visitors

free counters

Sunday, 25 September 2011

کتاب المغازی الواقدی تعارف و تجزیہ


تعارف کتاب:
تیسری صدی ہجری کے امام السیر والمغازی امام فی التاریخ اور عظیم ترین سوانح نگار ابو عبداللہ محمد بن عمر واقد متوفی ٢٠٧ھ کی شخصیت اہل سیر والمغاز ی میں ایک روشن ستارے کی طرح نظر آتی ہے۔عمومی طور پر علمی حلقہ میں محمد بن عمر واقد ''واقدی ''کے نام سے جانے جاتے ہیں اس کی وجہ شہر ت آپکی تصنیف ''کتاب المغازی ''ہے جو کہ سیر ت نگاروں کے لیئے مرجع و ما خذ کی حیثیت سے اہم مقام رکھتی ہے اس کی وجہ ایک تو یہ ہے کہ امام واقدی بالکل ابتدائی سیر ت نگار وں میں سے ہیں دوسرا وہ واقعات کو انتہائی قریب سے اور بڑی گہرائی سے بیان کرتے ہیں۔ اس کتاب کی تین جلدیں ہیں اور اسے موسسہ الا علمی لمطبوعات، بیروت ۔ لبنان نے شائع کیااور سن اشاعت کا ذکر نہیں کیا گیا۔
مضا مین کتاب المغازی (الواقدی)
جزواول کا آغاز مقدمہ الکتا ب سے کیا گیا ہے ۔ کتاب المغازی میں صرف مدنی زندگی بیان کی گئی اور مکی زندگی کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے ،مقدمہ کے بعد مصنف نے غزوات کا بیان شروع کیا ہے ان میں سر یہ حمزہ بن عبدالمطلب ، سریہ عبیدہ بن الحارث ابی رابغ ، سریہ سعدبن ابی وقاص الی الخرار، غزوۃ الا بو ا، غز وہ بواط، غز وہ بدراولی، غز وہ ذی العشیر ۃ، سریہ تخلہ ، سریہ عبداللہ بن جیش جنگ بدر، بدر میں ایسے مشرکین جن پر طعن کیا گیا، اولین قیدی لوگوں کے نام ، مشرکین میں سے قیدیوں کا بیان، بدر میں حاضر ہونے والے مسلمانوں کے نام، بدر میں قتل ہونے والے مشرکین ، قریش اورا نصار میں سے شہید ہونے والوں کے نام ، سریہ قتل عصما بنت مروان، سریہ قتل ابی عفک، غزوہ قینقا ع،غزوہ سویق ، غزوہ قرارۃ الکدر،قتل کعب بن اشرف ، غزوہ غطفان غزوہ بنی سلیم ، سریہ القردہ، غزوہ احد، احد میں شہید ہونے والے، مشرکین میں سے قتل ہونے والوں کے نام، احد میں نزول قرآن ، غزوہ حمراالا سد، غزوہ ابی سلمہ بن عبدالا سد، غزوہ بئر معونہ، قریش میں سے حاضرین کے نام ، غزوہ الرجیع ، غزوہ بنو نصیر ، بنو نصیر میں نزول قرآن ، غز وہ بدر الموعد ، سریہ ابن عتیک الیٰ ابی رافع، غزوہ ذات الرقاع غزوہ دومۃ الجندل اور غزوہ المریسیع پر پہلی جلد کا اختتام ہوتا ہے۔ (۱)
پھر دوسری جلد کا آغاز واقدی نے ابن ابی کے بارے میں حکم سے کیا دیگر عنوانا ت میں سے حضرت عائشہؓ اور واقعہ افک کا بیان ، غزوہ خندق ، خندق میں نزول قرآن ، خندق میں شہید ہونے والے مسلمانوں کا ذکر ، مشرکین میں سے قتل ہونے والوں کے نام ، مال غنیمت کی تقسیم ، بنو قریظہ کے گھیرے میں شہید ہونے والے مسلمان ،سریہ عبداللہ بن انیس ابی سفیان بن خالد، غزوہ القرطاء ، غزوہ بنی لحیان ، غزوہ الغابہ، مسلمانوں اور مشرکین میں قتل ہونے والوں کے نام، سریہ عکاشہ، سریہ محمد بن مسلمہ ابی ذی القصہ، سریہ ذی قصہ میں امیر ابو عبیدہ ، سریہ زید بن حارثہ، سریہ دومتہ الجندل اور امیر عبد الرحمن ، سریہ علی بن ابی طالب الی بنی سعد بغدک ، سریہ کر زبن جابر، غزوہ الحدیبیہ ، غزوہ خیبر، غزوہ خیبر میں آپ ؐ کے ساتھیوں کے نام ، خیبر سے قبل کہے گئے اشعار کا ذکر، فد ک کا حال، رسول اللہ کا خیبر سے مدینہ تک سفر سرہ عمر بن خطاب (الی تربۃ) سریہ ابی بکر (الی نجد)، سریہ بشیر بن سعد (الی فدک) ،سریہ بنی عبد بن ثعلبہ ، عمر وبن العاص کا اسلام لانا، سریہ امیر ھا غالب بن عبداللہ بالکدید، سریہ کعب بن عمیر الی ذات اطلاع، سریہ شجاع بن وھب، سریہ الی خثعم بتبالہ، غزوہ موتہ، بنو ہاشم میں سے غزوہ موتہ میں موجود لوگ، غزوہ ذات السلاس ، سریہ الحبط (امیر ابو عبیدہ)، سریہ خضیرہ (امیر ابو قتادہ) اور دوسری جلد کا آخری عنوان غزوہ الفتح کا بیان ہے۔ (۲)
کتاب المغازی الوا قدی کی تیسری جلد کا آغاز واقعہ انہدام عزی سے ہوتا ہے دیگر واقعات میں یو م فتح میں شہید ہونے والے مسلمان ، عزوہ بنو خذیمہ، غزوہ حنین، حنین میں حاضرین کے نا م، غزوہ طائف کا بیان ، طائف میں حاضرین کے نام ، آپ ؐ کے جعرانہ کے طرف سفر کا حال، وفدھوازن، عاملین زکوۃ ، الو لید بن عقبہ کا بنی مصطلق کی طرف تقرر ، سر یہ قطبۃ بن عامر الی خثعم ، سریہ بنو کلاب (امیر الصحاک بن سفیان الکلابی )،سریہ امیر علقمہ بن مجزز المدالجی کا حال ، سریہ علی بن ابی طالب (الی الفلس)، غزوہ تبوک ، غزوہ تبوک اور نزول قرآن کا بیان ، غزوہ اکید ربن عبد الملک، دومتہ اجنرل ، حضرت ابو بکر ؓ کا حج ، سریہ علی بن ابو طالب (یمن )، صدقات کے طور پر کیا چیز لی جا ئے ، حجۃ الوداع میدان عرفات میں آپ ؐ کا خطبہ قبل نماز، رسول اللہ ؐکے بال مبارک کا ٹنے کا ذکر، آپ ؐ کا خطبہ یو م نحر، حجۃ الوداع کے بعد سعد بن ابی وقاص کی عیا دت اور غزوہ اسامہ بن زید (موتہ) کے نام شامل ہیں۔(۳)
اسلوب ومنہج کتاب المغازی:
مدنی دور کا بیان
واقدی نے کتاب المغازی میں مکی زندگی کوبالکل بیان نہیں کیا کتاب المغازی کی ابتدا رسول ؐ کی مدنی زندگی سے کی ہے۔ وہ ہجرت سے شروع کرتے ہیں۔جیسا کہ بیان کرتے ہیں۔ فکتبت لکل الذی حدثونی، قالوا: قدم رسول ؐ المدینۃ یوم الاثنین لاثنتی عشرۃ مضت من شھر ربیع الاوّل۔(۴)
(پس جس نے بھی مجھے بیان کیا میں نے لکھا کہ انہوں نے کہا کہ رسول ؐ پیر کے دن بارہ ربیع الاول کو مدینہ تشریف لائے)
احادےث نبویہ ؐکی سند کا سلسلہ:
امام واقدیؒ نے مغازی کو بیان کرتے ہوئے جن محدثین ،تابعین سے روایات اکٹھی کی ہیں۔ انکی مکمل سند، بیان کرتے ہیں کہ میں نے یہ روایت فلاں فلاں صاحب سے حاصل کی ہے۔ جیسے رسول ؐ کے مدینہ میں جانے سے متعلق جن جن محدثین کے واسطوں سے انہیں یہ روایت پہنچی ہے ان سب کو بیان کیا ہے۔ جیسے اخبرنأ ابو محمد الحسن بن علی بن محمد الجوھری قال: حدثنا ابؤ عمرمحمد بن العباس بن محمد بن زکریا بن صیویہ لفظاً، قال:قریئ علی أبی القاسم عبدالوھاب بن أبی حیۃً من کتابہ وأنا أسمع۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وعبدالحمید بن عمران بن أبی أنس وعبدالحمید بن أبی عبس۔(۵)
غزوات کی تاریخ :
امام واقدی عمومی طور پر کسی غزوہ کا نام ذکر کرنے کے بعد سب سے پہلے اس غزوہ کی تاریخ کے متعلق بتلاتے ہیں کہ یہ کب واقع ہوا مثلاً ''غزوہ دومۃ الجندل''کے تحت:فی ربیع الاوّل علی رأس تسعۃ و اربعین شھرا۔(۶)(ربیع الاول میں ٤٩مہینوں کے گزرجانے کے بعد شروع میں واقع ہوا)
مغازی کے سلسلہ میں قرآن کا شان نزول :
امام واقدی نے جہاں مغازی کے ضمن میں گہرائی سے روایات بیان کی ہیں اسکے ساتھ ساتھ قرآن مجید کی رو سے غزوات ومغازی کے حوالہ سے شان نزول بھی بیان کرتے ہیں جیسا کہ غزوہ احد کے ضمن میں لکھتے ہیں۔ اذھمت طائفتان منکم ان تفشلا۔۔۔۔۔۔الی آخرالایۃ۔(۷)(امام واقدی بیان کرتے ہیں کہ طائفتان سے مراد بنوسلمۃ اور بنوحارثہ ہیں انہوں نے ارادہ کیا تھا کہ وہ نبیؐ کے ساتھ احد کی طرف نہیں جائیں گے)
غزوات کے متعلق تمام روایات کا احاطہ:
امام واقدی کا ایک بہت ہی عمدہ اسلوب یہ ہے کہ کسی غزوۃ کے متعلق جتنی بھی روایات ملتی ہیں انہیں بیان کردیتے اس طرح اس کے جزوی پہلوؤں کابھی احاطہ ہوتا رہتا ہے جیسے غزوۃالقضیۃ میں پہلے محمد بن عبداللہ سے روایت بیان کرتے ہیں۔غزوۃالقضیہ میں رسول اللہؐ کے ساتھ سوائے حدیبیہ والوں کے سب شریک تھے۔ (یعنی جو لوگ صلح حدیبیہ میں شریک نہ تھے وہ اس غزوہ میں بھی شریک نہ تھے)
پھر دوسری روایت میں خارجہ بن عبداللہ سے بیان ہے جس میں رسول ؐکا ذی القعدہ میں سند ٧ ہجری میں چارمہینوں کے بعد اوائل میں غزوہ کےلئے نکلنا بیان کرتے ہیں۔(۸)
عنوانا ت کی کمی:
امام واقدیؒ نے سیرت نگاری میں خاص اسلوب قائم کیا ہے کہ عنوانات کے تحت ابن اسحاقؒ یا ابن ہشام کی طرح عناوین(
Headings)بہت کم قائم کیے ہیں ایک دفعہ مضمون جس عنوان سے چلاتے ہیں تو پھر اسے تفصیل کے ساتھ آگے لے کر چلتے ہیں ایسانہیں ہے کہ درمیان میں ساتھ ساتھ نئے عنوانات بھی قائم کریں۔انہوں نے صرف خاص خاص عنوانات قائم کیے ہیں ذیلی عنوانات کی طرف نہیں گئے ہیں جیسا کہ فہرست عناوین سے ظاہر ہے۔مثلاًـواقدی نے غزوہ قینقاع(۹)،غزوہ السویق(۱۰)،غزوہ قرارۃالکدر(۱۱)،قتل ابن الاشرف (۱۲)

