visitors

free counters

Tuesday, 13 December 2011

نبی ﷺکی فکری اوراجتہادی بصیرت کے چند جلوے

 

دارالعلوم ، شماره : 3 ، جلد : 92 ربیع الاوّل 1429ھ مطابق مارچ ۲۰۰۸ء

نبی کی فکری اوراجتہادی بصیرت کے چند جلوے


از: مفتی شکیل منصور الحسنی القاسمی 
استاذ مجمع عین المعارف للدراسات الاسلامیہ، کیرالہ، ہندوستان 
(نوٹ: یہ بات پیش نظر رہے کہ اس مضمون میں شامل عربی عبارات کے ترجمے بندے شاہ زاد نے کیے ہیں جب کہ قرآنی آیات کا ترجمہ شیخ الہند مولانا محمود الحسن گنگوہی رحمہ اللہ کے ترجمے سے لیا گیا ، علاوہ ایک دو جگہ کے )

اسلام کا دائمی معجزہ اورہمیشگی کی حجۃ اللہ البالغہ "قرآن" کے بعد اگر کوئی چیز ہے تو وہ صاحب قرآن کی "سیرت" ہے۔ دراصل "قرآن" اور "حیات نبوی صلى اللہ عليہ وسلم " معاً ایک ہی ہیں، قرآن متن ہے تو سیرت اس کی شرح۔ قرآن علم ہے تو سیرت اس کا عمل، قرآن مابین الدفتین (کتابی شکل)ہے تو یہ ایک مجسم و ممثل قرآن تھا جو مدینہ کی سرزمین پر چلتا پھرتا نظر آتا تھا، کان خلقہ القرآن.
سیرت نبوی کا اعجاز ہے کہ اس کے اندر ہزاروں روشن پہلو ہیں۔ دنیا کو جس پہلو یا گوشے سے روشنی اور گرمی مطلوب ہو، اس کو سیرت نبوی صلى اللہ عليہ وسلم کے بے مثال خزانہ میں وہ اسوہ اور نمونہ مل جاتا ہے جس سے اپنے ہمہ نوعیتی مسائل و مشکلات کا کامیاب ترین حل نکال لے۔ آپ صلى الله عليه وسلم کی زندگی کا کوئی گوشہ تاریکی میں نہیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم کی حیات طیبہ کے تمام ہی پہلو سورج سے زیادہ ظاہر وعیاں ہوکر دنیا کے سامنے موجود ہیں، آپ جس پیغام الٰہی کو لے کر دنیا میں تشریف لائے، وہ ساری انسانیت کیلئے ایک ہمہ گیر، مستحکم ومضبوط اور "دائمی نظام حیات" ہے اور اس نے اپنی اس امتیازی شان، ہمہ گیری اور دوامی حیثیت کی بقاء کی خاطر اپنے اندر ایسی لچک اور گنجائش رکھی ہے کہ ہر دور میں اور ہر جگہ انسانی ضروریات کا ساتھ دے سکے اور کسی منزل پر اپنے پیروں کی رہبری سے عاجز وقاصر نہ رہے۔
لوگوں کو جس قسم کے مسائل و حالات پیش آسکتے ہیں، ان کی بنیادی طور پر دو قسمیں ہیں:
(۱) وہ مسائل جن میں حالات و زمانے کے اختلاف سے کوئی تغیر پیدا نہ ہو۔ ایسے مسائل کیلئے شروع ہی سے شریعت میں تفصیلی احکام و قواعد ثابت و موجود ہیں۔ جیسے نکاح، طلاق، محرمات اور میراث وغیرہ کے احکام۔
(۲) وہ مسائل جو حالات و زمانے کے بدلنے سے متغیر ہوسکتے ہوں ایسے مسائل کے بارے میں شریعت نے کوئی تفصیلی احکام نہیں چھوڑے ہیں؛ بلکہ اس سلسلے میں عام قواعد اور بنیادی اصول ومبادی وضع کردی ہے اور امت کے بالغ نظر اور بلند پایہ فقہاء کیلئے یہ گنجائش چھوڑ دی ہے کہ شریعت کے مقاصد، اس کے مزاج ومذاق، احکام شرع کے مدارج اور دین کی بنیادی اصول و قواعد کو سامنے رکھ کر ان مسائل کے احکام تلاش کریں؛ لیکن اس مقصد کیلئے یہ ضروری ہے کہ علمائے امت کے سامنے سیرت نبوی کا فکری اور اجتہادی پہلو ہو جس کی رہنمائی میں ہر زمانہ کے علماء وفقہاء غیرمنصوص اور نئے پیش آمدہ مسائل میں شرعی غور و فکر کے ذریعہ کوئی شرعی حکم نکال سکیں۔ سیرت نبوی کا اعجاز دیکھئے کہ اس میں وہ قیاس واجتہاد کے ایک دو نہیں متعدد علمی نمونے موجود ہیں جن کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے خود اپنے قول وسیرت سے یہ راہ کھلی رکھی ہے تاکہ کتاب وسنت کے اصولی ہدایات کی تطبیق پیش آنے والی جزئیات یہ قیامت تک جاری رہ سکے۔ ذیل کی سطروں میں ہم انتہائی اختصار کے ساتھ آپ صلى الله عليه وسلم کے اسی گوشہ کو اجاگر کرنے کی کوشش کریں گے۔
نبی صلى الله عليه وسلم کا استنباط واجتہاد
علماء اصول کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ غیرمنصوص مسائل میں آپ صلى الله عليه وسلم کیلئے اجتہاد جائز تھا یا نہیں؟ جمہور علماء اصول کے یہاں جائز ہے۔ معتزلہ اور ابن حزم ظاہری کے یہاں جائز نہیں ہے۔(۱)
پھر جولوگ اجتہاد نبی صلى الله عليه وسلم کو جائز قرار دیتے ہیں ان کے مابین دو باتوں میں اختلاف ہے:
(الف) کس قسم کے مسائل میں آپ صلى الله عليه وسلم نے اجتہاد کیا ہے؟
(ب) آپ صلى الله عليه وسلم کب اجتہاد فرمایا کرتے تھے؟
علامہ قرافی رحمه الله ، علامہ عبدالعزیز بخاری رحمه الله اور علامہ شوکانی رحمه الله نے اس پر جمہور علمائے امت کا اتفاق نقل کیا ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے جنگی امور اور دنیوی معاملات کے سلسلے میں اجتہاد فرمایا ہے۔ 
بخاری کے الفاظ یہ ہیں: کلہم قد اتفقوا علیٰ أن العمل یجوز لہ بالرأی فی الحروب وامور الدنیا۔(۲)
ترجمہ:جمہور امت اس پر متفق ہیں کہ جنگی اور دنیاوی معاملات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اپنی رائے پر عمل کرنا جائز ہے ۔
علامہ قرافی بھی یہی فرماتے ہیں: محمل الخلاف فی الفتاویٰ. امّا الأقضیة فیجوز الأجتہاد بالاجماع" (۳)
ترجمہ:رہے فیصلے تو اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اجماعا اجتہاد جائز ہے۔
لیکن کیا آپ صلى الله عليه وسلم نے شرعی امور میں بھی اجتہاد کیا ہے یا نہیں؟ اس بارے میں اصولیین کا قول مختلف ہے۔ دلائل کی روشنی میں جو قول نکھر کر سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے شرعی امور میں بھی اخذ واستنباط سے کام لیا ہے۔(۴) جس کی سب سے بڑی اور واضح دلیل یہ ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے کیفیت اذان کے سلسلے میں اپنے صحابہ کے ساتھ اجماعی غور وتدبیر کے بعد اپنے اجتہاد و قیاس سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مشورہ پر ایک فیصلہ فرمایا اور پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دینے کا حکم فرمایا۔ غور کیا جاسکتا ہے کہ "اذان" کوئی دنیوی یا جنگی معاملہ نہیں؛ بلکہ خالص اللہ کا حق ہے اور شعائر دین ومذہب ہے؛ لیکن اس میں بھی آپ کا اجتہاد وقیاس ثابت ہے۔ اس سلسلے میں مزید دلائل کی طرف بعد میں اشارہ کیا جائے گا۔
اجتہاد نبوی کی کیفیت کے سلسلے میں جمہور محدثین اور ائمہ ثلاثہ کا رجحان یہ ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کسی بھی واقعہ کے پیش آتے ہی اجتہاد کرلیا کرتے تھے اس سلسلے میں آپ وحی کا انتظار نہیں فرماتے تھے؛ لیکن اس بارے میں احناف کا راجح نقطئہ نظر یہ ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم پیش آمدہ مسائل میں پہلے "وحی" کا انتظار کرتے اگر "مدت انتظار" میں وحی نازل ہوجاتی تو فبہا ورنہ آپ صلى الله عليه وسلم اجتہاد وقیاس کے ذریعہ ان کا حل بتادیتے۔
علامہ سرخسی رحمه الله تحریر فرماتے ہیں: وأصح الاأقاویل عندنا أنہ علیہ الصلوة فیما کان یبتلی بہ من الحوادث التی لیس فیہا وحی منزل، کان ینتظر الوحی الی أن تمضَی مدة الانتظار ثم کان یعمل بالرأی والاجتہاد(۵)
ترجمہ: ہمارے نزدیک صحیح ترین قول یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو ایسے معاملات درپیش ہوتے تھے جن میں وحی کے ذریعے راہ نمائی نہ کی گئی ہوتی تھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حتی المقدور وحی کا انتظار فرمایا کرتے تھے اور پھر وحی نہ آنے کی صورت میں رائے اور اجتہاد پر عمل فرماتے۔
آپ صلى الله عليه وسلم فکرواجتہاد کے مامور تھے
(۱) بنونظیر جب مدینہ طیبہ سے شام جلاوطن کردئیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے اہل بصیرت کو ان کی بدعہدی اور شرارت پے عبرت دلاتے ہوئے فرمایا: "فاعتبروا یا أولی الابصار" "اعتبار، کہتے ہیں کسی چیز کی حقیقت ودلائل میں غور وفکر کرکے اسی جنس کی دوسری چیز کو جان لینا"
آیت میں ارباب بصیرت، صاحب نظروفکر لوگوں کو غور وتدبر کا بالعموم حکم دیاگیا ہے۔ اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے بڑھ کر کون بالغ نظر ہوسکتا ہے؟ لہٰذا آیت پاک میں جس غور وفکر کا حکم دیا جارہا ہے آپ صلى الله عليه وسلم بھی اس کے عموم میں داخل ہیں اور اجتہاد وقیاس کے مکلف آپ صلى الله عليه وسلم بھی ہوئے۔(۶)
(۲) واذا جاء ہم امر من الأمن اوالخوف أذاعوبہ ولوردوہ الی الرسول والی أولی الامر منہم لعلم الذین لیستنبطونہ منہم
ترجمہ: اور جب ان کے پاس پہنچتی ہے کوئی خبر امن کی یا ڈر کی تو اسکو مشہور کر دیتے ہیں اور اگر اسکو پہنچا دیتے رسول تک اور اپنے حکموں تک تو تحقیق کرتے اس کو جو ان میں تحقیق کرنے والے ہیں اس کی (ترجمہ شیخ الہند محمود الحسن صاحب رحمہ اللہ ) (النساء:۸۳)
. امام رازی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ آیت پاک میں استنباط و تحقیق کے اندر اللہ تعالیٰ نے نبی پاک صلى الله عليه وسلم اور اولی الامر اور حاکموں کو یکساں قرار دیا ہے، جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم اخذ و استنباط کے مکلف تھے، فعلم من ذلک أن الرسول علیہ الصلاة والسلام مکلف بالاستنباط (۷)
ترجمہ:" یعنی اس سے معلو م ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی استنباط احکام کے مکلف تھے"۔
آیت پاک میں "أمر من الامن اوالخوف" سے اس نظریہ کو بھی تقویت ملتی ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم شرعی مسائل میں بھی اجتہاد کرتے تھے، اس لئے کہ لفظ "اَمرٌ" مطلق آیا ہے، اور جس طرح سے جنگ وجدال میں امن وخوف کی حالت ہوتی ہے اسی طرح امور دینیہ میں بھی امن وخوف کی حالت کا تحقق ممکن ہے، لہٰذا یہ ماننا پڑے گا کہ جس طرح آپ صلى الله عليه وسلم جنگی امور میں اجتہاد فرمایا کرتے تھے اسی طرح شرعی امور میں بھی آپ صلى الله عليه وسلم اجتہاد وقیاس کے مامور ومجاز تھے۔(۸)
لولا کتاب من اللّٰہ سبق لمسکم فیما أخذتم عذاب عظیم.(۹)
ترجمہ: اگر نہ ہوتی ایک بات جس کو لکھ چکا اللہ پہلے سے تو تم کو پہنچتا اس لینے میں بڑا عذاب۔ (ترجمہ شیخ الہند محمود الحسن صاحب رحمہ اللہ )
بدر کی لڑائی میں ستر کافر مسلمانوں کے ہاتھوں میں قید ہوکر آئے، آپ صلى الله عليه وسلم نے ان قیدیوں کے سلسلہ میں مشورہ طلب کیا۔ حضرات صحابہ نے اجتماعی غور وتدبر کے بعد ان قیدیوں کے سلسلے میں مشورہ دیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے رائی یہ تھی کہ فدیہ لے کر ان تمام قیدیوں کو چھوڑ دیا جائے، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ تمام قیدیوں کو قتل کردیا جائے، حضرت سعد بن معاذ رضي الله عنه کی بھی یہی رائے تھی۔ کافی بحث و تمحیص کے بعد نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اپنی طبعی رافت ورحمت کی بناء پر حضرت ابوبکر رضي الله عنه کے مشورہ پر عمل کیا۔ اور تمام قیدیوں کو فدیہ لے کر رہا کردیا گیا۔ لیکن آپ کے اس فیصلہ کو خدا تعالیٰ کی جانب سے اجتہادی غلطی قرار دی گئی اور پھر آیت مذکورہ میں جو سخت عتاب آمیز لہجہ اختیار کیاگیا وہ آپ دیکھ رہے ہیں۔ آیت پاک سے دو مسئلے ثابت ہوتے ہیں: اوّل: یہ کہ کسی پیش آمدہ مسائل میں کتاب و سنت میں کوئی حکم نہیں ملتا تو آپ صلى الله عليه وسلم کیلئے اجتہاد کرنا جائز تھا۔ دوم: یہ ہے کہ جس طرح آپ صلى الله عليه وسلم کیلئے جنگی امور میں اجتہاد کرنا جائز تھا۔ اسی طرح شرعی امور میں بھی آپ اجتہاد کے مکلف تھے۔ جنگ بدر کا معاملہ صرف ایک جنگی حد تک محدود نہ تھا بلکہ یہ جنگ ایمان وکفر، حق وباطل کی فیصلہ کن لڑائی ہونے کی وجہ سے مذہبی و شرعی معاملہ کی حیثیت اختیار کرگئی تھی۔
