادہ علاقے میں بھی ریل کی پٹری موجود ہے۔ ریل کے سفر کی سہولت ہر ایک علاقے میں لوگوں کو حاصل تھی۔
ریل میں اکثر و بیشترسفر کرنے والے عبدالغنی کہتے ہیں کہ ریل گاڑیوں کے بند کیے جانے کے بعد سندھ کے اکثر علاقے ریل کے سفر کی سہولت سے محروم ہو گئے ہیں۔ریلوے کے حکام نے ریل گاڑیوں کو خسارے سے نجات دلانے کے لئے اقدامات کرنے کی بجائے ریل گاڑیاں ہی بند کرنا شروع کردی ہیں۔ اس فیصلے سے وہ تمام لوگ نالاں ہیں جو آج بھی ریل میں سفر کو یہ ترجیح دیتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ پہلے بڑی سہولت اور آسانی تھی۔کم پیسوں میں لوگ دور دراز کے علاقوں تک سفر کر لیا کرتے تھے۔ایک دور میں لوگ ریل گاڑی کی آمد سے وقت کا تعین کرتے تھے۔ریل گاڑی میں گورنر جنرل، صدور، وزیر اعظم اور وزراء حضرات اور افسران تواتر کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے۔سندھ ، پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے اکثر علاقوں میں لوگ صبح ریل کے ذریعہ ملازمت یا کاروبار کے لیے جایا کرتے تھے اور شام کو ریل گاڑی کے ذریعہ ہی لوٹ آیا کرتے تھے ۔ اب وہ سہولتیں کہاں۔‘
حیدرآباد ریلوے سٹیشن پر موجود معمر قلی خوشحال خان سن انیس سو پینسٹھ سے کام کر رہے ہیں۔خوشحال خان نے ریل کا اچھا وقت دیکھا ہے، وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے صدر ایوب خان اور ان کے وزراءکو گزرتے دیکھا ہے۔ایک اور قلی منیر کا کہنا ہے کہ انہیں پچاس سال ہو گئے ہیں۔ اب تو وہ عادت کے طور پر سٹیشن پر آ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ انہوں نے مادرِ ملت، سکندر مرزا او دیگر آکابرین کو سفر کرتے دیکھا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اعلیٰ شخصیات کے لیے ریل گاڑی کے ساتھ علیحدہ ڈبہ لگایا جاتا تھا جسے سلون کہا جاتا تھا جو ہر سہولت سے مزین ہوتا تھا۔منیر کی جوانی کے زمانے میں قلی کو ایک پھیرے کی اجرت ایک آنہ ملا کرتی تھی۔آج ریلوے کے حکام نے ریل گاڑیوں کو خسارے سے نجات دلانے کے لیے اقدامات کرنے کی بجائے ریل گاڑیاں ہی بند کرنا شروع کردی ہیں۔ اس فیصلے سے وہ تمام لوگ نالاں ہیں جو آج بھی ریل میں سفر کو یہ ترجیح دیتے ہیں۔
ضلع عمرکوٹ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹے قصبے ڈھورو نارو کا ریلوے سٹیشن موجود ہے۔ سہراب نوہڑی آج بھی ریل سے ہی سفر کرتے ہیں اور ریل کے سفر کو بس کے مقابلے میں سہولت قرار دیتے ہیں۔عبدالشکور کہتے ہیں کہ شالیمار، تیز رو، چناب وغیرہ بند کر دی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ گاڑیوں میں جگہ نہیں ملتی ہے، ٹکٹ نہیں ملتا ہے لیکن پھر بھی گاڑیوں کو خسارے کے نام پر بند کیا جا رہا ہے۔مسافر بند کی گئی ریل گاڑیوں کی بحالی کے ساتھ ساتھ ریل کے کرایہ میں کمی اور ریل کے عملے میں موجود بدعنوان افسران کو فارغ کرنے کا مطالبہ بھی کرتے ہیں تاکہ انہیں سفر کا یہ ذریعہ تمام سہولتوں سمیت دوبارہ حاصل ہو جائے۔

                

Saturday, 22 October 2011

جماعت المسلمین جامعہ بنوریہ کے فتوی کی رو سے


PPSC Written Result of Lecturer

Punjab Public service Commission announced written result of the following 24 posts of lecturers,

1_ Electronics (M)

2_Sociology (M)

3_ Social work (M)

4_Social work (F.M)

5_ Philosophy (F.M)

6_Persion (F.M)

7_Journalism (M)

8_Fine Art (F.M)

9_Sociology(F.M)

10_Pnjabi(M)

11_ Punjabi(F.M)

12_Physical Education(M)

13_ Physical Education(F.M)

14_Philosophy (M)

15_Pakistan Studies (M)
16_ Pakistan studies (F.M)

17_Geography (M)

18 Geography (F.M)

19_Civics (M)

20_ Civics (F.M)

21_Botony (M)

22_Botony (F.M)

23_Arabic (M)

24_Arabic (F.M)

And already has announced Three results of Home economics (F.M), Persian (M), Journalism (F.M) on 14th of this month.

Thursday, 20 October 2011

PPSC announced again interview schedule for the posts of lecturers male and female for month of October 2011

Interview Shedule for the posts of  Eloctronics, Fine Arts , Civics Male , Geography Male &Female, Journalism M&F, Persion M&F, Social Work M&F, Home Ecnomics F, Pakistan Studies M, and Philosphy Male Candidates are calling for interview from 20 October to 31 of this month detail shedule is as under and candidates can print their interview call letter from the PPSC web site or click here





LECTURERS 
Civics (M)27Lahore
Electronics26Lahore
Fine Arts27Lahore
Geography (M)28,31Lahore
Geography (F)31Lahore
Home Economics (F)20Lahore
Journalism (F)21Lahore
Journalism (M)26Lahore
Persian (M)21Lahore
Persian (F)26Lahore
Pakistant Studies (M)31Lahore
Philosophy (M)27Lahore
Social Work (M)28Lahore
Social Work (F)27Lahore
Civics (M)28Multan
Civics (F)28Multan
Electronics (M)27Multan
Fine Arts27Multan
Geography (M)28Multan
Geography (F)28Multan
Home Economics (F)20Multan
Journalism (F)20Multan
Journalism (M)27Multan
Philosophy (M)28Multan
Philosophy (F)28Multan
Persian (M)20Multan
Persian (F)27Multan
Scocial Work (M)28Multan
Social Work (F)28Multan
Civics (M)28Rawalpindi
Civics (F)27,28Rawalpindi
Electronics (M)27Rawalpindi
Fine Arts28Rawalpindi
Geography (M)29Rawalpindi
Geography (F)29,31Rawalpindi
Home Economics (F)20Rawalpindi
Journalism (M)27Rawalpindi
Journalism (F)20Rawalpindi
Persian (M)21Rawalpindi
Persian (F)27Rawalpindi
Philosophy (M)28Rawalpindi
Philosophy (F)26,28Rawalpindi
Social Work (M)28,29Rawalpindi
Social work (F)29Rawalpindi

  • Interview Schedule was updated on 19-10-2011