واقعات ِسیرت کاباسند بیان:
امام واقدیؒ نے کتاب المغازی میں سیرت رسولؐ کو بیان کرنے میں حالات وواقعات کو سند کے ساتھ بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ کتاب کی حسن ترتیب وعمدگی کے اعتبار سے بعد کے سیرت نگاروں کےلئے ماخذ ومرجع کی حیثیت حاصل ہے۔
غزوات و سرایا کی تعداد
کتاب المغازی میں واقدی کے مطابق آنحضرت ؐ کے غزوات کی تعداد(٢٧)ستائیس ہے جبکہ طبری نے ابوجعفر کی روایت کے حوالے سے لکھا ہے کہ آپؐ نے (٢٦)چھبیس غزوات میں شرکت فرمائی۔ فرق اس بات کا ہے کہ غزوہ خیبر سے مدےنہ واپس آنے سے پہلے وادی القری کے سفر کو جو لوگ غزوہ کہتے ہیں ان کے مطابق غزوات کی تعداد ٢٧ ہے اور جوان دونوں(غزوہ خیبر اوروادی القری)کو ایک تصور کرتے ہیں ان کے مطابق غزوات کی تعداد٢٦ہے۔ اسی طرح سرایا کی تعداد میں اختلاف پایاجاتاہے۔ واقدی کے مطابق ٤٧، ابن ہشام کے مطابق ٣٨اور طبری کے مطابق ٣٥سرایا ذکر کئے گئے ہیں۔