امام رازی رحمه الله فرماتے ہیں: فالآیة صریحة فی بیان أن الرسول علیہ الصلاة والسلام کان یحکم بمقتضی الاجتہاد فی الوقائع التی لم ینزل بہا نص او وحی.(۱۰)
ترجمہ:"آیت نہایت صراحت و وضاحت کے ساتھ بیان کر رہی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے مختلف پیش آمدہ معاملات میں جن میں وحی یا کوئی اور نص نہ آئی ہوتی تھی اجتہاد کے تقاضوں کے مطابق عمل فرمایا کرتے تھے"۔
(۴) فتح مکہ کے دن مکہ المکرمہ کی حرمت وعظمت کو بیان کرتے ہوئے آپ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا
فہو حرام بحرمة اللّٰہ تعالیٰ الٰی یوم القیامة، لا یُعضد شوکة ولا ینفر صیدہ ولا تلتقط لقطة الاّ من عرّفہا ولا یختل خلاہا.
ترجمہ:"اللہ کے حرام کرنے سے وہ(مکہ مکرمہ) حرم ہے قیامت تک کے لیے ، اس میں موجود کانٹے تک بھی نہ اکھاڑے جائیں اور نہ یہاں موجود شکار کو (شکار کی غرض سے )بھگایا جائے اور نہ ہی وہاں کی گری پڑی چیز کو اٹھایا جائے البتہ وہ اٹھا سکتا ہے جو اس کی تشہیر کر کے اصل مالک تک پہنچا دے، اور اس کی تازہ گھاس بھی نہ کاٹی جائے"۔
حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یارسول اللہ! آپ صلى الله عليه وسلم تمام قسم کی گھاس کو ممنوع فرمارہے ہیں، حالانکہ "اذخر" کی ضرورت ہم لوگوں کو گھر کی چھتوں میں پڑتی رہتی ہے؟ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: "الّا الاذخر" حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ آپ صلى الله عليه وسلم کا پھر "اذخر" کا استثناء کردینا اس بات کی دلیل ہے کہ گھاس وغیرہ کی حرمت کے سلسلہ میں آپ صلى الله عليه وسلم نے اجتہاد کیا تھا۔ وھذا مبنی علی ان الرسول کان لہ ان یجتہد فی الاحکام(۱۱)
ترجمہ: یعنی یہ اس بنیاد پر ہے کہ رسول کو احکام میں اجتہاد کا حق ہوتا ہے ۔ 
(۵) قریش نے اپنے دور میں خانہ کعبہ جو تعمیر کی تھی۔ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعمیر کے خلاف تھی۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے سوال کیا: ألا تردہا علی قواعد ابراہیم؟(ترجمہ: کیا آپ اس کو اسی شکل میں نہیں بنوا سکتے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعمیر کی تھی؟) آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: لولا حدثان قومک بالکفر لفعلت(۱۲)(ترجمہ: اگر آپ کی قوم کفر سے حال ہی میں نہ نکلی ہوتی تو میں ایسا کر گزرتا)
آپ کا یہ ارشاد بھی اس بات کی دلیل ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے قریش کی تعمیر کردہ بنیاد کو جو باقی رکھا وہ آپ صلى الله عليه وسلم کا اجتہاد تھا۔ اس لئے کہ اگر آپ صلى الله عليه وسلم عمارت منہدم کرنے کا مامور ہوتے تو خوف فتنہ اس سے قطعا مانع نہیں ہوتا۔
مذکورہ بالا دلائل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ آپ صلى الله عليه وسلم اجتہاد و قیاس کے مامور ومکلف تھے، آپ صلى الله عليه وسلم نے دینی ودنیوی تمام ہی امور میں اجتہاد کیا ہے۔ ذیل میں قدرے تفصیل بیان کی جاتی ہے کہ کن کن معاملات میں آپ صلى الله عليه وسلم نے اجتہاد سے کام لیا ہے۔
دنیوی امور میں آپ صلى الله عليه وسلم کے اجتہادات
(۱) ام المومنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے یہاں آپ صلى الله عليه وسلم نے شہد نوش فرمایا، حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما کو اس کا علم ہوا تو دونوں نے اس بات پر اتفاق کرلیا کہ ہم میں سے جس کے پاس حضور تشریف لائیں، ہر کوئی یہ کہے کہ حضور آپ کے منہ سے مغافیر کی بو آرہی ہے! ایسا ہی ہوا، آپ حضرت عائشہ اور حفصہ رضي الله عنها میں سے جن کے پاس تشریف لے گئے آپ سے یہی سوال ہوا، آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا نہیں، میں نے زینب کے پاس شہد پیا ہے۔ اگر تم لوگوں کو اس شہد کی وجہ سے ناراضگی ہوئی تو دیا رکھو! آج سے میں شہد ہی نہیں پیونگا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: لم یحرم ما احل اللّٰہ لک
ترجمہ:"اس چیز کو کیوں حرام قرار دیتے ہیں جو اللہ تعالی نے آپ کے لیے حلال کی ہے "۔
(۱۳) آپ صلى الله عليه وسلم نے بعض ازواج کی دلجوئی کے واسطے اپنے اوپر شہد کو حرام کیاگیا، یہ محض آپ کا قیاس تھا۔
(۲) آپ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو دیکھا کہ انصار مدینہ ترکھجور کا پیوند مادہ کھجور کو لگاتے ہیں تو کھجور زیادہ ہوتی ہے، آپ صلى الله عليه وسلم نے انصار کو اس طرز عمل سے منع کردیا۔ اتفاق سے اس سال مدینہ میں کھجور کی پیداوار بالکل گھٹ گئی تو آپ صلى الله عليه وسلم نے پھر اجازت دے دی(۱۴) پہلے تابیر نخلہ کی ممانعت آپ صلى الله عليه وسلم کا اجتہاد تھا۔
(۳) آپ صلى الله عليه وسلم اکابر قریش کو اسلام کی دعوت و تبلیغ میں مشغول تھے، اسی دوران حضرت عبداللہ بن ام مکتوم حاضر مجلس ہوئے، آپ صلى الله عليه وسلم نے کفار ومشرکین کے قبول اسلام کی امید پر نابینا صحابی سے منہ پھیر لیا، جس پر آیت: عبس و تولّٰی الخ نازل ہوئی آپ صلى الله عليه وسلم کا یہ اعراض محض اجتہاد تھا۔(۱۵)
جنگی امور میں آپ صلى الله عليه وسلم کے اجتہادات
(۱) بدر کی لڑائی کے سلسلے میں آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنی رائے سے ایک جگہ متعین کی تھی، بعد میں حضرت حباب بن المنذر کی رائے سے وہ جگہ بدل دی- پہلی جگہ کے سلسلے میں آپ صلى الله عليه وسلم نے اجتہاد کیا تھا۔(۱۶)
(۲) اساری بدر (جنگِ بدر کے قیدیوں)کے سلسلے میں آپ صلى الله عليه وسلم نے جو کچھ فیصلہ فرمایا تھا وہ آپ کا اجتہاد تھا۔
(۳) غزوئہ احد کے سلسلے میں مدینہ سے باہر نکلنے یا نہ نکلنے میں آپ صلى الله عليه وسلم نے اجتہاد کیا تھا کہ مدینہ ہی میں رہ کر دشمنوں کا مقابلہ کیاجائے- بعد میں اس تعلق سے آپ صلى الله عليه وسلم پر وحی آئی۔(۱۷)
(۴) "خندق " غزوئہ احزاب میں حضرت سلمان فارسی کی رائے پر آپ نے عمل کیا۔ یہ آپ کا اجتہاد تھا۔ اس سلسلہ میں آپ صلى الله عليه وسلم پر کوئی وحی نازل نہیں ہوئی تھی۔(۱۸)
(۵) غزوئہ خندق میں قبیلہ غطفان کے دوسردار عیینہ بن الحصن اور "الحارث بن عوف المروی" سے مدینہ کی ثلث کجھور پر مصالحت کی پیشکش کی تھی۔ یہ صرف آپ صلى الله عليه وسلم کا اجتہاد تھا۔(۱۹)
(۶) غزوئہ تبوک میں بعض منافقوں کے اعذار کی وجہ سے آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں جنگ میں شریک نہ ہونے کی اجازت و رخصت دیدی تھی ۔ یہ آپ صلى الله عليه وسلم کا اجتہاد تھا۔(۲۰)
معاملات و قضایا میں آپ صلى الله عليه وسلم کے اجتہادات
(۱) حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کو آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنی اس بیوی سے رجوع کا حکم دیا تھا جس کو انھوں نے حالت حیض میں طلاق دی تھی۔(۲۱) یہ آپ صلى الله عليه وسلم کا اجتہاد تھا۔
(۲) حضرت ابوسفیان رضي الله عنه کی بیوی "ہند بنت عتبہ" نے جب حضرت ابوسفیان رضي الله عنه کی بخالت کی شکایت کی توآپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: "خذی من مالہ بالمعروف ما یکفیک ویکفی بینک.(ترجمہ: ان کے مال سے اچھے طریقے سے اتنا لے لیا کیجیے جو آپ دونوں کی ضرورت کے مطابق ہو)(۲۲) عورت کی ضرورت و کفایت کے بقدر شوہر پر نفقہ کا واجب کرنا آپ صلى الله عليه وسلم کا اجتہاد تھا۔
عبادات میں آپ صلى الله عليه وسلم کے اجتہادات
(۱) کیفیت اذان کے سلسلے میں حضرات صحابہ سے مشورہ کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے جو کچھ فیصلہ فرمایا وہ آپ صلى الله عليه وسلم کا اجتہاد تھا۔ اس سلسلہ میں کوئی وحی وغیرہ نازل نہیں ہوئی تھی۔(۲۳)
(۲) ابتداء میں بیت المقدس آپ صلى الله عليه وسلم کا قبلہ تھا اور ۱۶ یا ۱۷ مہینہ ادھرہی رخ کرکے آپ صلى الله عليه وسلم نے نماز ادا کی، لیکن آپ صلى الله عليه وسلم کی خواہش تھی کہ آپ کا قبلہ مسجد حرام ہوجائے، چنانچہ آیت نازل ہوئی: قد نریٰ تقلب وجہک فی السماء(ترجمہ:"ہم آپ کو آسمان کی طرف نگاہ اٹھا اٹھا کر دیکھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں") آپ صلى الله عليه وسلم نے مسجد حرام کے قبلہ ہونے میں اجتہاد و قیاس کیا تھا۔(۲۴)
(۳) منبر سازی کے سلسلہ میں آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنے ساتھیوں کی درخواست قبول فرمائی۔ یہ آپ کا اجتہاد تھا۔(۲۵)
(۴) جماعت کی نماز چھوڑنے والے کے سلسلے میں آپ صلى الله عليه وسلم کا اجتہاد تھا کہ لکڑیاں جمع کرکے انہیں جلادیا جائے، لیکن پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے اس ارادہ سے رجوع کرلیا۔(۲۶) اگر تارک الجماعة کو جلانے کا حکم منجانب اللہ ہوتا تو آپ صلى الله عليه وسلم اس سے رجوع نہ فرماتے۔
(۵) رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی ابن سلول کیلئے آپ صلى الله عليه وسلم نے استغفار کیا تھا۔ یہ آپ صلى الله عليه وسلم کا اجتہاد تھا۔(۲۷)
(۶) حضرت ابوطالب سے آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا تھا لاستغفرن لک مالم اُمنع(۲۸)(ترجمہ: میں آپ کے لیے دعائے مغفرت اس وقت تک کرتا رہوں گا جب تک مجھے اس سے منع نہ کر دیا جائے)
فأنزل اللّٰہ تعالیٰ: ما کان للنبی والذین آمنو ان یستغفروا للمشرکین (ترجمہ: لائق نہیں نبی کو اور مسلمانوں کو کہ بخشش چاہیں مشرکوں کی )آپ صلى الله عليه وسلم کا اپنے چچا کیلئے استغفار کا ارادہ محض آپ صلى الله عليه وسلم کا اجتہاد تھا۔
مذکورہ دلائل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے تمام ہی قسم کے معاملات میں اجتہاد و استنباط سے فیصلے کئے ہیں۔ البتہ آپ صلى الله عليه وسلم کے اجتہاد اور امت کے مجتہدین کے اجتہادات میں آسمان وزمین کافرق ہے۔ آپ کے اجتہاد میں ہدایت ہی ہدایت ہے۔
اگر آپ صلى الله عليه وسلم کا اجتہاد مشیت الٰہی کے مطابق نہیں ہوتا تو ہر وقت وحی کے ذریعہ آپ صلى الله عليه وسلم کو صحیح واقعہ کی رہنمائی کردی جاتی تھی؛ لیکن اتنا مسلّم ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے حالات وواقعات میں اپنے اجتہاد و استنباط سے کام لیا ہے۔
آپ صلى الله عليه وسلم کے اجتہادات کا حکم
آپ صلى الله عليه وسلم نے جن مسائل میں اخذ واستنباط سے کام لیا ہے، تو کیا آپ صلى الله عليه وسلم اپنے تمام اجتہاد میں درستگی ہی پر تھے یا آپ صلى الله عليه وسلم سے خطاء و چوک بھی واقع ہواہے؟ جمہور محدثین کی یہی رائے ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم اپنے اجتہادات میں معصوم عن الخطاء تھے، جبکہ احناف کا اس سلسلے میں نقطئہ نظر یہ ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کے اجتہادات میں خطاء بھی واقع ہوئی ہے۔ البتہ وحی کے ذریعہ اس کو منسوخ کرکے صحیح واقعہ کی رہنمائی فی الفور کردی جاتی تھی۔ دلائل کی روشنی میں احناف کا قول زیادہ راجح معلوم ہوتا ہے۔ اس لئے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کی جس اجتہادی غلطی پر خدا کی جانب سے تنبیہ کی گئی ہے، اس میں "عفا اللّٰہ عنک" کا لفظ استعمال ہوا ہے، لفظ "عفو" اسی وقت استعمال ہوسکتا ہے جبکہ اس سے پہلے "خطا" کو موجود مانا جائے۔
(۲) لم اذنت لہم (ترجمہ:آپ نے کیوں ان کو اجازت دی؟)میں استفہام انکاری ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ منافقوں کو غزوئہ تبوک میں عدم شرکت کی اجازت دینا آپ صلى الله عليه وسلم کی چوک تھی۔
(۳) حضرت قتادہ اور عمروبن میمون فرماتے ہیں "اثنان فعلہما الرسول لم یوٴمر بشیء منہما اذنہ للمنافقین، واخذہ الفداء فی الأسٰریٰ، فعاتبہ اللّٰہ کما تسمعون"(۲۹)(ترجمہ:آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کام ایسے کیے جن کا حکم نہ دیا گیا تھا:منافقوں کو اجازت دینا اور قیدیوں سے فدیہ لینا، چناں چہ اس پر اللہ تعالی تصحیح فرمائی)
بہرحال آپ صلى الله عليه وسلم کے اجتہادات میں خطاء کا واقع ہوجانا ممکن ہے، لیکن وحی کے ذریعہ اس کو منسوخ کردیا جاتا۔ آپ صلى الله عليه وسلم کے خطاء اجتہادی کو برقرار نہیں رکھا جاتا تھا۔(۳۰)
نوٹ: لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ملحوظِ خاطر رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اجتہادات میں جس چیز کو "خطا" سے تعبیر کیا جارہا ہے وہ باعتبار رضاء الٰہی کے ہے ، یعنی بھرپور کوشش کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اجتہاد رضاء الٰہی کے موافق نہ ہوسکا ، جس پر وحی کے ذریعے اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ صحیح صورت تعلیم فرمادی۔
وضاحت کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ اس مقالے میں لفظ"خطا" کو دیکھ کر کوئی صاحب /صاحبہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی کا شکار نہ ہوجائیں۔ (بندہ شاہ زاد)
دورنبوی میں حضرات صحابہ کا اجتہاد
اجتہاد نبی صلى الله عليه وسلم کی طرح یہ مسئلہ بھی انتہائی اہم ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کے رہتے ہوئے حضرات صحابہ کا کسی پیش آمدہ مسئلہ میں اجتہاد کرنا جائز تھا یا نہیں؟ اس بارے میں جمہور علماء اور احناف کی رائے یہ ہے کہ جس طرح آپ صلى الله عليه وسلم کو نئے اور غیر منصوص مسائل میں اجتہاد کی اجازت تھی، اسی طرح حضرات صحابہ کیلئے بھی یہ جائز تھا کہ وہ اپنے اجتہاد و قیاس کے ذریعہ نوازل وواقعات کا حل تلاش کریں۔ ذیل میں ہم اس کی بھی چند مثالیں پیش کرتے ہیں:
(۱) حضرت سعد بن معاذ رضي الله عنه نے حضور صلى الله عليه وسلم کے اشارہ سے یہود بنوقریظہ کے سلسلہ میں جو فیصلہ دیا تھاکہ انی أحکم فیہم ان یقتل الرجال وتقسم الاموال وتسبی الذرایا والنساء. (ترجمہ: میں ان کے بارے میں یہ فیصلہ کرتاہوں کہ ان کے مَردوں کو قتل کردیا جائے ، مال کو تقسیم کر لیا جائے اوربچوں اور خواتین کو قیدی بنا لیا جائے)
آپ صلى الله عليه وسلم کا یہ فیصلہ آپ صلى الله عليه وسلم کا اجتہاد تھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے آپ کے اس اجتہادی فیصلہ کی پرزورالفاظ میں تحسین فرمائی: لقد حکمت فیہم بحکم اللّٰہ من فوق سبع ارفعة (سماوات)(ترجمہ: آپ نے تو ان کے بارے میں ایسا فیصلہ کیا ہے جس کی تائید سات آسمانوں کے اوپر سے ہوئی ہے )
(۲) غزوئہ احزاب سے واپسی کے موقع پر آپ صلى الله عليه وسلم نے صحابہ سے فرمایا تھا "لایصلین احدکم العصر، الا فی بنی قریظة (ترجمہ: جب تک تم لوگ بنو قریظۃ کے علاقے میں نہ پہنچ جاؤ عصر کی نماز نہ پڑھنا) بعض صحابہ نے اس ارشاد کو حقیقی معنی پر معمول کرتے ہوئے بنی قریظہ میں عصر کی نماز ادا کرلی اور وقت کی تاخیر کی کوئی پروا نہیں کی۔ جبکہ دیگر صحابہ نے اجتہاد کیا اوراس ارشاد نبوی کو محض غایت سرعت پر محمول کیا اور یہ خیال کیا کہ بنوقریظہ ہی میں عصر پڑھنا مقصود نہیں ہے؛ بلکہ مقصود جلدی پہنچنا ہے۔ چنانچہ ان لوگوں نے راستہ ہی میں وقت پر عصر کی نماز پڑھ لی، آپ صلى الله عليه وسلم کو جب واقعہ کا علم ہوا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے کسی فریق کو بھی برابھلا نہیں کہا۔ گویا آپ صلى الله عليه وسلم نے ان کے اجتہاد کو بھی معتبر مانا اور عمل بالظاہر کو بھی صحیح قرار دیا۔
(۳) مقام بدر میں مسلمانوں کی چھاؤنی بنانے کے سلسلہ میں، غزوئہ احزاب میں مدینہ کے اردگرد خندق کھودنے کے سلسلہ میں اور غزوئہ احد میں مدینہ کے اندر یا باہر رہ کر مقابلہ کرنے کے سلسلہ میں حضرات صحابہ نے جو کچھ بھی مشورہ دیا تھا۔ یہ ان کا اجتہاد تھا، آپ صلى الله عليه وسلم نے ان کے اجتہاد کو معتبر مانا۔
یہ تو حضرات صحابہ کے وہ اجتہادات تھے جو آپ صلى الله عليه وسلم کی موجودگی میں انجام پائے تھے۔ ان حضرات کے بعض ایسے اجتہادات بھی ہیں جو انھوں نے آپ صلى الله عليه وسلم کی غیبوبت میں انجام دیں لیکن جب آپ کو اس کا علم ہوا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے اس کو صحیح قرار دیا، مثلاً:
(۱)کسی سفر میں حضرت عمر اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو غسل جنابت کی حاجت ہوئی پانی دستیاب نہیں تھا جس سے غسل کرسکتے۔ تیمم کی نوبت آئی، دونوں حضرات نے تیمم غسل کی کیفیت کے سلسلہ میں اجتہاد سے کام لیا۔ حضرت عمار رضي الله عنه نے مٹی کے استعمال کو پانی پر قیاس کرتے ہوئے پورے جسم پر مٹی مل لی اور نماز ادا کی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اجتہاد یہ تھا کہ مٹی جنابت دور کیسے کرسکتی ہے؟ انھوں نے نماز ہی نہیں پڑھی ۔ ان دونوں کے واقعہ کا آپ صلى الله عليه وسلم کو علم ہوا، تو آپ صلى الله عليه وسلم نے کوئی ایسی بات ارشاد نہیں فرمائی جس سے ان حضرات کے اجتہاد کی تردید وممانعت ثابت ہوتی ہو؛ بلکہ آپ صلى الله عليه وسلم نے صرف اس قدر فرمایا کہ تیمم غسل اور تیمم وضوء میں کوئی فرق نہیں ہے پورے جسم پر مٹی لیپنے کی ضرورت نہیں تھی۔
(۲) حضرت عمروبن العاص کو غزوئہ ذات السلاسل میں غسل کی حاجت ہوئی، سردی اتنی سخت تھی کہ پانی سے غسل کرنا ممکن نہیں تھا آپ نے تیمم کیا اور اپنے تمام ساتھیوں کو نماز پڑھائی۔ آپ صلى الله عليه وسلم کو جب معلوم ہوا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے پوچھا کہ تم نے ناپاکی کی حالت میں ساتھیوں کو نماز پڑھا دی، حضرت عمر بن العاص نے فرمایا: میں نے اللہ کا یہ ارشاد سنا ہے ولا تقتلوا انفسکم ان اللّٰہ کان بکم رحیماً، (ترجمہ: خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، کیوں کہ اللہ تعالی تو تم پر بہت رحم کرنے والے ہیں)آپ صلى الله عليه وسلم یہ جواب سن کر ہنس پڑے۔(۳۱) اور ان کے اس اجتہاد و استنباط پر کوئی نکیر نہیں فرمائی۔
نوٹ: آج کل یہ حکم نہ ہوگا ، بلکہ اگر آج کل کوئی شخص جنابت کی حالت میں یا بے وضو ہوتے ہوئے بھی نماز پڑھ لے تو اس کی نماز نہ ہوگی ، اس کو نماز لوٹانے کا کہا جائے گا، اور یہی حکم جماعت کا بھی ہے ، یعنی اگر امام بے وضو یا جنبی ہو تو امام کے ساتھ ساتھ مقتدیوں کی بھی نماز نہ ہوگی اور سب کو نماز لوٹانی ہوگی (بندہ شاہ زاد)
(۳) حضرت معاذ بن جبل کو یمن کا قاضی بناکر بھیجنے کا وہ مشہور واقعہ بھی ہے جس میں انھوں نے آخر میں کہا تھا "اجتہد برایٴ" (ترجمہ: میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا) آپ صلى الله عليه وسلم نے ان کے اس اجتہاد و قیاس کو نہ صرف معتبر مانا بلکہ ان کو شاباشی دی کہ "الحمد للّٰہ الذی وفق رسول رسول اللّٰہ بما رضی لہ رسول اللّٰہ"(۳۲) (ترجمہ: ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے اپنے رسول کے نمائندے اس چیز کی توفیق دی جس سے اس کا رسول راضی ہوتا ہے )اگر آپ صلى الله عليه وسلم کے رہتے ہوئے حضرات صحابہ کا اجتہاد از رائے شرع ناجائز ہوتا تو آپ صلى الله عليه وسلم حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے اس جملہ کی فوراً تردید فرماتے؛ لیکن آپ صلى الله عليه وسلم نے مذکورہ تمام واقعات میں حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے اجتہادات کو معتبر مانا۔
یہ چند واقعات ہیں، جن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی قانون وشریعت جامد ومعطل نہیں ہے؛ بلکہ اس میں ایسی لچک موجود ہے کہ نوپیش آمدہ مسائل کو کتاب وسنت کے حدود میں رہتے ہوئے کتاب وسنت کے اصولی ہدایات پر منطبق کیا جاسکے۔ یعنی سیرت نبوی کا اجتہادی پہلو قیامت تک کیلئے یہ دروازہ کھلا رکھتا ہے کہ ہر زمانہ میں پیدا ہونے والے جدید مسائل پر اسلامی قوانین واصول کو چسپاں کیا جائے اور لوگوں کے مصالح اور ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے ان مسائل کا ایسا حل تلاش کیا جائے جو شریعت کے مزاج اور زمانہ کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔
اخذ واستنباط کی یہ کوشش ممنوع نہیں بلکہ مطلوب ہے اور دراصل یہ ہے کہ اجتہاد نہیں بلکہ بدلتے ہوئے حالات میں ائمہ مجتہدین کے آراء کی تطبیق ہے جسے فقہ کی زبان میں "تحقیق مناط" کہا جاتا ہے۔ امام ابواسحاق شاطبی نے لکھا ہے کہ اجتہاد کی یہ وہ قسم ہے جو قیامت تک باقی رہے گی۔(۳۳)
خلاصہ یہ ہے کہ دنیا کے بدلتے ہوئے نظام پراسلامی قانون کا انطباق ان مسائل ہی میں سے ہے جس کی ضرورت واہمیت سیرت نبوی صلى الله عليه وسلم سے ثابت ہوتی ہے؛ بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ شریعت اسلامی کو زندہ و حاضر اور عصری ثابت کرنے کی سب سے بہتر اور واحد صورت یہی ہے کہ ہم اسلامی قانون کو دنیا کے سامنے اس طرح پیش کریں کہ وہ جدید مسائل وواقعات کا توازن اورمناسب حل پیش کرتا ہو۔
مصادر ومراجع:
(۱) الاحکام للآمدی ۴/۱۶۵، مسلم الثبوت ۲/۳۶۱، تیسیرالتحریر ۴/۱۸۳۔
(۲) کشف الاسرار شرح اصول البزدوی ۳/۹۲۶، شرح الاسنوی علی المنہاج ۳/۱۹۴۔
(۳) شرح الاسنوی علی المنہاج ۳/۱۹۴۔
(۴) ارشاد الفحول ۲۵۵۔ 
(۵) اصول السرخسی ۲/۹۱۔
(۶) الاحکام للآمدی ۴/۱۶۵۔
(۷) التفسیر الکبیر للرازی ۱۰/۲۰۰-۲۰۱۔ 
(۸) اجتہاد الرسول ۵۳۔
(۹) الانفال ۶۸۔
(۱۰) التفسیر الکبیر ۱۶/۷۴۔
(۱۱) فتح الباری ۴/۴۹۔
(۱۲) فتح الباری ۳/۴۳۹۔
(۱۳) اجتہاد الرسول ۸۷۔
(۱۴) شرح النووی لصحیح مسلم ۱۰/۱۹۰۔
(۱۵) اجتہاد الرسول ۸۸ سورة عبس۔
(۱۶) سیرت ابن ہشام ۲/۲۷۲۔ 
(۱۷) سیرت ابن ہشام ۳/۶۴-۶۷۔
(۱۸) اجتہاد الرسول ۹۴۔
(۱۹) سیرت ابن ہشام ۴/۱۰۴۔
(۲۰) اجتہاد الرسول ۹۶۔
(۲۱) الاحکام لابن دقیق العید ۲/۲۰۱۔
(۲۲) صحیح مسلم کتاب الاقضیہ
(۲۳) فتح الباری ۲/۷۷-۸۲۔
(۲۴) سیرت ابن ہشام ۲/۲۵۷۔
(۲۵) فتح الباری ۱/۴۸۶۔
(۲۶) مسلم، کتاب المساجد۔
(۲۷) تفسیر الرازی ۱۶/۱۴۶۔
(۲۸) فتح الباری ۸/۳۳۷-۳۳۹۔
(۲۹) تفسیر رازی ۱۶/۷۳، الاحکام ۴/۲۱۶۔
(۳۰) التحریر ۵۲۷۔
(۳۱) ابوداؤد ۱/۱۴۱۔
(۳۲) ابوداؤد ۲/۵۰۵۔
(۳۳) الموافقات ۳/۹۷۔