تفردات:
کتاب المغازی میں چند مقامات پرتضاد بھی پایا جاتا ہے جیسا کہ وہ ایک جگہ غزوہ رجیع کو ہجرت کے ٣٦ ویں مہینے ماہ صفر کے شروع میں ذکرکیا ہے اور لکھا ہے کہ اس غزوہ میں مسلمانوں پر حملہ سفیان بن خالد بن نبیح الہذلی کے قتل کے بعد ہوا لیکن دوسری جگہ پر وہ سفیان بن خالد بن نبیح الہذلی کے قتل کی تاریخ ہجرت کا ٥٤ واں مہینہ ماہ محرم ذکر کیا گیا ہے۔(۱۳)
واقدی نے آپ ؐ کے معاہدات کی تفصیل بھی محفوظ کی ہے۔ اس طرح یہ تاریخی اور اہم معاہدات استفادہ کے لیے محفوظ ہو گئے ہیں۔(۱۴)
واقدی نے مختلف مقامات کا حدود اربعہ اور ان مقامات کے درمیان فاصلہ کو بھی لکھا ہے جس سے معلوم ہوا کہ واقدی جغرافیہ کا بھی علم رکھتا تھا۔ (۱۵)
واقدی نے آپ ؐ کے غزوات میں شرکت کے لیے تشریف لے جانے کی وجہ سے پیچھے مدینہ میں نائبین کا تقرر کرنے کا تذکرہ ترتیب سے کیا ہے۔ (۱۶)
واقدی کا ایک منفرد اسلوب یہ بھی ہے کہ اس نے سریہ حمزہ سے غزوہ دومتہ الجندل تک واقعات کو مہینوں کے حساب سے ذکر کیا ہے (۱۷) پھر اس کے بعد کے واقعات میں پورے سال یعنی سن ہجری کا تذکرہ کیا ہے۔(۱۸)
محمد بن عمر الواقدی کے احوال و آثار اور کتاب المغازی کے مطالعہ سے ان کی شخصیت کی جو تصویر قاری کے سامنے آتی ہے اس کے مطابق سیرت و مغازی میں واقدی کو بہت اہمیت حاصل ہے آپ تاریخ رجال و طبقات اور اخبار کے جامع عالم تھے مغازی کے ابتدائی مصنیفین میں سے ہیں مدینہ میں تقریباً ُپچاس سال تک حدیث کی روایت کی ۔ ان کے متعلق علماء رجال کے اقوال مختلف ہیں ان کی مدح کے ساتھ ساتھ قدح میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی ۔ علماء اسماء الرجال کے اقوال کے مطالعہ سے یہ با ت سامنے آتی ہے کہ اصحاب اسماء الرجال، جرح وتعد یل کے میدان میں واقدی کے متعلق تین طبقات میں منقسم ہیں ایک طبقہ نے ان پر جرح ،دوسرے نے ان پر تعدیل اور تیسرے طبقہ نے جرح و تعدیل دونوں کی ہیں لیکن سیر و مغازی میں وہ بالا جماع ثقہ ہیں ۔مجموعی طور پر واقدی ثقہ، وسیع العلم اور علم الحدیث کے ماہر تھے
انساب ، تاریخ،رجال ، اخبار طبقات اور حدیث کے تقریباً تمام مصنفین نے ان سے استفادہ کیا ہے اور واقدی کے قول وروایات کے بغیر ان کی تصانیف نامکمل رہتی ہیں کتاب لمغازی تین جلد وں پر مشتمل ہے جس میں مغازی رسول ہجرت سے لے کر وصال تک کے احوال و واقعات بیان کیے گئے ہیں ،سیرت ومغازی کے حوالے سے کتاب المغازی ایک معتبر اور مستند کتاب ہے ۔

۱۔مغازی،ص ٤١٤-١
۲۔ص٧٨٠-٤١٥
۳۔ص١١١٧-٧٨٠
۴۔ص١/٤
۵۔ص١/٢۔١
۶۔٠١/٤٠٢
۷۔آل عمران:١٢١
۸۔ المغازی ،ص٢/٧٣١
۹۔ص١/١٧٦
۱۰۔ص ١/١٨١
۱۱۔ص١/١٨٢
۱۲۔ص١/١٨٤
۱۳۔٢/٥٣١
۱۴۔١/١٩٢،١٧٦،١٢
۱۵۔١/١٢، ١١،١٠،٦،٥،٢
۱۶۔ص ١/٨-٧
۱۷۔٤١-٢
۱۸۔١/٧-٤

پروفیسر محمد طاہر القادری تعارف و تبصرہ


پیدائش اور تعلیم
'محمد طاہر القادری' ١٩ فروری ١٩٥١ء کو جھنگ میں پیدا ہوئے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ ان کا کسی مکتبہ فکر سے تعلق نہیں ہے لیکن اپنی تقریر وتحریر میں بریلوی مسلک کی صریح حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کے والد محترم کا نام پروفیسر فرید الدین قادری ہے اور وہ 'سیال' خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔١٩٧٥ء میں ٢٤ سال کی عمر میں پروفیسر صاحب کی پہلی شادی ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے دو مزید شادیاں کی۔ ان کی پہلی شادی جھنگ، دوسری ناروے اور تیسری کراچی سے ہے۔

ان کے بڑے صاحبزادے کا نام حسن محی الدین قادری ہے جو تحریک منہاج القرآن کی مجلس شوری کے صدر ہیں اور انہوں نے منہاج یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ اورعربیہ میں ایم۔اے کیاہے اور آج کل مصر سے میثاق مدینہ کے موضوع پر پی۔ایچ۔ڈی کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایل۔ایل۔بی بھی کیا ہے۔ چھوٹے صاحبزادہ حسین محی الدین قادری نے فرانس میں سائنس ٹو یونیورسٹی ،پیرس سے ایم۔بی۔اے کیا ہے اور آج کل آسٹریلیا یونیورسٹی سے گلوبل اکنامکس میں ڈاکٹریٹ کر رہے ہیں۔

پروفیسر صاحب نے ١٩٦٦ء میں میڑک کا امتحان اور ١٩٦٩ء میں ایف ۔ایس۔سی کا امتحان پاس کیا۔١٩٧٠ء میں پنجاب یونیورسٹی سے بی۔اے کا امتحان پرائیویٹ سٹوڈنٹ کے طور پر پاس کیا۔١٩٧٣ء میں پنجاب یونیورسٹی ہی سے علوم اسلامیہ میں ایم ۔اے کیا۔ علاوہ ازیں ان کے بقول انہوں نے جامعہ قطبیہ رضویہ، جھنگ سے ١٩٦٣ء تا ١٩٧٠ء کے دوران درس نظامی کی بھی تکمیل کی۔ ١٩٧٥ء میں ایل۔ایل۔بی کا امتحان پاس کیا۔ ١٩٨٦ء میں انہیں پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے اسلامی سزاؤں میں قانون کی ڈگری دی گئی۔موضوع کا عنوان ''Punishment in Islam, Their Classification and Philosophy'' تھا۔ 

پروفیسر طاہرالقادری صاحب کے تعلیمی کیریئر میں ہمیں ایل۔ایل۔ایم کی کسی ڈگری کا تذکرہ نہیں ملا۔ ایل۔ایل۔بی کے بعد براہ راست پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری کا تذکرہ ملتا ہے۔ 

غالباً ڈاکٹریٹ کی یہ ڈگری شعبہ اسلامیات کے تحت جاری ہوئی ہے لہذا یہ علوم اسلامیہ میں پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری ہے لیکن موضوع کی مناسبت سے اسے اسلامک لاء میں پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری قرار دیا گیا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ پنجاب یونیورسٹی میں فیکلٹی آف لاء کے تحت ١٩٨٦ء میں پی۔ایچ۔ڈی کی کی پہلی دفعہ رجسٹریشن ہوئی اور پروفیسر طاہرالقادری صاحب ١٩٨٦ء میں پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری حاصل کر چکے تھے۔ پروفیسر طاہر القادری صاحب کے لاء کالج میں اسلامک لاء یعنی فقہ اسلامی پڑھانے کے سبب سے ان کی علوم اسلامیہ کی پی۔ایچ۔ڈی کے بارے یہ گمان عام ہو گیا کہ شاید وہ فیکلٹی آف لاء کے پی۔ایچ۔ڈی ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ وہ علوم اسلامیہ میں پی۔ایچ۔ڈی ہیں۔ ادارہ منہاج القرآن اور پروفیسر صاحب کی طرف سے اپنے تعارف میں کہیں بھی یہ واضح نہیں کیا جاتا ہے کہ ان کی یہ پی۔ایچ۔ڈی کس شعبہ سے ہے؟ واللہ اعلم اس کو چھپانے میں کیا حکمت ہے؟ اگر تو اس سے یہ تاثر عام کرنا مقصود ہے کہ پروفیسر صاحب لاء میں پی۔ایچ۔ڈی ہیں تو یہ طرز عمل مناسب نہیں ہے۔

مذہبی اور سیاسی کیریئر
پروفیسر محمد طاہر القادری صاحب نے ١٩٧٤ء میں گورنمنٹ کالج، عیسی خیل، میانوالی میں علومہ اسلامیہ کے لیکچرر کے طور پر اپنی سروس کا آغاز کیا۔ ١٩٧٥ء میں اس عہدہ سے استعفی دے دیا۔ ١٩٧٦ء میں بطور ایڈوکیٹ کے جھنگ ڈسٹرکٹ کورٹ میں پریکٹس شروع کی۔ ١٩٧٦ء میں جھنگ محاذ حریت کے نام سے نوجوانوں کی ایک تنظیم بنائی۔ 
١٩٧٨ء میں جھنگ سے لاہور منتقل ہوئے اور اسی سال پنجاب یونیورسٹی میں لاء کالج میں اسلاک لاء یعنی فقہ اسلامی کے لیکچرار مقرر ہوئے اور ١٩٨٣ء تک بطور لیکچرار ملازمت کی۔اسی سال انہیں حکومت پاکستان نے وفاقی شرعی عدالت کا مشیر فقہ نامزد کیا۔

١٩٨١ء میں 'قرآن کانفرنس' کے ذریعے 'منہاج القرآن' کے قیام کی دعوت شروع کی۔ ١٩٨٢ء میں حکومت پاکستان نے انہیں سپریم کورٹ آف پاکستان کے" شریعت ایپلٹ بنچ'' کا مشیر مقرر کیا۔ '

١٩٨٢ء میں ایران کا دورہ کیا اور آیت اللہ خمینی وغیرہ سے ملاقاتیں کیں۔ ١٩٨٢ء میں میاں نواز شریف صاحب کی جامع مسجد اتفاق کالونی، ماڈل ٹاؤن، لاہور میں خطابت شروع کی اور میاں فیملی سے ان کے یہ تعلقات اوائل ٨٨ء تک جاری رہے اور اس کے بعد ان میں شدید کشیدگی پیدا ہوگئی۔

١٩٨٣ء میں پی۔ٹی۔وی پر فہم القرآن کے خطبات کا آغاز کیا۔ اسی سال ایم بلاک، ماڈل ٹاؤن میں ٢٠ کنال کی زمین ادارہ منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ اور مسجد کے لیے خریدی گئی۔ ١٩٨٤ء میں ادارہ منہاج القرآن کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ 

اسی سال ان کے بقول انہیں ادارہ منہاج القرآن کے قیام کے حوالہ سے خواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کچھ بشارتیں بھی حاصل ہوئیں۔ 

١٩٨٦ء میں منہاج القرآن یونیورسٹی کے قیام کے لیے ٹاؤن شب میں ٢٠٠ کنال زمین حاصل کی گئی اور ١٩٨٧ء میں اس کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ ١٩٨٦ء میں ادارہ منہاج القرآن کا دستور منظور ہوا، مرکزی مجلس شوری اور مجلس عاملہ کا انتخاب ہوا۔ ماڈل ٹاؤن اور ٹاؤن شپ کی زمین کے بارے بعض حلقوں کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ یہ نواز فیملی کی نوازشات تھیں۔ واللہ اعلم بالصواب

١٩٨٩ء میں پاکستانی عوامی تحریک کے نام سے سیاسی جماعت بنائی اور اس کے تحت ۱۹۹۰ء کے عوامی انتخابات میں حصہ لیا۔ ۱۹۹۰ ء میں انکی رہائش گاہ پر قاتلانہ حملہ ہوا اور اسی سال عدالت نے اس واقعہ کو غیر حقیقی اور ڈرامہ قرار دیا اور پروفیسر ظاہر القادری صاحب کو غیر صحت مند ڈہن کا حامل بتایا۔  
١٩٩٥ء میں انہوں نے عوامی تعلیمی منصوبے کا آغاز کیا۔ منہاج انسائیکلوپیڈیا ویب سائیٹ کے مطابق اس تعلیمی منصوبے کے تحت ١٢ کالجز اور ٥٧٢ سکولز کام کر رہے ہیں۔ 

١٩٩٨ء میں 'پاکستان عوامی اتحاد' کے صدر بنے جس میں پیپلز پارٹی سمیت ١٩ سیاسی جماعتیں شامل تھیں۔ 

٢٠٠٣ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے ان کے ادارہ منہاج القرآن کا وزٹ کیا اور اس کی تاحیات رکنیت حاصل کی۔ اس رکنیت کی ویڈیو میں ایسے مناظر دکھائے گئے ہیں جو اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں مثلاً پروفیسر صاحب محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ ایک مجلس میں ساتھ تشریف فرما اور محو گفتگو ہیں جبکہ محترمہ کے سر پر نہ تو دوپٹا ہے اور نہ ہی کھلے گریبان پر کوئی کپڑا۔

کتب و رسائل
پروفیسر طاہر القادری صاحب کی طرف تقریباً ٤٠٦ کتب اور کتابچوں کی نسبت کی جاتی ہے جن میں سے ١٩ عربی میں اور ٣٩ انگریزی میں اور بقیہ اردو زبان میں ہیں۔ پروفیسر طاہر القادری صاحب کی معروف کتابوں میں میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم،ترجمہ عرفان القرآن، المنہاج السوی من الحدیث النبوی، اسلام اور جدید سائنس، دہشت گردی اور فتنہ خوارج، شان اولیاء، تخلیقات کائنات، الفیوضات المحمدیة، فلسفہ معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم، القول المعتبر فی الامام المنتظر، العرفان فی فضائل وآداب القرآن، احسن الصناعة فی اثبات الشفاعة، زیارت قبور، السیف الجلی علی منکر ولایة علی، برکات مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ، اسلام میں خواتین کے حقوق، شہر مدینہ اور زیارت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، ذبح عظیم، ارکان اسلام، گستاخان رسول کی علامات، شہادت امام حسین حقائق وواقعات، شمائل مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم، مسئلہ استغاثہ اور اس کی شرعی حیثیت، عقائد میں احتیاط کے تقاضے، درود شریف کے فضائل وبرکات، مناجات امام زین العابدین، تبرک کی شرعی حیثیت، اسیران جمال مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم، اسلامی نظام معیشت کے بنیادی اصول، مرج البحرین فی مناقب الحسنین علیہما السلام، اہل بیت اطہار سلام اللہ علیہم کے فضائل ومناقب، حیاة النبی صلی اللہ علیہ وسلم، کتاب التوسل،میثاق مدینہ کا آئینی تجزیہ، بدعت ائمہ و محدثین کی نظر میں، معارف آیة الکرسی، عقیدہ توحید اور غیر اللہ کا تصور، القول الوثیق فی مناقب الصدیق، القول الصواب فی مناقب عمر بن الخطاب، روض الجنان فی مناقب عثمان بن عفان، کنز المطالب فی مناقب علی بن ابی طالب، تذکرہ فرید ملت، بدعت کا صحیح تصور، خوابوں اور بشارات پر اعتراضات کا علمی محاکمہ، حقوق والدین، رب العالمین کی علمی اور سائنسی تحقیق، امام ابو حنفیہ امام الائمہ فی الحدیث، خصائص مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم، اسمائے مصطفی، اسلام کا تصور علم، وسائط شرعیہ،عقیدہ ختم نبوت، عقیدہ توحید کے سات ارکان، النجابة فی مناقب الصحابة والقرابة، العقد الثمین فی مناقب امھات المؤمنین، اسلام میں بچوں کے حقوق، فلسفہ صوم، سیرة الرسول صلی اللہ علیہ وسلم، ایصال ثواب اور اس کی شرعی حیثیت، اسلام میں اقلیتوں کے حقوق، فساد قلب اور اس کا علاج، حیات ونزول مسیح اور ولادت امام مہد ی علیہما السلام وغیرہ۔