 

Monday, 12 December 2011

عصر حاضر اور ایمان کے ڈاکو

عصرِحاضر اور ایمان کے ڈاکو

مولانا محمد حذیفہ وستانوی


نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مبارکہ، روحانی اور مادی دونوں انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان اور علم کی ایسی شمع روشن کی کہ جس کی کرنیں صرف مسلمانوں ہی کے لیے مشعل راہ ثابت نہیں ہوئی، بل کہ غیروں کی ذہنی اور فکری سطح کو جلا بخشا اور ہوا، آگ ، پتھر کو جو معبودیت کا درجہ دے رکھا تھا جس کی وجہ سے اس پر تحقیق، ریسرچ اور تجربہ نہیں کررہے تھے، اب وہ ذہنیت پاش پاش ہو گئی، اگرچہ اس کی ظاہری صورت باقی ہے ،مگر حقیقی صورت باقی نہیں رہی، مگر یہ بات پیشِ نظر رہے کہ آپ کا اصل مشن تھا انسانوں کو روحانیت کی معراج پر پہنچانا، دنیا سے استفادہ کرتے ہوئے، نہ کہ دنیا سے کٹ کر اور رہبانیت اختیار کرکے، یہی دین اسلام کا اہم امتیازی پہلو ہے ، اسی لیے دنیوی ترقی کی پہلی اینٹ اور اس کی بنیاد مسلمانوں نے ہی ڈالی، فلکیات کے میدان میں ہو، انجینئری کے میدان میں ہو یا اسلحہ سازی کے میدان میں، سب سے پہلے مسلمان ہی قدم رنجہ ہوا اور سب برکت تھی اسلام پر عمل پیرا رہنے اور قرآن و حدیث سے وابستہ رہنے کی۔ اس دور کے مسلمانوں کے یہاں اسلام ایمان اور اس کے تقاضوں کو ہر حالت میں ترجیح دی جاتی تھی، جب کہ آج معاملہ برعکس ہوچکا ہے؛ اسلام اور ا یمان پر عمل ہو ،یا نہ ہو دنیوی ترقی ہونی چاہیے، اس فکر نے ہمیں قعر مذلت میں دھکیل دیا ہے، تو آیئے! ہم معلوم کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں یہ فکر اور غلط انداز کیسے پیدا ہوا؟ یہ کوئی اتفاقی صورت حال نہیں ہے، بل کہ ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہے، جس میں کوئی شک نہیں ۔

ساتویں صدی سے لے کر اٹھارھویں صدی تک یعنی گیارہ سو سال تک دنیا پر اسلام کا غلبہ رہا، کیوں کہ اس عرصے میں خلافت اسلامیہ باقی تھی، اگر کسی خطے میں خلافت کا اثر ورسوخ کمزور ہو جاتا تو اللہ کسی دوسرے خطے میں اس کو مضبوط انداز میں کھڑا کردیتا، خلافتِ راشدہ کے بعد خلافت بنوامیہ اور بنوامیہ کے بعد عباسیہ اور خلافت عباسیہ کے بعد خلافت عثمانیہ،؛ اس طرح 1923ء تک خلافت کا یہ سلسلہ برابر جاری رہا، اس دوران چھوٹی چھوٹی حکومتیں اور خلافتیں بھی مختلف خطوں میں قائم ہوتی رہیں، جن کے اثرات اور اسلام کے لیے خدمات بھی کوئی معمولی درجہ کی نہیں تھیں، بل کہ ان کے کارنامے بھی آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں، مگر یہ سب اس حالت میں تھا، کہ مسلمان عوام و خواص ،چاہے وہ علما ہوں یا سیاست داں، اسلام سے ان کار بط بہت گہرا ہوتا تھا؛ اسلام اور اس کے تقاضے ان کے نزدیک ہر حالت میں راجح ہوتے تھے، وہ اس کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔

آپ تاریخ اٹھا کر دیکھیں، قرنِ اول میں حضرات صحابہ میں خلفائے راشدین، عشرہٴ مبشرہ، اصحابِ بدر و اُحد و خندق، حضرت حمزہ، حضرت مصعب، اس کے بعد ابوعبیدہ بن الجراح، زید بن حارثہ، جعفر الطیار، سعد بن ابی وقاص، اسامہ بن زید، براء بن مالک، حضرت ابودجانہ، حضرت زید بن الخطاب، حضرت عمار بن یاسر، حضرت عمروبن عاص، حضرت خالد بن ولید وغیرہ(رضی اللہ تعالیٰ عنہم)۔ اس کے بعد تابعین میں حضرت عقبہ بن نافع، مہلب بن ابی صفرہ، اس کے بعد کے ادوار میں، موسیٰ بن نصیر، طارق بن زیاد، محمد بن قاسم، سیف الدین القطر، نورالدین زنگی، اسدالدین شیرکوہ، صلاح الدین ایوبی؛ عثمانی خلافت کے دور میں محمد الفاتح اور خان بایزید، سلطان سلیم، محمود غزنوی، ٹیپو سلطان وغیرہم (رحمہم اللہ تعالیٰ)۔ مگر افسوس کہ آج ہماری نسل ان کے حالات تو دور رہے، ان مجاہدین اسلام کے نام تک نہیں جانتی، حالاں کہ اسباب ظاہری کے درجہ میں ہم تک اسلام انہیں کی بے مثال قربانیوں کے طفیل پہنچا ہے، اگر ہمارے یہ اسلاف چاہے وہ علما کی جماعت میں سے ہوں یا مجاہدین کی جماعت میں سے۔ علما میں مثلاً حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت علقمہ نخعی، حضرت سعید بن المسیب، حضرت عروہ بن زبیر، امام زہری امام سفیان بن عیینہ، امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام اوزاعی، امام محمد بن سیرین، حضرت مجاہد، حضرت مسروق، امام محمد بن ادریس الشافعی، امام ابویوسف، امام محمد، امام احمد بن حنبل، امام حسن بن زیاد، امام زفر بن ہزیل، امام محمد بن اسماعیل البخاری، امام مسلم القشیری، امام ابوداوٴد السجستانی، امام نسائی، امام ترمذی، امام ابن ماجہ، امام طحاوی، امام دارقطنی، امام دارمی، امام عبدالرزاق، امام ابن ابی شیبہ، امام جریر طبری، امام جصاص، امام یحییٰ بن معین، امام یحییٰ القطان، حضرت داوٴدطائی، امام ابوالحسن القدوری، امام ابن قدامہ مقدسی، امام غزالی، امام ابن دقیق العید، امام عزالدین ابن عبد السلام، امام ابن کثیر، امام ابن حجر عسقلانی، امام بدرالدین العینی، امام جلال الدین سیوطی، زرین ابن نجیم ، امام نسفی، ملا علی قاری، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، امام مجدد الف ثانی، شاہ عبد العزیز دہلوی، شاہ رفیع الدین، سید احمد شہید ،شاہ اسماعیل شہید،(رحمہم اللہ تعالیٰ اجمعین)۔

خلاصہ یہ کہ مسلمان عہد قدیم میں اسلام کے ساتھ خوب وابستہ تھا، اسلام اور ایمان کی خاطر مر مٹنے پر ہمیشہ تیاررہتا تھا، مگر دشمن نے مسلمانوں کی طاقت اور غلبے کا راز معلو م کیا اور پھر اس نے اسی اعتبار سے یلغار کی۔ متاخرین مورخین اور باحثین کا عام رجحان ہے کہ ایمان پر ڈکیتی کا آغاز ساتویں صلیبی جنگ کے بعد ہوا ۔ جب فرانس کا بادشاہ1249ء میں گرفتار ہوا اور اسے فدیہ دے کر چھڑا لیا گیا، اگر چہ وہ دوسرے حملے میں قتل کر دیا گیا، مگر گرفتاری کے بعد منصورہ، مصر کے جیل خانے میں وہ یہی سوچتا رہا کہ آخر مسلمانوں میں وہ کونسی طاقت ہے جس کی بنیاد پر وہ شکست کھانے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتا، کیسے بھی حالات کیوں نہ ہوں، وہ ہر حالت میں تن' من' دھن کی بازی لگا دیتا ہے؟ تو وہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ مسلمانوں کی کامیابی کا راز ان کا مضبوط اور غیرمتزلزل ایمان ،قرآن و حدیث سے ان کی وابستگی اور والہانہ تعلق، اس کے ساتھ ساتھ شریعت مطہرہ، فقہ اسلامی اور اسلامی اخلاق ،اطوار وعادات اور تہذیب وثقافت کی مکمل پیروی اور تقلید ہے۔

پس اس کے بعد انہوں نے اسلا م کے خلاف میدان جنگ بدل دیا، ا ب انہوں نے مسلمانوں کے اوپر بدنی اور جسمانی حملے کے بجائے عقیدے اور سلوک پرحملے کی تیاری شروع کردی، انہوں نے مسلمانوں کی جان کی بجائے ایمان سلب کرنے کا منصوبہ بنایا، جو پہلے کے مقابلہ میں کئی گنا زیادہ ہلاکت خیز ثابت ہوا، جس کے اثرات بیسوی صدی کے اوائل ہی نہیں، بل کہ انیسویں صدی کے اواخر سے ظاہر ہونے لگے تھے، کس طرح اس کے منصوبے تیار ہوتے آئے، مرحلہ وار ہم اس کا جائزہ لیتے ہیں۔

عبد اللہ بن عبد الرحمن الجربوع فرماتے ہیں: تاتاری اور صلیبی جنگوں میں مسلمانوں کے خلاف شکست کے بعد انہیں یقین ہو گیا کہ مسلمانوں کو طاقت اور ہتھیار کے بل بوتے پر شکست دینا ناممکن ہے، لہٰذا کوئی ایسی تدبیر اختیار کی جائے جس سے ان کے ایمان میں ضعف پیدا ہو، وہ قرآن وحدیث سے کٹ جائے، خلافت اسلامیہ کا خاتمہ ہو جائے اور جہاد کی عظمت ان کے دلوں سے نکل جائے، لہٰذااب انہوں نے اسی اعتبار سے تیار ی شروع کی، ایمان پر ڈکیتی کے لیے انہوں نے جو راستہ اختیار کیا، اسے تین مر حلے میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

(۱)مرحلة الإعداد (۲)مرحلة الاستعمار (۳)مرحلة ما بعد الاستعمار۔

مرحلة الإعداد
یعنی اسلامی تعلیمات سے مسلمانوں کو دور کرنے کی ابتدائی کوششیں اور تیاریاں، ویسے تو مغرب کے ذہین افراد اندلس میں فن وہنر میں مسلمانوں کے ساتھ زانوئے تلمذ طے کرنے کے بعد مغرب کی جانب لوٹتے ہیں، یعنی پندرھویں صدی سے اسلام کو ختم کر کے اپنا سکہ جمانے کی کوششیں شروع کر دی تھیں، مگر یہ کام اتنا آسان نہ تھا، لہٰذا ابتدائی مرحلے میں مغرب نے مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی کوشش کی، تا کہ آپس میں لڑ کر کمزور ہو جائیں اور پھر ہم ان پر مسلط ہو جائیں، اس کے لیے انہوں نے قومیت کو ہوا دینا شروع کی۔ صدیوں کی مسلسل محنت کے بعد وہ اس میں کامیاب ہو ئے، اس طور پر کہ خلافت عثمانیہ کے زیر نگیں مختلف خطوں میں "علاقائیت" اور "قومیت"، "لسانیت"، "وطنیت " "عربیت " "ترکیت" کے بت پوجے جانے لگے؛ یہ سب آپ ہی آپ نہیں ہو رہا تھا، بلکہ ایک منصوبہ بند طریقہ سے مسلمانوں کا شیراز ہ بکھیرا جا رہا تھا؛ یہ سب اٹھارھویں اور انیسویں صدی کے دوران ہو رہا تھا، یہاں تک کہ ایک ایک کر کے چند نا عاقبت اندیش منافق، مفاد پر ست مسلمانوں ہی نے خلافت سے کٹنا شروع کر دیا، جس کا آغاز محمد علی سے ہوا اور اختتام 1923ء میں اتا ترک ملحد کے خلافت کے خاتمہ کے اعلان پر ہوا؛ جس نے "ترکیت" کا نعرہ لگایا اور چند عرب قوم پرست رہنماوٴں نے "عربیت" کا نعرہ بلند کر کے مسلمانوں کو گمراہ کیا۔ اس طرح اسلامی متحدہ خلافت تقریباً پچاس حصوں میں بکھر کر رہ گئی، جو تاریخ اسلام کا سب سے بڑا المیہ شمار کیا جاتا ہے ۔