علاوہ ازیں ماہنامہ 'منہاج القرآن' اور 'دختران اسلام' کے نام سے مردو زن کے لیے دو دعوتی وتحریکی رسائل بھی شائع کیے جاتے ہیں۔ 

ان کی اکثر وبیشتر کتب اس http://www.minhajbooks.com  

ویب سائیٹ پر ڈاؤن لوڈ کرنے اور آن لائن مطالعہ کی سہولت کے ساتھ پی۔ڈی۔ایف اور یونی کوڈ فارمیٹ میں موجود ہیں۔

کتب ورسائل پر ایک اجمالی تبصرہ
بعض لوگوں کو اس پر حیرت ہوتی ہے کہ پروفیسر طاہر القادری صاحب نے اس قدر تنظیمی، انتظامی، تحریکی اور دعوتی مصروفیات کے باوجود اتنی کتابیں کیسے لکھ لی ہیں؟ ہمارے خیال میں جس نے بھی پروفیسر صاحب کی کتب کا بغور مطالعہ کیا ہو اس کے لیے اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کیونکہ اکثر وبیشتر یہ کتب کی بجائے کتابچے ہیں 

مثلاً 'قرآن اور فلسفہ تبلیغ' ٢٠ صفحات اور 'مذہبی اور غیر مذہبی علوم کے اصلاح طلب پہلو' ٢٤ صفحات اور ' تحریک منہاج القرآن کا تصور دین' ٢٨ صفحات اور ' خدمت دین کی توفیق' ٣٢ صفحات اور 'سیرت نبوی کی عصری وبین الاقوامی اہمیت' ٣٢ صفحات اور 'اقبال اور پیغام عشق رسول' ٣٩ صفحات اور 'ہمارا اصل وطن' ٤٨ صفحات اور 'اقبال کا مرد مومن' ٤٨ صفحات اور 'فلسفہ تسمیہ ' ٤٤ صفحات اور 'معارف اسم اللہ ' ٤٢ صفحات اور 'عمر رسید ہ اور معذور افراد کے حقوق' ٤٨ صفحات پر مشتمل ہیں۔دوسری بات یہ ہے کہ یہ کتابچے بھی دراصل پروفیسر صاحب کی تقاریر کو صفحات قرطاس پر منتقل کیا گیا ہے۔  پروفیسر طاہر القادری صاحب کے ہاں١٩٨٧ء میں ہی 'منہاج القرآن رائٹرز پینل' کے نام سے ایک ادارہ بنایا گیا تھا جو اب 'فرید ملت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ' کے نام سے معروف ہے جس کے ریسرچ اسکالرز پروفیسر صاحب کی تقاریر کی صفحہ قرطاس پر منتقلی، ان کی کمپوزنگ، تقدیم وترتیب،تخریج وتحقیق اور نشر واشاعت کی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔ 

تیسری اہم بات یہ بھی ہے کہ پروفیسر صاحب کی شائع شدہ کتب میں تکرار بہت ہے یعنی بعض اوقات یوں بھی دیکھنے میں آیا ہے کی ایک کتاب کے پورے پورے ابواب دوسری کتاب میں بھی موجود ہیں اور دو کتابوں کے ایک ہی جیسے مضامین اور مواد دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ایک کتاب مستقل ہے اور دوسری کتاب اس پہلی کتاب سے ہی تیار کی گئی ہے

 مثلاً پروفیسر صاحب نے سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک کتاب لکھی اور ایک جلد میں 'مقدمہ سیرة الرسول' کے نام سے اس کتاب کا مقدمہ لکھا۔ بعد ازاں اس کتاب کے متفرق ابواب کو مختلف کتابچوں مثلاً 'سیرت رسول کی دینی اہمیت' اور 'سیرت رسول کی علمی وسائنسی اہمیت' اور 'سیرت رسول کی انتظامی اہمیت' اور 'سیرت رسول کی ریاستی اہمیت' وغیرہ کے عناوین سے شائع کر دیا گیا۔ اسی طرح پروفیسر صاحب نے 'کتاب البدعة' کے نام سے ایک کتاب لکھی اور بعد ازاں اس کتاب کے دسویں باب کو ایک مستقل کتابچہ 'البدعة عند الأئمہ والمحدثین' کے نا م سے شائع کر دیا گیا۔ اسی طرح اگر ہم 'اسلام اور جدید سائنس' اور 'تخلیق کائنات' اور 'رب العالمین کی علمی وسائنسی تحقیق'کا تقابلی مطالعہ کریں تو ان تینوں کتب کے مواد کا ایک بڑا حصہ ایک ہی جیسا ہے۔ اسی طرح معاشیات پر اگر پروفیسر صاحب کی کتاب 'اسلام کا معاشی نظام' اور 'اقتصادیات اسلام' کا مطالعہ کریں تو ان کے مواد کا ایک بڑا حصہ بھی ایک ہی جیسا ہے۔ علاوہ ازیں 'فلسفہ تسمیہ' اور 'تسمیة القرآن' کے مواد کا ایک بڑا حصہ ایک جیسا ہی ہے۔

پروفیسر صاحب 'تفسیر منہاج القرآن' کے نام سے اب ایک تفسیر مرتب کر رہے ہیں اور اس کی پہلی جلد سورة فاتحہ کی پہلی

چار آیات پر مشتمل ہے اور تقریباً٨٠٠ صفحات میں ہے۔ شاید اس تفسیر میں پروفیسر صاحب اپنی تمام کتابوں کو جمع کرنے کا ارادہ کرتے ہیں کیونکہ اس تفسیر کی پہلی جلد میں ہی انہوں نے اپنے کئی ایک کتابچوں مثلاً'فلسفہ تسمیہ'اور 'رب العالمین کی علمی وسائنسی تحقیق' اور 'معارف اسم اللہ' اور 'تخلیق کائنات' اور 'تسمیة القرآن' وغیرہ کو جمع کر دیا ہے۔

چوتھی بات یہ بھی ہے کہ پروفیسر صاحب کی کتب میں موضوع سے غیر متعلق اور غیر معیاری مواد کا ایک بڑا حصہ موجود ہوتا ہے مثلاً 'سیرة الرسول کی علمی وسائنسی اہمیت' نامی کتابچے میں دو ابواب میں سے ایک باب کا عنوان 'قرآن حکیم اور علمی وسائنسی ترقی' ہے۔ پاکستان میں خود کش حملوں کے بارے ان کی کتاب 'دہشت گردی اور فتنہ خوارج' کے ٩ ابواب میں سے ٣ ابواب غیر مسلم اور کفارکے حقوق اور جان ومال کے تحفظ کے بیان میں ہیں جبکہ پاکستان میں غیر مسلم نہ ہونے کے برابر ہیں اور اصل مسئلہ مسلمان شہریوں کے حقوق اور جان ومال کے تحفظ کا ہے۔

جہاں تک پروفیسر صاحب کی ضخیم کتب کی تیاری کا معاملہ ہے تو اس بارے ایک واقعہ نقل کیے دیتا ہوں۔ کئی سال پہلے مولانا لقمان سلفی صاحب، انڈیا سے پاکستان میں 'مجلس التحقیق الاسلامی' لاہور میں تشریف لائے۔ وہ انڈیا میں غالباً مکتبہ ابن تیمیہ کے نام سے لائبریری بنانا چاہتے تھے لہذا انہوں نے ادارہ کے بعض نوجوان ساتھیوں سے منہاج القرآن لائبریری کا وزٹ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ وہاں انہوں نے لائبریری کے ساتھ ان کے ریسرچ سنٹر کا بھی وزٹ کیا جس میں اس وقت تقریباً ٤٠ ریسرچ اسکالرز اور متعلقہ معاونین موجود تھے۔ مولانا لقمان سلفی صاحب نے جب ان حضرات سے ان کے کام کے بارے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ پروفیسر طاہر القادری صاحب ہمیں خطة البحث


(synopsis) دیتے ہیں اور اس کے مطابق ہم ایک مکمل کتاب تیار کر دیتے ہیں۔

کتب ورسائل کا علمی معیار
جہاں تک پروفیسر طاہر القادری صاحب کی کتب کے علمی معیار کی بات ہے تو راقم کو ان پر دو اشکالات ہیں۔ 

ایک یہ کہ جن کتب کا موضوع مذہبی اور دینی افکار ہیں تو ان میں ضعیف وموضوع روایات کی بھرمار ہے۔ 

پروفیسر صاحب ایک موضوع پر کلام کرتے وقت صحیح، حسن، ضعیف اور موضوع سب روایات جمع کر دیتے ہیں جس سےاس کی جو مکمل تصویر سامنے آتی ہے اس میں رطب ویابس سب جمع ہوتا ہے 

مثلاً پروفیسر صاحب نے اپنی کتاب'الدرة البیضاء فی مناقب فاطمة الزھراء' میں یہ روایت بیان کی ہے:

'' إنما سمیت بنتی فاطمة لأن اللہ فطمھا وفطم محبیھا عن النار۔''

'' میری بیٹی کا نام فاطمہ اس لیے رکھا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اور اس سے محبت رکھنے والوں کو دوزخ سے الگ تھلگ کردیا ہے۔''

امام ابن جوزی ،امام ذہبی، ابن عراق الکنانی اور امام شوکانی رحمہم اللہ نے اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے۔ علاوہ ازیں مناقب و فضائل سے متعلق ایسی مبالغہ آمیز موضوع روایات اسلامی معاشروں میں بے عملی کو فروغ دینے کا بہت بڑا سبب ہیں کہ جن کے مطابق بعض شخصیات سے صرف محبت کرنا ہی اخروی نجات کے لیے کافی ہے اور دینی کے کسی تقاضے یا فریضے پر عمل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

اسی طرح پروفیسر صاحب نے اپنی کتاب 'وسائط شرعیہ' میں یہ روایت نقل کی ہے:
'' لولاک لما خلقت الأفلاک''۔

'' اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہوتے تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔''

امام صنعانی، ملاعلی القاری، علامہ عجلونی اور علامہ البانی رحمہم اللہ نے اسے موضوع قراردیا ہے۔

اسی طرح پروفیسر صاحب نے بریلوی مکتب فکر کے عقائد ونظریات کے حق ہونے پر اس روایت سے استدلال کیا ہے۔
'' علیکم بالسواد الأعظم۔''

'' تم پر لازم ہے کہ تم سواد اعظم کو پکڑو۔''

امام ابن حزم، امام عراقی، ابن عبد الہادی اور علامہ البانی رحمہم اللہ نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔

اسی طرح پروفیسر صاحب نے اپنی کتاب 'زیارت رسول' میں یہ روایت نقل کی ہے:
'' من زار قبری وجبت لہ شفاعتی۔''

'' جس نے میری قبر کی زیارت کی تو اس کے لیے میری شفاعت واجب ہ جاتی ہے۔''

امام نووی، ابن القطان، دمیاطی،امام ابن تیمیہ،ابن عبد الہادی،امام ذہبی، ابن حجر عسقلانی، امام سیوطی،محمد بن محمد الغزی اور الوداعی رحمہم اللہ نے اسے ضعیف یا منکر قرار دیا ہے جبکہ علامہ البانی اور شیخ بن باز رحمہما اللہ نے اسے موضوع قرار دیا ہے۔ 

اسی طرح پروفیسر صاحب نے اپنی کتاب 'الفوز الجلی فی التوسل بالنبی صلی اللہ علیہ وسلم' میں یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے مغفرت کی دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے سوال کیا کہ آپ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے علم کہاں سے حاصل ہوا تو حضرت آدم علیہ السلام نے کہا کہ میں نے آپ کے عرش پر کلمہ 'لا لہ الا اللہ محمد رسول اللہ' لکھا ہوا دیکھا تھا۔ اس روایت کو امام بیہقی، امام ابن کثیر، امام شوکانی، امام صنعانی رحمہم اللہ نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے جبکہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اس روایت کے ضعف پر اتفاق ہے۔شیخ بن باز اور علامہ البانی رحمہما اللہ نے اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے۔

اس طرح اور بھی بیسیوں مثالیں ہیں لیکن ہم انہی کے بیان پر اکتفا کرتے ہیں۔ ان روایات کے ضعف ووضع کا اجمالی حکم  

 الدرر السنية نامی ویب سائیٹ پر ملاحظہ کریں۔

جہاں تک غیر مذہبی عناوین پر کلام کی بات ہے تو ان کتب کا معیار بھی معاصر علمی معیار کے بالمقابل انتہائی سطحی ہے مثلاً پروفیسر صاحب کی کتاب 'اسلام اورجدید سائنس' یا 'تخلیق کائنات' کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آپ اردو ڈائجسٹ میں سائنسی معلومات سے متعلق کسی مضمون کا مطالعہ کر رہے ہیں۔

پروفیسر صاحب میں تقریر وخطابت کی صلاحیتیں کافی ہیں اور انہیں ہزاروں کے مجمع کو متاثر کرنے کا فن آتا ہے لیکن ان کی تحریر کی صلاحیت بالکل متاثر کن نہیں ہے اور ان کی تحریر تکرار، سطحی معلومات، غیر مستند و غیر معیاری مواد پر مشتمل ، غیر مرتب اور معاصر تحقیقی اسالیب کے مطابق نہیں ہوتی ہے۔ 

جہاں خطابت کی بات ہے تو 

پروفیسر صاحب میں جوش خطابت بہت زیادہ ہے اور بعض اوقات اس جوش میں غیر معقول باتیں بھی کر جاتے ہیں مثلاً ایک تقریر میں فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی گلی کے کتوں کا گستاخ بھی کافر ہے۔ تفصیل کے لیے لنک دیکھیں:
‪Dr. Tahir-ul-Qadri is against declaring Shia,Deobandies whole group as Kafir 7‬‏ - YouTube