مرحلہ استعمار 
اب جب اہل کتاب نے دیکھا کہ ان کا شیرازہ بکھر چکا ہے اور مسلمانوں کا اتحاد پاش پاش ہو چکا ہے، تو اس نے مسلمانوں کی کمزوری کا فائدہ اٹھا نا چاہا، انگریز، فرانسیسی پرتغالی، یہ سب اپنے لاوٴ لشکر کے ساتھ صنعتی انقلاب کے بعد اسلامی ممالک میں داخل ہو ہی چکے تھے، اب آہستہ آہستہ انہوں نے اپنے قدم جمانے کے بعد ان اسلامی ملکوں پر قبضہ شروع کر دیا، پہلے حکومت میں دخیل ہوئے اور بعد میں موقعہ پا کر قابض ہو گئے، اس طرح بڑی تعداد میں اسلامی ممالک ان کے شکنجے میں آگئے۔

اسلامی ممالک پر تسلط کے بعد سب سے پہلے انہوں نے مقبوضہ ممالک میں اسلامی قوانین کو ختم کر کے مغربی قوانین کو نافذ کر دیا اور اس کے بعد نصاب تعلیم کو سیکولر بنا دیا، جس سے مسلمانوں پر بڑے بد ترین اثرات مرتب ہوئے، مسلمان جہاد سے دور ہو گئے، اسلامی غیرت وحمیت رخصت ہو گئی، نصاب تعلیم میں "مادیت" کو رائج کر دیا گیا اور دوسری جانب اپنے ایجنٹوں کو کھڑا کیا، کہیں قادیانی کو، کہیں باب اللہ کو، کہیں بہاوٴاللہ کو۔ اور ان کا مکمل مالی وقانونی تعاون کیا، کہیں جمال الدین افغانی، محمد عبدہ رفاعہ، احمد امین، طہٰ حسین کو ،کہیں سر سید، چراغ علی، غلام احمد پر ویز، تمنا عمادی، عبد اللہ چکڑا لوی، عبداللہ جیے راجپوری، محمد ابوریہ ، عبد الرزاق وغیرہ کو کھڑا کیا اور ان میں سے کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا، کسی نے الوہیت کا دعویٰ کیا، کسی نے معجزات کا انکار کیا، کسی نے غیبیات کا انکار کیا، کسی نے حجیت حدیث کا انکار کیا، کسی نے جمہوریت کو خلافت پر ترجیح دی، کسی نے سر مایہ داریت کو اسلامی معیشت پر ترجیح دی، کسی نے اشتراکیت کو عین اسلام قرار دیا، کسی نے نظریہٴ ارتقا کو قرآن وحدیث سے ثابت کر نے کی ناکام کوشش کی۔ یہ سب کچھ انیسویں صدی کے اواخر سے لے کر بیسویں صدی کے اوئل میں ہوا۔ گو ہر چہار جانب سے اسلام پر زور دار حملے ہوئے، ایک طرف میدان سیاست میں خلافت کے مقابلہ میں جمہوریت سے، دوسری جانب اسلامی نظامِ معیشت کے مقابلہ میں سرمایہ داریت سے، تیسری جانب تعلیم کے میدان میں علم دنیا سے، چوتھی جانب عقائد اور مذہب کے باب میں توحید وشریعت کے مقابلے میں الحاد، لا دینیت سیکولرازم، لبرل ازم، ہیونزم، ملیٹرل ازم (ایمپیریل ازم)، فرائڈزم، ڈارون ازم ڈیموکریسی وغیرہ سے حملے ہوئے؛ یہ سب در حقیقت ایمان ویقین میں تزلزل پیدا کرنے والے افکار ونظریات ہیں، قرآن وحدیث، فقہ، اصول، قواعد فقہ، تفسیر وغیرہ کے ہوتے ہوئے مسلمانوں کو اس جانب جانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، مگر ایک ماسٹر پلان کے ذریعہ تعلیم، تحقیق، ریسرچ، تہذیب وثقافت، کلچر کے نام پر اسے میڈیا کے ذریعہ خوب عام کیا گیا، یہاں تک کہ مسلمان ہوتے ہوئے بھی مغربی افکارو نظریات کو مسلَّم قراردیا جانے لگا اور اسلامی عقائد کو مسلمان بھی شک کی نگاہ سے دیکھنے لگا، فقہ بھی اس کے نزدیک دریا برد کر نے کے قابل قرار پایا اور ہر میدان میں مغرب کی غلامی، فاسد افکار ریڈیو، ٹیلی ویژن، سینما، کالج اور اخبارات و جرائد کے ذریعہ عام کیے جانے لگے ؛اس طرح ان افکار نے ایمان واسلام کو وائرس اوردیمک کی طرح عام مسلمانوں کے دلوں میں کھوکھلا کر دیا ۔

قادیانی، بہائی، با بی، نیچری، قرآنی جیسے فرقے کھڑے ہوئے، ان کی کوشش فریضہٴ جہاد کے انکار کی رہی؛ یہ بات ان عام فرقوں میں قدرِ مشترک طور پر پائی جاتی ہے؛ اس لیے کہ یہ سب ایک ہی گروہ کے پر وردہ تھے اورعقائد میں شکوک وشبہات کے بعد اور غیبیات کے انکار کے بعد، اس کا انکار کوئی بڑی بات نہ رہی، اس کے بعد آج بھی گو ہر شاہی، وحید الدین خان، جاوید غامدی وغیرہ ہمیشہ اسی کوشش میں سر گرداں ہیں کہ امت جہاد کے لیے کھڑی نہ ہونے پائے۔

مرحلہ ما بعداستعمار
اب ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، وہ' وہ دور ہے جس میں اگر چہ اسلامی ممالک آزاد ہو ئے،60 سے متجاوز ہو چکے، مگر اب تک فکری غلامی سے آزادی حاصل نہیں ہوئی، کیوں کہ مغرب ان اسلامی ممالک میں ایسی حکومتیں قائم کرتا ہے جو پورے طور پر مغرب کی باج گزار ہوتی ہیں، مثلاً کمال (زوال ) اتاترک، انور سادات، جمال عبدالناصر، اسد البشار، حسنی مبارک، بے نظیر بھٹو، حسینہ واجد، محمود عباس وغیرہ؛ یہ سب مغرب کے تعلیم یافتہ ہیں؛ یہ برائے نام مسلمان ہوئے ہیں ؛حقیقت کے اعتبار سے ،کمیونزم وغیرہ کے حامی اور پر زور موٴید ہو ئے ہیں؛ ان کو اسلام سے دور کابھی واسطہ نہیں ۔

کس طرح ایمان کو کمزور کیا گیا ؟
مغرب نے اپنے دورِ اقتدار میں عالم اسلام کے چپہ چپہ پر اپنے طرز کے اسکول کا نظام عام کر دیا، جس میں سائنس کے نام پر غیرمصدقہ سائنسی نظریات کی تعلیم پر ائمری سے لے کر گریجو یشن تک دی گئی اور اب بھی دی جا رہی ہے، مثلاً "نظریہٴ ڈارون"، "نظریہٴ فرائیڈ" وغیرہ؛ ان نظریات کو تسلیم کرنے کے بعد مسلمان، مسلمان باقی نہیں رہتا،ایمان واسلام سے ہاتھ دھوبیٹھتا ہے اور اسے اس کا احساس تک نہیں ہوتا، یہی ایمان کے لئے دیمک اور مہلک وائرس کے ہم معنی ہے ۔ 

مغرب نے الحاد، بے دینی یا عیسا ئیت کو عالم اسلام میں فروغ دینے کے لیے رفاہی امداد کا سہا را لیا، مالی امداد وخرچ وغیرہ دے کر غریبوں میں عیسائیت کی تبلیغ کی گئی اورکی جارہی ہے۔

ذہین اور مالدار مسلمان نوجوانوں کو اعلی تعلیم کے لیے مغرب کے کالجوں مثلاً آکسفورڈ ،کمبریج وغیرہ لے جانا اور پھر وہاں ان کی ذہن سازی کرنا اور انہیں عیش کا عادی بناکر اپنا ہمنوا کرنے کے بعد اپنے ملک کی سربراہی پر بیٹھا دینا،پھر اپنے تئیں انہیں اپنا آلہٴ کار بنا کر اسلام اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ان سے کام لینا ۔

عالم اسلام کے نظام تعلیم پر خاص طور پر اورپورے عالم کے نظام تعلیم پر عام طور پر کڑی نگا ہ رکھنا اورتعلیمی نصاب ایسا تجویز کرنا کہ طالب علم دین سے متنفر ہو جائے اور بے دینی کو ترجیح دے کر مذہب کی تاریخی توجیہ کرنا کہ پہلے مذہب نہیں، مذہب بعد کی پیداوار ہے، آخرت کو ئی چیزنہیں، اصل دنیا ہے اور مذہب ایک نجی مسئلہ ہے، اس پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت نہیں، تعلیم کو خدمت کی بجائے کا روبار کے طورپر متعارف کروایا، کھیل کود تعلیم کا جزولاینفک قرار دینا،وحی کا انکار اور عقل اور تجربہ کو حق وصداقت کے لیے معیار قراردینا ،دین کو دنیا کی ترقی کے لیے روڑا سمجھنا، اسلامی نظریات'کومغربی نظریات کے تا بع کرنا، آزادی کے نام پر دین میں نا اہل ہونے کے باوجود دخل اندازی کرنا، علماء اور دین پرعمل کرنے والوں کو حقیر سمجھنا اوریہ تصور کروانا کہ اسلام عصر حاضر کے مطابق نہیں، سود کو ترقی کے لیے لازم تصو ر کرنا، سنتو ں کو قدیم عربی رسم ورواج کا نام دینا ، اہل مغرب کومہذب اور مسلمانوں کو غیرمہذب ثابت کرنا اور یہ باور کروانا کہ ترقی کا پورا مدار سائنس اور ٹیکنالوجی پر ہے؛ نماز کے لیے وقت نکالنا العیاذباللہ تضیع اوقات کے مترادف ہے، زکوٰة اور ٹیکس کو ایک سمجھنا ، قربانی، حج اور عمرہ میں خرچ کی جانے والی رقم کو بیکار سمجھنا، اس کے بجائے غریب،بیوہ کو رقم دینے کو صحیح سمجھنا، سیاست اور دین کو الگ الگ ثابت کرنا، پارلیمنٹ کو حلال و حرام کی اجازت دینا، الٰہی قانون کے بجائے وضعی اور خود ساختہ قانون کو ترجیح دینا، فیشن پرستی میں مبتلا کرنا، فوٹوگرافی کو معمولی تصور کروانا، ایسا لباس عام کرنا جس سے بدن کی ساخت ظاہر ہو جائے، عورت کو آزادی کے نام پر بے پردہ کرنا، کلچر کے نام پر مختلف ایام کو رواج دینا، جیسے ویلنٹائن ڈے، برتھ ڈے وغیرہ، میوزک کو راحت روح تصور کروانا؛ یہ سب کچھ ہمارے معاشرے میں مابعد استعمار عام ہواہے، جس کو ہم روزانہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، بل کہ مغرب اور حکومت کو خوش کرنے کے لیے، اب ا گر کوئی ان مذکورہ امور کے خلاف لکھتا ہے تو جدید تعلیم یافتہ طبقہ تو چھوڑیے، دنیا پرست علماء بھی اس کو سیکو لرازم کے خلاف تصور کرتے ہیں اور ہمارے مخلص علماء بھی دبی دبی بات کرتے ہیں اور عین اسلام کے مطابق احکام کے بارے میں تاویلات شروع کردیتے ہیں۔یہ سب ایمان کو بربادکرنے کے راستے ہیں۔ 

میڈیا کے ذریعہ فحاشی، عریانی اور بے دینی کو عام کرنا، ایسی ایسی فلمیں بنانا جس میں دین داروں کا مزاق اڑایا گیا ہو اور دین کے پرخچے کردیے گئے ہوں، اسی میڈیا نے تخریب اخلاق و بے دینی کے عام کرنے میں سب سے بڑا رول ادا کیا ہے۔

خلاصہ یہ کہ تعلیم، تہذیب اور میڈیا گویا نام ہے اب دین کو برباد کرنے کا۔ اب بھی مسلمان بیدار ہو جائیں اور جان لیں کہ اصل آخرت ہے دنیا نہیں، اصل رضائے الٰہی ہے منصب نہیں، اصل دین ہے بے دینی نہیں؛ ان تمام مذکورہ راستوں سے اجتناب ایمان کو بچانے کے لیے لازم ہے۔

اللہ ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے اور ہمیں ایمان کے ساتھ موت عطا فرمائے اور ہمارا حشر، قیامت کے دن، ابرار، انبیاء اور صلحاء کے ساتھ کرے۔ آمین یارب العالمین!