متجددانہ افکار وآراء
ذیل میں ہم پروفیسر صاحب کے بعض متجددانہ افکار و نظریات بیان کر رہے ہیں:
خواتین کے بارے لبرل خیالات کا اظہار
پروفیسر طاہر القادری صاحب خواتین کے حقوق کے بارے کافی لبرل سوچ کے حامل ہیں مثلاً انہوں نے اپنی کتاب 'اسلام میں خواتین کے حقوق' میں کہا ہے کہ عورت پارلیمنٹ کی ممبر بن سکتی ہے اور دلیل یہ بیان کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی خواتین مجلس شوری کی ممبر تھی یہی وجہ ہے کہ حق مہر کے متعین کرنے کے مسئلہ میں ایک خاتون نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر اعتراض کیا تھا اور اس اعتراض پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا تھا۔ پروفیسر طاہر القادری صاحب لکھتے ہیں:

'' اس واقعہ کی رو سے یہ بات ملحوظ رہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کسی عوامی جگہ یعنی مارکیٹ ، بازار وغیرہ میں ریاستی معاملہ discuss

نہیں کر رہے تھے بلکہ یہ مسئلہ پارلیمنٹ میں زیر غور تھا جس کا مطلب ہے کہ عامة الناس کی بجائے منتخب افراد ہی اس عمل مشاورت میں شریک تھے۔ لہذا ایک خاتون کا کھڑے ہو کر بل پر اعتراض کرنے سے یہ مفہوم نمایاں طور اخذ ہوتا ہے کہ اس دور میں خواتین کو ریاستی معاملات میں شرکت کرنے، حکومت میں شامل ہونے اور اپنی رائے پیش کرنے کا اختیار حاصل تھا۔ مزید برآں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بل واپس لے لینا اور اپنی غلطی کا اعتراف کر لینا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اسلام میں جنسی امتیاز کے لئے کوئی جگہ نہیں اور مردو زن کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔''

پروفیسر طاہرالقادری صاحب کے بقول عورت ایک سیاسی مشیر کے طور پر بھی کام کر سکتی ہے اور اس کی دلیل وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت خدیجہ اور دیگر امہات المومنین رضی اللہ عنہن، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی مشیر تھیں۔ان کے بقول عورت کو انتظامی عہدوں پر بھی فائز کیا جا سکتا ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شفا بنت عبد اللہ عدویہ کو بازار کا نگران مقرر کیا تھا۔

ان کے بقول عورت کو سفیرمقرر کیا جا سکتا ہے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہما کو ملکہ روم کے دربار میں سفیر بنا کر بھیجا تھا۔ 

ان کے بقول وراثت میں حصوں کی تعین کی بنیاد جنس نہیں ہے یعنی عورت کو عورت ہونے کی وجہ سے آدھا حصہ نہیں دیا گیا بلکہ مرد کو معاشی ذمہ داریوں کے سبب سے زیادہ حصہ دیا گیا ہے۔ لیکن اس پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر عورت کسی گھر میں اپنی ملازمت کے ذریعے گھر کی معاشی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو تو کیا اس صورت میں اسے خاوند کے برابر حصہ ملے گا؟ اگر نہیں تو پھر عورت کے وراثت میں نصف حصہ ہونے کی یہ علت نکالنا بھی درست نہیں ہے۔

١٩٨٧ء تک وہ عورت کی حکمرانی کے قائل نہ تھے لیکن ١٩٨٩ء میں ان کا یہ موقف تبدیل ہو گیا اور انہوں نے علماء سے بے نظیر کی حکمرانی قبول کرنے کی اپیل کی۔ اور ٢٣نومبر ١٩٩٣ء کے روزنامہ جنگ کے مطابق طاہر القادری صاحب نے کہا کہ عورت کسی بھی اسلامی ملک کی سربراہ ہو سکتی ہے اور نام نہاد علماء اپنی دوکان چمکانے کے لیے عورت کی حکمرانی کے بارے فتوی جاری کرتے ہیں۔

اسلامی اقتصادیات میں سوشلزم کا تاثر
پروفیسر طاہر القادری صاحب نے اپنی کتاب 'اقتصادیات اسلام' میں ایک مکمل باب میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اسلامی ریاست یا مملکت کی طرف سے عام شہریوں پر 'تحدید ملکیت' جائز امر ہے۔ 

علاوہ ازیں انہوں نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ معاشی بحالی کی جدوجہد 'روح نماز' ہے۔بعض اہل علم نے ان کے ان نظریات کو اشتراکیت کی طرف رجحان قرار دیا ہے۔

اسلامی معاشرت میں مغرب کا تاثر
ننگے سر اور کھلے گریبان والی مغرب زدہ خواتین کے جھرمٹ میں تصاویر کھچوانا یا ان کے ساتھ مل بیٹھ کر گفتگو کرنے پروفیسر صاحب کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے ہیں اور اس بارے ان کی تصاویر اور ویڈیوز عام ہیں۔ 

اسی طرح پروفیسر صاحب ٤ ،٥ دسمبر ١٩٩٩ کے اخبارات میں رومانیہ کی فرسٹ سیکرٹری سے ہاتھ ملا رہے ہیں۔ 

پروفیسر صاحب اپنے لیے مولانا کے لقب کو پسند نہیں کرتے ہیں۔

پروفیسر صاحب نے فلم، سٹیج اور ڈرامہ کے اداکاروں پر مشتمل 'کلچرل ونگ' تشکیل دیا ہے جس کے سیکرٹری جنرل معروف اداکار فردوس جمال، صدر فلمی اداکار ندیم، نائب صدر افضال احمد اور چیف آرگنائزر سید نور کو بنایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک منہاج القرآن کی ویب سائیٹ پر 'مشاہیر کے تبصرے' کے عنوان کے تحت فلم وڈرامہ کے اداکاروں ندیم، محمد علی، محمدافضل ریمبو، فردوس جمال،عثمان پیرزادہ،مسرت شاہین،شجاعت ہاشمی، افتخار ٹھاکر اور نسیم وکی وغیرہ کے بھی تبصرہ جات فخریہ انداز میں بیان کیے ہیں 

مثلاً اداکارہ مسرت شاہین کا یہ تبصرہ نقل کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری صاف وشفاف کردار کے مالک، امن کے سفیر، علمی کی روشنی، تنگ نظر نہیں اور ماڈریٹ ہیں۔

عورتوں کے چہرے کے پردے یا نقاب کے بارے ان کا موقف یہ ہے کہ ماحول، عورت کی ضرورت، اس کی عمر اور اس کے ایمان کی مضبوطی کے مطابق عورت کے لیے چہرے کا پردہ کیس ٹو کیس مختلف ہے لہذا کسی خاتون کے لیے یہ واجب، کسی کے لیے مستحب اور کسی کے لیے مباح ہے۔ تفصیل کے لیے یہ لنک دیکھیں:
‪NIQAB on Woman's Face!!What is Islamic point of View ?( حکم اور حکمت ) By Shaykh-ul-Islam‬‏ - YouTube

عورت کے لیے بغیر محرم کے سفر کرنے کے بارے ان کا کہنا یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں محرم کی پابندی اس کیے لگائی گئی تھی کہ سیکورٹی کے مسائل بہت زیادہ تھے 

جبکہ آج سٹیٹ، پولیس، سسٹم اور سوسائٹی کی طرف سے جو سیکورٹی حاصل ہے وہ محرم کے حکم میں ہے لہذا آج عورت کے سفر کے لیے محرم کی ضرورت نہیں ہے۔ 