شائع ہواالفاروقرمضان المبارک ۱۴۳۱ھ, Volume 26, No. 9

Wednesday, 7 December 2011

پاکستان میں صوفیاء کے مزارات

مزارات کی فہرِست

Cities are ordered alphabetically. Please click Control+F (Windows) or Apple+F (Mac) to search. The remote Mazars are filed under 'Smaller Towns' in the end of cities. For smaller towns click here

± Abbottabad ایبٹ آباد

Hazrat Mazhar Hussain Shah Qadri Mehri, 13KM from Abbottabad towards Nathiagali
[Urdu: حضرت مظہر حُسین شاہ قادری] [View Mazar] [Qaber Shareef] [Website] [AuliaAllah Blog]

± Chakwal, Kallar Kahar, Choa Saidan Shah چکوال، کلر کہار، چوا سیدن شاہ

Arif-e-Waqt Hazrat Professor Bagh Hussain Kamal
[Urdu: عارفِ وقت حضرت فقیر پروفیسر باغ حسین کمال ]

Hazrat Sakhi Saidan Shah Sherazi - Choa Saidan Shah
[Urdu: حضرت سخی سیدن شاہ شیرازی] [Google Map]

Hazrat Maula Bakhsh - nearby city: Choa Saidan Shah [Google Map]

Hazrat Baba Syed Mamoor Shah - between Chak Khushi and Choa Saidan Shah [Google Map]

Hazrat Baba Gali Wala - Khokar Baba Road - between Chak Khushi and Choa Saidan Shah [Google Map]

Hazrat Sheikh Abdul Qadir Jilani of Turkestan, Kallar Kahar

Hazrat Peer Suhaba Chakwali

Hazrat Ghazi Murid Hussain Shaheed, Chakwal [Google Map]

Hazrat Zain Al Abideen, Chakwal [Google Map]

Hazrat Muhammad Ishaq (Noor-e-Alam) & Hazrat Muhammad Yaqoob (Faiz-e-Alam) - Kallar Kahar
[Urdu: نُورِ عالم حضرت محمد اِسحاق ، فیضِ عالم حضرت محمد یعقُوب] [Google Map] [Close View]

± Dera Ghazi Khan ڈیرہ غازی خان

Hazrat Sultan Sakhi Sarwar - Sulaiman range
[Urdu: حضرت سُلطان سخی سرور] [Google Map]

± Mangla | Deena | Mirpur منگلہ، دینہ، میر پوُر

Hazrat Shah Fateh Deewan - Chan - near Mangla Dam [Google Map]

King Shahabuddin Muhammad Ghauri - Salt Range
[Google Map] [History on Stone] [3 Guards] [Video of Mazar] [Documentary: Part 1 Part 2 Part 3]
The King Ghauri is mentioned not because he was King of India, but because he was disciple of Hazrat Khawaja Moinuddin Chishti, the Spiritual King of India (Sultan-ul-Hind). More information
- Some information shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

A Mazar in the Mangla Lake near Mirpur, AJK [Google Map]
Please send us His Highness's name, we would like to mention on this website

Hazrat Baba Peer Mastan Shah, Mangla [Qaber Shareef][Google Map]

Hazrat Naik Alam Shah Sahib, Mirpur, AJK [Google Map & Qaber Shareef]

Hazrat Baba Peera Shah Ghazi Qalander Damri Ali Sarkar, Khari Shareef, 8KM from Mir Pur [Google Map] [Video]

Hazrat Mian Mohammad Baksh, Khari Shareef, 8KM from Mir Pur [Google Map] [Wikipedia] [Video]

Unknown Mazar at GT Road, Dina [Google Map]
If you know anything about this mazar, please let us know.

± Faisalabad فیصل آباد

Ghausia Darbar, Faisalabad, Punjab [Google Map]
If you know anything about this mazar, please let us know.

Hazrat Baba Lasoorri Shah, Faisalabad, Punjab [Google Map]

Hazrat Baba Satgur Badshah, Dhandra Kalan, Faisalabad, Punjab [Google Map]

Muhadis-e-Azam Pakistan Hazrat Maulana Muhammad Sardar Ahmad Qadri Chishti, Jamia Sunni Rizvi.
[Urs: 1st Sh'abaan] [Dawat-e-Islami Documentary: 1 2 3 4] [View Mazar] [Mazar Video] [Biography] [Google Map]

Sufi Singer Ustaad Nusrat Fateh Ali Khan. [Wisaal: August 16, 1997]
[Documentary Part1 Part2 Part3] [View Image] [Video of the Grave]
NOTE: It might surprise someone why we have mentioned Ustaad Nusrat Fateh Ali Khan sahib in the Aulia Allah's database. According to our sources, Ustaad is not a possessor of official Wilayah, but he is promoted to the rank naming 'Saleh' (Very Pious, also a rank senior than Momin) in the Alim-e-Barzakh (life in the grave). This rank is not acheivable easily by normal muslims. Possessor of this rank are able to help out those needing their help even after their deaths. We, therefore, deny all of the false propaganda of azab-e-qaber against him circulating in the public, and we advise the public to refrain from using ill-mannered language against him.

Hazrat Baba Noor Shah Wali, Sargodha Road. [Wikimapia Address] [Urs Video]

Hazrat Peer Fazal Ilahi. [View Mazar 1] [View Mazar 2]

Hazrat Abu Anees Sufi Barkat Ali Ludhianvi, Samundari Road
[Wisaal: 26th January 1997] [Youtube Video 1] [Youtube Video 2] [Biography (by www.aulia-e-hind.com)]
Once Hazrat said, "Time is not far, though I will not be around, that nations of the world will act upon according to the wishes of Pakistan...." (impression from Alakh Nagri, described by Hazrat Mumtaz Mufti).

± Gujrat گُجرات

Hazrat Syed Kabeer Uddin aka Shah Dola Darayai
[Urdu: حضرت سید کبیرُ الدین شاہ دولہ دریائ] [Doorsteps] [Outside Mazar] [Google Map]

Hazarat Ghouse-e-Yegana Pir syed Naseeb Ali Shah

Hazrat Pir Syed Walait Ali Shah

± Gujarkhan and nearby regions گوجر خان اور قریبی علاقے

Hazrat Khawaja Fazal Ud Din Chishti Sabri Kalyami, Kalyam Awan, Tehsil Gujar Khan
[Wisaal: 1 Januray 1892] [Urs: 31st Decemeber to 9 Januray]

Hazrat Baba Anayat Ali Shah - Mandara [Google Map]

Hazrat Baba Shahid Badshah, Garan-Wali [Google Map]

± Hyderabad حیدر آباد

Hazrat Shah Abdul Latif Bhitai, Village Bhit Shah [Google Map] [Qaber Shareef]

± Islamabad دارالحکُومت اسلام آباد

Hazrat Baba Khair Muhammad Qadri
[Urdu: حضرت بابا خیر محمد قادری چشتی] [Express Sunday Magazine Article]

Hazrat Mai Faiz Bibi Qalander

Hazrat Syed Asghar Ali Shah Chishti Qadri Sabri

Hazrat Shaheed Baba Chishti Qadri

Hazrat Kahu Wali Sarkar Chishti Qadri

Hazrat Arifbillah Saeen Muhammad Ashraf Badshah Qadari Qlandari, Tumair Shareef
[Wisaal: 4th July 1939] [Urs: 4th July] [View Outside Mazar] [View Inside Mazar]
Shared by Mr. Wajid Masaud (wajidmasaud@hotmail.com)

Hazrat Baba Aulia Mard Shaheed Badshah Naqshbandi Sabri, near H8 Graveyard
[Google Map] [Tombstone] [Outside Mazar]
Shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Unknown Mazar near H8 Graveyard [Google Map]
If you know anything about this mazar, please let us know.

Hazrat Peer Bahar Shah Phalaan Bhray and Mai Sahiba Bibi Pak Daman, Faizabad Interchange [Google Map]
Shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Sardar Abdul Haleem Qureshi Sabri, Faizabad Interchange [Google Map]
Shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Peer Syed Baba Jhangi Wali Sarkar near Faizabad Interchange [Google Map] [Info Board]
Shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Syed Baghayar Kazmi Almashhadi near Kurri Road on Islamabad Highway [Google Map]

Hazrat Noor Muhammad & Hazrat Illahi Baksh

Hazrat Syed Sakhi Mahmood Badshah and Hazrat Shahjahan Badshah, Family of Hazrat Bari Imam

Hazrat Syed Abdul Latif Qadri Kazmi AlMsahhadi aka Bari Imam

Hazrat Peer Syed Nazr Deen Gillani (Father: H. Peer Meher Ali Shah), Golra [Google Map]
Photo shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Masuma Mawsufa (Mother: H. Peer Meher Ali Shah), Golra [Google Map]
Photo shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Peer Syed Fazal Deen Gillani (Spiritual Teacher: H. Peer Meher Ali Shah), Golra [Google Map]
Photo shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Peer Syed Meher Ali Shah - Golra
[Tombstone] [Rare Photo of a Group] [Chillagah: Inside Outside]
Some photos shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Pir Syed Ghulam Muhyuddin Gilani alias Hazrat Babuji - Golra

Hazrat Peer Syed Naseeruddin Naseer - Golra

Hazrat Pir Syed Ghulam Muinuddin Gilani(R.A)-Elder Lalajee - Golra

Hazrat Pir Syed Chanan Shah Bukhari, Charah, Islamabad (between Koral Chowk and Rawat) [Outside Mazar]
Hazrat Peer Syed Raza Hussain Bukhari is the Sajjada Nasheen of Darbar. Hazrat Allama Peer Ghulam-ud-Din Sultan is the 2nd Khalifa, the Spiritual Teacher of our contributer of Aulia Allah website, Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Abdullah Shah Biyabani Qadri Qalanderi

Hazrat Saeen Sakhi Boota Sarkar Qadri Qalander

Hazrat Qudratullah Shuhab
"A grave yard servant told us that Hazrat grave remains green throughout the year even in autumn and winter..."

Hazrat Abdul Mabood (khalifa of Hazrat Imdadullah Muhajir Makki of Makkah Mukkarmah), H8 Graveyard
[Recommended Youtube Video]
Hazrat's blessed grave is adjacent to Hazrat Qudratullah Shuhab's blessed grave.

Hazrat Qazi Muhammad Ashraf Badshah Tumairvi Qadri Qalander - Nilore [Qaber Shareef] [Information]

Hazrat Bibi Sideeqa Owaisi, Gangal East [Google Map] [Express Sunday Magazine Article]

Hazrat Sakhi Shah Darvesh Badshah, Meena Thub Shairf, Near Model Town, Humak [Outside Mazar]
It is very famous mazar, people visit here specially for sight problems.
- Photos shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Baba Ghulab Shah Qutab aka Saeen Mirchu, near Golra Morr, Kashmir Highway
[Wisaal: 20-02-1972] [Google Map] [Portrait] [Outside Mazar]
Photos shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Peer Sahib Deval Shareef, Faizabad

Unknown Mazar Faizabad Interchange bridge [Google Map]
If you know anything about this mazar, please let us know.

± Jhang جھنگ

Hazrat Sultan-ul-Arifeen Sultan Bahu (Qadri), near Garh Maharaja [Website | Google Map]

Hazrat Khawja Pir Muhammad Karam Hussain Alqadri

Hazrat Syed Mehboob Alam aka Shah Jewna, Shah Jewna (30 km from Jhang)
[Urs: 4th May to 10th May] [The News: Post]

± Jhelum جہلم

Hazrat Suhail Khan Ghazi Qalander Bukhari

Hazrat Baba Shah Chand Wali

Hazrat Baba Sakhi Suleman Paras [Outside Mazar]
He is called as Sahab-i-rasool (Peace be upon Him) in general Masses of Jehlum. And according to the statement of Hzrt Allama Pir Ghulam-ud-Din Sultan, he was the barber of The Holy Prophet (Peace be upon Him). And he used to eat all the hairs of The Holy Prophet (Peace be upon Him). His urs is celeberated on 14th of August every year.
- Shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Pir Syed Ghulam Haider Ali Shah, Jallalpur Sharif, Near Pind Dadan Khan, District Jehlum
[Outside Mazar] [Google Map of Jallalpur] [Life Portrait] [Description: AuliaAllah Blog] [Jamia Haidria Website]
[Khulfa: Hazrat Syed Muzaffar Ali Shah -> Hazrat Syed Abdul Barkat Shah -> Syed Muhammad Fazal Shah]
Shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Syed Meer Shakir Shah known as Syed Miran Shakir, Near Jallalpur Sharif, District Jehlum
[Wisaal: 1183 Hijri] Hazrat's shrine is about three miles up-hills from Jallalpur Shareef. He was the eldest son of well known Hazrat Syed Shah Muhammad Ghaus, who is buried in Lahore between Akbari and Dilli Gate. He was the Spirtual Guide of Pir Syed Ghulam Haider Shah.
- Shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Syed Muhammad Abdullah Shah aka Dewan-i-Hazoori (old Bashandur Sharif)
[Inside Mazar] [Outside Mazar]
Information shared by Darbar Ali (darbaralidarbari@hotmail.com)

Hazrat Mahmood Shah - Garmala [Google Map]

Hazrat Murad Shah - Garmala [Google Map]

Unknown Mazar at Rohtas Fort's entrance, Punjab [Google Map]
If you know anything about this mazar, please let us know.

± Karachi کراچی

Hazrat Syed Muhammad Azeem Barkhiya aka Abdal-e-Haq Qalander Baba Aulia
[Urdu: حضرت سید محمد عظیم برخیا ، ابدالِ حق قلندر بابا اولیاء ]

Hazrat Sakhi Hassan
[Urdu: حضرت سخی حسن] [Google Map] [Wikipedia]

Hazrat Syed Abdullah Shah Ghazi
[Urdu: حضرت سید عبدُاللہ شاہ غازی ]

Hazrat Sakhi Sultan Mangho Pir
[Urdu: حضرت سخی سُلطان ، منگھُو پیر] [Wikipedia]

Dargah-e-Mateeni [Google Map]
If you know the name of Sahib-e-Mazar, please let us know.

Hazrat Shaheed Hakim Muhammad Saeed
[Urdu: حضرت شھید حکیم محمد سعید] [Google Map]

Hazrat Mohammad Ali Jinnah (Quaid-e-Azam)
[Urdu: قایدِاعظم حضرت محمد علی جِناح] [Urs: 11 September]
[Google Map] [Wikipedia] [Jinnah Movie on YouTUBE] [Jinnah: The Legend]
Read the Extraction Here from the book Ziarat-e-Nabi (Peace be upon Him) Bahalat-e-Baidari (The Holy Vision of the Prophet, Peace be upon Him)

Hazrat Bukhari Shah
[Urdu: حضرت بُخاری شاہ] [Google Map]

Khanqahe Nizamia (Gulzare Saidia) [Google Map]
If you know the name of Sahib-e-Mazar, please let us know.

Hazrat Mai Niyaniyun, Murad Memon
[Urdu: حضرت مایی نیانیم] [Google Map]

Hazrat Jalil Ahmed Shah Qalendar, Malir Shareef
[Urdu: حضرت جلیل احمد شاہ قلندر] [Urs: 27 Dhul-Hajj - 29 Dhul-Hajj]

± Kasoor قصُور

Hazrat Baba Bhullay Shah Qadri [Google Map] [Outside Mazar]
Photo shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Baba Makhdoom Muhaiyyudin

Hazrat Baba Makhdoom Ghulam Murtaza [Google Map]

Hazrat Shah Kamal Chishti [Google Map] [Qaber Shareef]

Hazrat Sheikh Naqeebullah Shah [Google Map of Darbar Naqeeb ul Aulia on Ferozepur Road near Kasoor]

Hazrat Khawaja Abdul Hai, Mandi Uthman Wala

Hazrat Muhammad Tahir Sideeq, Astana Tahiria, Kot Muhammad Tahir

± Khairpur خیر پُور

Hazrat Mian Abdul Wahab Farooqi aka Sachal Sarmat, village Daraza [Website]

Hazrat Sultan Ibrahim Bin Adam

Hazrat Peer Syed Gumbad Shah Gillani

± Lahore لاہور

Hazrat Sir Allama Muhammad Iqbal

Data Ganj Bakhsh | Abul Hassan Ali Ibn Usman al-Jullabi al-Hajvery al-Ghaznawi [Large View]
Photo shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Syed Abu-ul-Hasnaat Muhammad Ahmed Qadri, Darbar Data Ganj Bakhsh
Photo shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Baba Sain Mir Mohammed Sahib aka Mian Mir

Hazrat Shah Hussain aka Madhu Lal Hussain

Hazrat Daras Bharay Mian, Mughalpura [View Mazar] [Google Map]

Huzoor Qudwa Tul Aulia Syedna Tahir Alaudin Gulani Baghdadi

Hazrat Syed Miran Hussain Zanjani, Chah-e-Miran
[Outside Mazar] [Inside Mazar]
Photo shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com) & Darbar Ali (darbaralidarbari@hotmail.com). Also on www.LahoreBazaar.com

Hazrat Baba Shah Jamal [Wikipedia]

Hazrat Wasif Ali Wasif, Miani Sahib, Bahawalpur Road [Google Map] [Outside Mazar]

Hazrat Ishfaque Ahmed, Model Town Graveyard

Hazrat Ghazi Ilm Din Shaheed, Miani Sahib
[Doorsteps] [Tombstone] [Google Map] [The Story of H. Ghazi Ilm Deen Shaheed]

Hazrat Bibi Pak Daman] [Wikipedia]

Hazrat Khawaja Muhammad Bakhsh, Lakhan Shareef, Jallo Morr

Hazrat Aziz ud Din Peer Makki - near Data Darbar [External View] [Google Map of Peer Makki Mosque]
Photos shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Syed Muhammad Ishaq aka Miran Badshah - Wazir Khan Masjid [Google Map]

Hazrat Sayed Abdullah Shah Bukhari in Central Mosque, Main Bazar Siddiqia Colony [Google Map]

Hazrat Baba Haidar Saeen (Kambal Wali Sarkar), Badami Bagh [Google Map]

Hazrat Qutab-ul-Aqtab Syed Sharafuddin, Lawarance Garden [Google Map]

Hazrat Hazrat Abu Najam Ahmed Ayaz, Rang Mehel [Google Map]

Hazrat Shah Inayat Qadiri (Master H. Baba Bhullay Shah of Kasur) [Wikipedia]
Photo shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Hassu [Info]

Hazrat Eishan Khawaja Mahmood, near Baghbanpura [Info]

Chillahgah of Hazrat Syed Badaruddin Gillani Qadri Baghdadi aka H. Shah Badar Diwan (India) more...
Location: Behind the campus of Engineering University, Lahore
[AuliaAllah Blog Entry] [Outside View] [Inside View]
Photo shared by Mr. Abbas Sadik Masnavi (abbassadik_masanvi@yahoo.com)

Hazrat Shah Muhammad Ghaus Qadri, near Dehli Gate [Mazar Sharif]
Hazrat Syed Shah Muhammad Ghous Qadri was the father of Hazrat Syed Meer Shakir Shah known as Syed Miran Shakir, whose mazar is over a hill, in Jalapur Sharif, Jehlum. Information shared by Darbar Ali (darbaralidarbari@hotmail.com)

Hazrat Mulla Shah Mohammad, near Mianmir [Info]

Hazrat Miskin Shah Amri [Info]

Hazrat Syed Jan Muhammad Hazuri [Info]

Hazrat Pir Hadi Rahnuma [Info]

Hazrat Abdul Razzak Makki, Nila Gumbad [Info]

± Murree and Galliyat مری اور گلیات

Hazrat Peer Syed Munawar Hussein Shah Sarkar

Hazrat Pir Muhammad Qasim, Mohra Shareef [Google Map]

Hazrat Pir Nazir Ahmad, Mohra Shareef [Google Map]

Hazrat Pir Aftab Ahmed Qasmi, Mohra Shareef [Google Map]

Hazrat Sarwar Khan, Gharial Camp, Murree-Bhurban Road [Google Map]

Hazrat Pir Zahid Khan, Mohra Shareef [Google Map]

Hazrat Baba Syed Lal Shah Qalander - Sorasi Shareef, New Murree
[Google Map] [View Photo of Hazrat] [View Inside Mazar] [View Tombstome] [View ChillahGah]

Photos shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Gorwara Ariari, on New Murree-Patriata Link Road [Google Map]

Hazrat Syed Rajab Ali Shah Hussaini Sahib, Rajababad, Dhobhi Ghaat, Murree

± Multan مُلتان شریف

Wikipedia List of Shrines in Multan

Hazrat Bahauddin Zakaria Suharwardi [Google Map] [Outside Mazar]
Shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Saddaruddin Arif Suharwardi
Shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Shah Ruknudin Rukn-e-Alam Suharwardi [Google Map] [First Burial Place] [Inside Mazar 1] [Inside Mazar 2]
Photos shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Makhdum Abdul Rashid Haqqani, Makhdum Rasheed, 20 km from Multan
[Google Map] [View Mazar] [Hazrat's Mosque] [Wikipedia]
Information shared by the direct descendent of Hazrat, Mr. Amer Hashmi (m.amerr@gmail.com)

Hazrat Pir Shah Shams-ud-Din Sabzwari Tazbrez [Google Map] [Inside Mazar]
Shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Ghaus Pak Noorani [Inside Mazar]
Shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Abu Hassan Hafiz Jamal-ud-din Musa Pak Shaheed [View 1] [View 2]
Informaion shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com) & Syed Muhammad Rizwan Zafar Fatimi Hassnaini Qadri Gillani (syed.gillani@yahoo.com.au)

Hazrat Hafiz Muhammad Ismaeel
Photo shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Allama Peer Hamid Ali Khan
Photo shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Baba Alam Shah
Photo shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Yousaf Shah Gardezi

Hazrat Syed Saeed Ahmed Shah Bukhari
[WIsaal: 11 Rajab 1050 Hijri] [Silsila: Naqshbandiya, Qadriya, Qalandaria]
[Hazrat's Spiritual Guide: Hazrat Khawaja Muhammad Baaqi Billah, India]
[Outside Mazar] [Inside Mazar] [Tombstome]
Information shared by Ms. Alya Shah

Hazrat Hameed-ud-Din Hakim

Hazrat Qutab-al-qutaab Moj Dariya

Hazrat Qazi Qutab-ud-Din Kashani

Hazrat Syed Hasan Khanjzee

Hazrat Shah Dana Shaheed

Hazrat Shah Kamal Qadari

Hazrat Hafiz Muhammad Jamal Chisti Nazami

Hazrat Pir Chup Wardi Waly

Hazrat Mollana Hamid Ali Khan Naqshbandi

Hazrat Allama Syed Ahmad Saeed Kazmi

Hazrat Khawaja Awais Khagga

Hazrat Pir Syed Wali Muhammad Shah (Chadar Wali Sarkar)

Hazrat Gul Shah

Hazrat Maulana Hakeem Gul Muhammad Qureshi, Ayazabad

Unknown Mazar [Google Map]
If you know anything about this mazar, please let us know.

Unknown Mazar near Fort [Google Map]
If you know anything about this mazar, please let us know.

± Muzaffarabad, AJK مظفر آباد، آزاد کشمیر

Hazrat Saeen Saheli Sarkar, Narul [Google Map]

Hazrat Peer Chinasi [Google Map]

± Okara اوکاڑہ

Syed Mohammed Ismael Shah Bhukari Naqshbandi

Hazrat Daud Bandagi Kirmani, Shergarh

Hazrat Syed Sher Muhammad Gillani, Fatehpur Shareef

Hazrat Muhammad Noorullah Naeemi Qadri, Baseerpur

Hazrat Khawaja Alam Syed Ghulam Rasool Gillani, Khoh Pak, Sankhar

± Pakpattan پاکپتن

Hazrat Baba Fariduddin Masood Ganjshakar
Some photos shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Qutab-e-Alam Alauddin Mauj Drya (Grandson of Hazrat Baba Fareed)
Photo shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Sakhi Ghulam Qadir

± Peshawar پشاور

Hazrat Rahman Baba

Hazrat Mir Jani Shah Sarkar

Hazrat Shah Qabool Aulia

Hazrat Mian Omar Chamkani

Hazrat Sangoo Baba Gee, Sangoo Darbar

±  Rawalpindi راولپنڈی

Hazrat Baba Sakhi Shaheed Chishti

Hazrat Peer Syed Muhammad Shah Wali Badshash

Hazrat Khawaja Saeen Nizam-ud-Din, Airport Road near Runaway [Google Map]
Photo shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Hafiz Abdul-ul-Ghani , Airport Road near Runaway [Google Map]
Photo shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Shah Chan Charagh - Urdu Bazar [Wikipedia]

Hazrat Syed Saki Shahjahan Muhammad Badshah aka Tallian Shahan, Kamaiti Chowk, Murree Road
[Urs: 2nd Shaban] [Google Map] [Outside Mazar] [Holy Tree: Tradition says this tree travelled in love for hazrat and it never burns up] Photos shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Baba Chup Shah, Committee Chowk
Photo shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Syed Hussain Ali Shah Chishti, Committee Chowk
Photo shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Syed Ghulam Ali Shah, Committee Chowk [Wisaal: 21-02-1916]
Photo shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Al-Haaj Hazrat Peer Syed Mazhar Ali Shah, Committee Chowk [Wisaal: 15-01-2005]
Photo shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Alhaj Hafiz Muhammad Abdul Karim, Eidgah Shareef
[View Outside Mazar] [View Inside Mazar] [Flickr Album] [Website] [Wazaif]

Hazrat Peer Hafiz Abdul Rahman Sahib, Eidgah Shareef
[View Outside Mazar] [View Inside Mazar] [Flickr Album] [Website] [Wazaif]

Hazrat Hafiz Pir Muhammad Habib ur Rahman Sahib, Eidgah Shareef
[View Outside Mazar] [View Inside Mazar] [Flickr Album] [Website] [Wazaif]

NOTE: Hazrat Hafiz Pir Naqeeb-ur-Rehman Sahib is the current Sajjada Nasheen of Eidgah Shareef, Rawalpindi. [Flickr Album]

Hazrat Saeen Allah Bux, Qaziabad, near Mareer Hassan [Google Map] [View Tombstone Closely] [View Doorsteps]
Hazrat Saeen Allah Bux (Bukhsh) is the spiritual teacher of H. Qudratullah Shahab and Mumtaz Mufti.

Hazrat Saien Karam Din, Qaziabad, near Mareer Hassan [Google Map]
Hazrat is resting near Hazrat Saeen Allah Bux. Photo shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Saeen Fateh Muhammad, Qaziabad, near Mareer Hassan
[Google Map] [Outside Mazar]
Photo shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Shaheed Baba, Qaziabad, near Mareer Hassan [Outside Mazar]
Photo shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Sain Muhammad Deen aka Manna Baba Sarkar, near Mareer Hassan
[Wisaal: 6th April, 1966] [Khalifa: Sahibzada Muhammad Yaqoob]
[Tombstone] [Outside Mazar] [Google Map]

Hazrat Khwaja Fazal ud Din Chishti Sabri Kalyami, Kalyam Sharif District Rawalpindi
[Hazrat Peer Naseeruddin Naseer of Golra Shareef's Speech on Urs] [Urdu Description: Page 1 Page 2 Page 3]
[Wisaal: 1 Januray 1892] [Urs: 31st Decemeber to 9 Januray] [Banner] [Hazrat's Sitting Area]
Extraction: Hazrat sahib went through a 'majzub' sort of experience at a certain time in his life and missed his prayers due to his trance condition (although he prayed and followed shariah strictly for most of his life, and the fact that his followers and khalifas strictly stuck to abiding by shariat proves that it was just a spiritual condition beyond Hazrat's control). When the ulema of the time (who usually don't understand this spiritual state) warned him about his prayers. He responded by saying that such a great personalitiy will lead my janaaza prayer that all of you will have no choice but to follow my janaaza prayer (will be naturally forced to). Just after he had passed away he appeared in dream to Hadrat Tajdaare Golra Syed Mehr Ali shah and told him that he had passed away and that he should come and lead his janaaza prayer, so Hadrat Meher Ali then set off and led his janaaza prayer.
Some information shared by Mr. Saad Malik (malik.awan10@gmail.com)

Hazrat Saeen Doday Shah Khan, Rata Amral [Google Map]

Hazrat Baba Syed Wallayat Shah Sahib, Ganganwala Shareef

Hazrat Peer Syed Lal Hussain Shah Gillani, Ghaus Abad, Chaklala

Hazrat Shah Bukhari, Arjunnagar [Google Map]

Hazrat Khawaja Peer Ghulam Ali Shah Sahib

Hazrat Maulana Muhammad Ashraf Badshah, Tumair Shareef

Hazrat Khawaja Deen Muhammad Chishti Sahib, Pindora Shareef

Unkown Mazar at Tench Bata, Rawalpindi, Punjab [Google Map]
If you know anything about this mazar, please let us know.

Hazrat Baba Shah Noor Ghazi, Dahgal Village, Adiala Road [Google Map]

Hazrat Baba Peer Zinda, near Adiala Road [Google Map]

27 Feet Long Unkown Mazar at Adiala Road, Rawalpindi Dist., Punjab [Google Map] [Qaber Shareef]
If you know anything about this mazar, please let us know.

Unknown Mazar namely Khan Gah Sharif at Kalyal, near Adiala Road [Google Map]
If you know anything about this mazar, please let us know.

Unknown Mazar on Transit Camp Road, adjacent to Railway Station [Google Map]
If you know anything about this mazar, please let us know.

Hazrat Baba Saein Rewarhi Sarkar, Rawal Road, near Murree Road and adjacent to Runway [Google Map]
Photo shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Peer Abdul Ghani almarof Sidiq-e-Akbar, Gulistan Colony, near Ayub National Park
Photo shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Baba Sakhi Shaheed Badshah (Pakay Maqam Wali Sarkar), National Park Road, near Murree Brewery
[Google Map] [Outside Mazar] Photo shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Sher Zaman Mast Qalandar, National Park Road, near Murree Brewery
[Google Map] [Outside Mazar] [Wisaal: 03-Sep-2008] Photo shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

± Sialkot سیالکوٹ

Hazrat Shah Abdaal (grand son of Hazrat Ghouse-e-Azam Sheikh Abdul Qadir Jillani
Info shared by: Ali Bashir (alibk786@yahoo.com)

Hazrat Mulk Shah Wali Sarkar
Info shared by: Ali Bashir (alibk786@yahoo.com)

Hazrat Ali-ul-Haq Shaheed (Imam Pak Sarkar)
Info shared by: Ali Bashir (alibk786@yahoo.com)

Hazrat Peer Muradala Shah
Info shared by: Ali Bashir (alibk786@yahoo.com)

Hazrat Peer Kakay Shah Sarkar [Google Map]

Hazrat Pir Syed Jamat Ali Shah (Ameer-e-millat), in Ali Pur Sharief [Website]

Hazrat Pir Syed Faiz-ul Hassan Shah, Allomahar Shraief [Wikipedia]

Hazrat Pir Syed Amin Shah [Wikipedia]

Hazrat Pir Syed Muhammad Channan Shah Nuri [Wikipedia]

Hazrat Syed Muhammad Hussain Shah [Wikipedia]

Hazrat Syed Khalid Hasan Shah [Wikipedia]

Hazrat Mian Abdul Hakeem

Hazrat Hafiz Muhammad Alim

Hazrat Hafiz Barkhurdar (Sufi Poet), Chitti Sheikhan

± Swat سوات

Hazrat Saidu Baba (Akhund of Swat Hazrat Sheikh Abdul Ghafoor Mujaddad)

Hazrat Baba Gee Sahib, Shal Bandi Shareef [Google Map]

± Sehwen Shareef سہون شریف

Syed Usman Shah Marwandi aka Hazrat Lal Shahbaz Qalander

Unknown Mazar [Google Map]
If you know anything about this mazar, please let us know.

± Uch Shareef اُچ شریف

Hazrat Syed Jalaluddin Bukhari Surkhposh [Google Map] [Wikipedia]

Hazrat Makhdoom Jahanian Jahangasht [Info]

Hazrat Bahawal Haleem [Info]

Hazrat Shaikh Saifuddin Ghazrooni

Hazrat Bibi Jawandi [Google Map]

Hazrat Syed Jamal Khandan Dervesh

Hazrat Makhdoom Syed Hamid Ganj Bakhsh Gilani

Hazrat Makhdoom Syed Nasir ud Din Mehmood Nau Bahar Bukhari

Hazrat Syed Hassan Kabir ud Din

Hazrat Makhdoom Syed Muhammad Ghous Bandagi Qadri Gilani Uchi

Hazrat Makhdoom Syed Abdul Qadir Sani Gilani Uchi Mehboob e Subhani

Hazrat Baba Peer Manna

Hazrat Abu Ishaq Safi ud Din Haqani Gazarni

Hazrat Dewan Syed Kabir Ud Din Bukhari

Hazrat Syed Badar ud Din Bukhari

Hazrat Syed Kabir ud Din Sheikh Salah ud Din Abu Hanifa

Hazrat Makhdoom Syed Fazal ud Din Ladla Bukhari

Hazrat Makhdoom Syed Rajan Qattal Bukhari

Sheikh ul Mashaikh Hazrat Ghulam Qadir Chishti Sabri [Photograph]

± Wah, Taxila, and Nearby Regions واہ، ٹیکسلہ، اور قریبی علاقے

Hazrat Hassan Abdaal Wali Qandhari [Google Map]

Mazars in smaller towns are categorized in the following sections: [Goto Top]

± Punjab - Smaller Towns صُوبہ پنجاب اور ذیلی علاقے

Hazrat Peer Syed Waris Ali Shah, Jandiala Sher Khan, Sheikhupura District
[View Mazar] [Portrait] [Urs: 15th January] [Wikipedia] [Hazrat's Teacher: Pir Makhdum of Kasur] [Hujra in Malka Hans]

4 Sahaba-e-Karam, Derawar Fort, near Bahawalpur, Punjab [Google Map] [Inside the Mazar]

Alahazrat Sher-e-Rabbani Mian Sher Muhammad, Sharaqpur, 14 KM from Faisalabad [Website] [Wikipedia]

Hazrat Khwaja-e-Khwajgan Baba Ji Syed Noor Muhammad, Chura Shareef (near Attock) [Website]
NOTE: Baba Ji Sarkar, Pir Syed Muhammad Shabbir Ali Shah Gillani Naqshbandi Mujaddidi is the current Sajjada Nasheen.

Hazrat Baba Ji Syed Faqeer Muhammad, Chura Shareef (near Attock) [Website]

Hazrat Khawaja Ahmed Nabi, Chura Shareef (near Attock) [Website]

Hazrat Peer Hyder Shah, Chura Shareef (near Attock) [Website]

Hazrat Peer Maulana Mohammad Yaqub Sahib, Baghar Shareef, Tehsil Kahuta [Website]
NOTE: Hazrat Peer Sahibzadah Dr Sajid Ur Rehman Sahib is the current Sajjada Nasheen.

Hazrat Sain Noor Khan Baba near Fateh Jang, Punjab [Google Map]

Hazrat Khawaja Ghulam Farid, Mithankot (read about Mithankot) near Rajanpur [Wikipedia] [Outside Mazar]

Hazrat Syed Mian Hussain Shah Hashmi, Mianwali Tehsil Isa Khail [Video]

Hazrat Hafiz Muhammad Azeem Chisti, Mianwali
Information share by Mr. Mansoor Ali & Mr. Muhammad Waqas Habib

Hazrat Shah Muzzaffar, Kalabagh [Google Map]

Hazrat Syed Ghulam Abbas, Kalibair [Google Map]

Hazrat Syed Noor Ahmad Shah, Ranwala [Google Map]

Baba Nolakh Hazari, Shah Kot (Kirana Hills) [Google Map] [Distant View]

Hazrat Pir Sahib, Bharoki Virkan [Google Map]

Hazrat Baba Gee Shah Abdullah, Tamboli [Google Map]

Hazrat Khwaja Sahib, Khairpur, Punjab [Google Map]
We are doubtful about the accuracy of the place. Let us know if you know anything.

Hazrat Ghazi Peer, Chak 137R, near Harrapa, Punjab [Google Map]

Hazrat Nosha Ganj Baksh, Ranmal (closest city: Wazirabad), Punjab [Google Map]

Hazrat Peer Haji Syed Qamer Shah Bukhari, Rasheed Pur [Google Map]

Hazrat Baba Pholey Shah Badshah, Chak Ghaian [Google Map]

Unknown Mazar at Pakhwal (Kalayday Shareef) [Google Map]
If you know anything about this mazar, please let us know.

Hazrat Kanwan Wali Sarkar, Amirwala (closest city: Mianwali), Punjab [Google Map]

Hazrat Baba Sooban Sain - Muridwala, Punjab [Google Map]

Hazrat Baba Haji Sher - Chak 317 - closer to Burewala, Punjab [Google Map]

Hazrat Khawaja Shah Suleman Taunsvi, Taunsa, Punjab [Google Map]

Qalander-e-Azam Hazrat Muhammad Bashir Ahmed Al-Awaisi Sarkar, Qaboola (near Arifwala), Punjab [Google Map]

Hazrat Khushi Muhammad, Dijkot, Punjab [Google Map]

Hazrat Sher Shah, Dijkot, Punjab [Google Map]

Hazrat Nawaz Hussain Shah Sahib, Dijkot, Punjab [Google Map]

Hazrat Jhooley Laal, Model Town, Gujranwala, Punjab [Google Map]

Hazrat Mian Gee Inayat Ali, Adha, near Gujrat [Google Map]

Hazrat Sufi Rehmat, Nunanwali [Google Map]

Hazrat Al-Haaj Hafiz Muhammad Shareef, Masoomabad Shareef, Chak Jani [Google Map]

Hazrat Syed Masoom Hussian Shah aka Baba Tibba, Attowala, near Awana [Google Map]

Unknown Mazar at Nawan Pind (between Faisalabad and Dijkot), Punjab [Google Map]
If you know anything about this mazar, please let us know.

Hazrat Baba Kamil Shah, near Choa Saidan Shah, Punjab [Google Map]

Hazrat Khowja Sahib, Basti Faujian, near Bahawalpur, Punjab [Google Map]

Unknown Mazar at Chak 164-A9L, near Sheikh Afzal [Google Map]
If you know anything about this mazar, please let us know.

Unknown Mazar at Near Sappanwala Dera, Noinke, Gujranwala [Google Map]
If you know anything about this mazar, please let us know.

Hazrat Ghulam Muhammad Chishti Sabri, Chack Pero, Gujranwala [Google Map]

Hazrat Sakhi Sabzwaari, Kahuta [WikiMapia]

Hazrat Khawaja Maulvi Ahmed Deen Chishti, Makhad Shareef, Attock

Hazrat Maulana Muhammad Arshaad Hussain Shah Noori, Saboor Shareef, Attock

± NWFP - Smaller Towns صُوبہ خیبر پختُونخواہ اور ذیلی علاقے

Hazrat Landa Baba, Sirikot near Tarbela Dam, NWFP [Google Map]

Hazrat Shah Naqshbandi aka Zinda Peer, Ghamkol Shareef, near Kohat, NWFP
[Wisaal: 21-03-1999] [Google Map] [Portrait] [Outside Mazar]
He was Discipline and Khalifa of Hazrat Khawaja Muhammad Qasim Mohra Sharif, Murree.
- Photos shared by Mr. Mansoor Ali (pasha1978@hotmail.com)

Hazrat Sheikh Rehemkar aka Kaka Sahib, Noshehra

± AJK - Smaller Towns آزاد کشمیر اور ذیلی علاقے

Hazrat Ban Saieen, Dadyal, AJK [Google Map]

Hazrat Peer Plak, near Dadyal, AJK [Google Map]

Hazrat Sai Sakhi, Kaladab [Google Map]

Unknown Mazar at Panag, Kotli [Google Map]
If you know anything about this mazar, please let us know.

Hazrat Khawaja Sultan Peer Ghulam Muhayuudin

Hazrat Saeen Muhammad Akbar, Fakeerabad

± Sindh - Smaller Towns صُوبہ سندھ اور ذیلی علاقے

Hazrat Makhdum Bilawal, Goth Makhdum Sahib, Sindh [Google Map]

Hazrat Pir Syed Ahmed Shah Ghazi Jillani, Ranipur, Sindh [Google Map] [Qaber Shareef]

Hazrat Samundari Baba, Goth Abdul Rahman [Google Map]

Hazrat Al-Makhdoom Syed Fazal Hussain Shah Gillani, Sanghar [Google Map]

Hazrat Fakeer Haji Bisham Barohi, Goth Haji Bisham [Google Map] [Direction Board]

Hazrat Kashti Walay Baba, Marli Hills, near Thatha [Google Map]

Hazrat Abdullah Shah Ashabi, Marli Hills, near Thatha [Google Map] [Google Map - Closer]

Unknown Mazar at Samoni [Google Map]
If you know anything about this mazar, please let us know.

Unknown Mazar at Mangsi [Google Map]
If you know anything about this mazar, please let us know.

Hazrat Syed Abdul Rahman Baba, Samoni [Google Map]

Hazrat Shah Murad Sherazi, Samoni [Google Map]

Hazrat Noori Jam Tamachi, in the middle of Kinjhar Lake
[Google Map] [Wikipedia]

Hazrat Lashkar Shah Khurasi, Goth Adal, near Tandu Adam [Google Map]

Hazrat Fakeer Ghulam Hyder, Khori, near Tandu Mitha Khan [Google Map]

Hazrat Laki Shah Sadar, Laki, between Abad and Sehwen [Google Map]

Hazrat Qadir Bakhsh aka Baba Kandu Fakir, Jhol [Google Map]

Hazrat Syed Ali Shah, Kameji [Google Map]

Hazrat Dharmon Fakeer, Goth Haji Sulaiman [Google Map]

Hazrat Ghazi Ghulam Haider Rafeequi, Khori [Google Map]

Unknown Mazar at Sanghar [Google Map]
If you know anything about this mazar, please let us know.

Unknown Mazar at Sindhri [Google Map]
If you know anything about this mazar, please let us know.

Hazrat Syed Sakhi Saadi Mosati, Nawa Goth [Google Map]

Hazrat Pir Sain Rashid Roze Dhani, Pir Jo Goth [Google Map] [Qaber Shareef]

Hazrat Qibla Syed Gul Muhammad Shah Bukhari, Hussainabad Sharif Kamber, Sujawal [Google Map]

Hazrat Syed Sakhi Jamil Shah Datar Gurnari, Pir Patho [Google Map]

Hazrat Khwaja Allah Bakhsh [Wikipedia]

Hazrat Ali Bakhsh aka Allan Fakir, Housing society Jamshoro [Wikipedia] [Video]

± Balochistan - Smaller Towns صُوبہ بلوچِستان اور ذیلی علاقے

Hazrat Khidhar Zinda Peer, Astola Island in Arabian Sea (40 kilometers offshore)
[Urdu: حضرت خضر زِندہ پیر] [Google Map] [View]

Hazrat Bano Nammer, Pishukan Beach, between Gwader and Pasni
[Urdu: حضرت بانو نامَر] [Google Map]

Hazrat Makhdoom Nooh, Hala, near Bhit Shah
[Urdu: حضرت مخدُوم نُوح] [Google Map]