تفصیل کے لیے یہ لنک دیکھیں:
‪Can Women Travel without Mahram ? What about Hijab & Niqab ? 4/4‬‏ - YouTube

مسلمانوں کے لباس کے بارے ان کا کہنا یہ ہے کہ مسلمانوں کا لباس باحیا ہونا چاہیے ۔ باقی اس میں کوئی پابندی نہیں ہے۔ اگر مسلمان انگریزی ہیٹ پہن لیں یا ٹائی باندھ لیں یا دھوتی پہن لیں یاشلوار قمیص پہن لیں یا افریقین یا انڈین یا یورپین لباس پہن لیں تو اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔ تفصیل کے لیے یہ لنک دیکھیں:
‪The permissibility of western clothing. Prof. Tahir ul 
qadri shaykh ul islam‬‏ - YouTube


پروفیسر صاحب اور فنون لطیفہ
پروفیسر طاہر القادری صاحب فنون لطیفہ کے بارے بھی نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ ان کے مداحین نے ان کی ایسی تصاویر بھی بنا کر شائع کی ہیں جو ہاتھ سے بنائی گئی ہیں جیسا کہ '

ڈاکٹر محمد طاہر القادری ؛ میدان کارزار میں' 

نامی کتاب میں سرورق کی تصویر ہے۔ 

پروفیسر طاہر القادری صاحب میوزک کے ساتھ قوالی اور صوفیانہ کلام سننے کے قائل اور عادی ہیں اور اسی طرح صوفیانہ رقص وسرود کو بھی جائز اور روحانی ترفع کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ 

پروفیسر طاہر القادری صاحب کی کئی ایک ایسی ویڈیوز موجود ہیں جن میں وہ قوالی اور صوفیانہ کلام کو فل میوزک اور آلات موسیقی کے ساتھ محظوظ ہو رہے ہیں اور ان کے سامنے رقص وسرود پیش کیا جا رہا ہے۔ بعض ویڈیوز میں قوالی کے ساتھ ساتھ کچھ لوگ انہیں سجدہ کرتے بھی نظر آ رہے ہیں جس کی تاویل ان کے معتقدین یہ کرتے نظر آتے ہیں کہ یہ پروفیسر صاحب کو سجدہ نہیں بلکہ ان کی قدم بوسی تھی۔

میوزک کے بارے اپنے ایک فتوی میں پروفیسر طاہر القادری صاحب نے اسے صحیح بخاری کی ایک روایت سے ثابت کیا ہے کہ عید و خوشی کے موقع پر میوزک اور رقص جائز ہے اور سلسلہ چشتیہ کا طریق ہے۔ تفصیل اس لنک میں ملاحظہ فرمائیں:
‪Music in Islam Fatwa (urdu)- Dr. Tahir ul Qadri - BUKHARI SHARIF HADITH.‬‏ - YouTube

اسی طرح اپنے ایک اور فتوی میں انہوں نے کہا ہے کہ عشق نبی میں رقص ووجد جائز ہے۔ تفصیل کے لیے یہ لنک دیکھیں:
‪Raqs in Islam‬‏ - YouTube

اسی طرح ایک اور ویڈیو میں جناب پروفیسر صاحب کے سامنے قوالی' پکارو شاہ جیلانی' فل میوزک اور آلات موسیقی کے ساتھ پیش کی جا رہی ہے اور پروفیسر صاحب اسے سنتے ہوئے تشریف لاتے ہیں 

اور بھانڈ میراثیوں کے لیے روپوں کی ویلیں لیتے اور دیتے ہیں اور شلوار ٹخنوں سے نیچے لٹکائے ہوئے ہیں۔
‪Barelvi Tahir ul Qadri RELIGION EXPOSED reply-Pukaro Shah e Jelaan Ko Pukaro Qawwali‬‏ - YouTube

سوال یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ رضی اللہ عنہم سے زیادہ محبت والفت کسے تھی؟ لیکن خلفائے راشدین نے کبھی وجد میں آ کر آپ کے سامنے دھمال ڈالی ہو یا عشرہ مبشرہ نے آپ کے سامنے قوالیاں گائی گئی ہوں یا بدری صحابہ رضی اللہ عنہ نے میوزک کی سروں پر آپ کے سامنے رقص کیا ہو یا مہاجرین وانصار نے آپ کی محبت میں وجد میں آ کر آپ کو سجدے کرنا شروع کر دیا ہو یا سابقون الاولون نے عشق نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں آلات موسیقی کے ساتھ قوالیاں سنتے ہوئے گویوں کے لیے درہم ودینار کی ویلیں چڑھائی ہوں وغیرہ ذلک۔ یہ عشق نبی کے کیسے مظاہر ہیں جو حقیقی عشاق سے تو ثابت نہیں ہیں لیکن پروفیسر صاحب انہیں عشق حقیقی کے مظاہر قرار دینے میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتے نظر آتے ہیں۔ 

وحدت ادیان اور اتحاد بین المذاہب کا نقطہ نظر
پروفیسر طاہر القادری صاحب غیر مسلموں اور ان سے اتحاد کے بارے بھی بہت نرم جذبات رکھتے ہیں ۔ غیر مسلموں کے حقوق پران کی ایک کتاب بھی ہے۔ انہوں نے مسلم اسی طرح انہوں نے مسلم کرسچین ڈائلاگ فورم بحی بنایا ہوا ہے جس کے وہ چیئرمین ہیں۔'

اس فورم کے تحت کرسمس تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں قرآن کے ساتھ بائبل کی بھی تلاوت ہوئی۔ 

عیسائی پادری اور پروفیسر طاہر القادری صاحب نے کرسمس کا کیک کاٹا۔ دونوں کی طرف سے امن کی شمع روشن کی گئی۔ 

پروفیسر طاہر القادری صاحب نے عیسائیوں کو یہ دعوت دی کہ ان کے ادارہ منہاج القرآن کی مسجد عیسائیوں کی عبادت کے لیے کھلی رہے گی۔ 

انہوں نے یہ بھی کہا آسمانی کتابوں پر ایمان رکھنے والوں کو ماننے والوں میں شمار کیا جاتا ہے اور بقیہ کو نہ ماننے والوں (Non Believers)

میں، اور مسیحی بھائی ماننے والوں میں شامل ہیں۔یہ خبر ٣ جنوری ٢٠٠٦ء کے روزنامہ اخبارات ایکسپریس، نوائے وقت، دن،انصاف، پاکستان اورجناح وغیرہ میں شائع ہوئی ہے۔

پروفیسر صاحب کی بین المذاہب رواداری اور یگانگت کی اس تحریک کے نتائج پاکستان عوامی تحریک کی ویب سائیٹ پر ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں جس کے مطابق'

منہاج القرآن انٹرفیتھ ریلیشنز' کے تحت چرچ میں عید میلاد النبی کی تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں اور ہندوؤں کے مقدس تہوار 'ہولی' میں شرکت کی جا رہی ہے۔ صلیب کے سائے میں عیسائیوں کے مقدس شہر 'ویٹی کن سٹی' میں پروفیسر صاحب کی ٦٠ ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ وغیرہ ذلک۔

ڈاڑھی کے بارے موقف
ڈاڑھی کے بارے بھی پروفیسر صاحب کا موقف انتہائی گنجلک ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ڈاڑھی چھوڑنا سنت مؤکدہ ہے لیکن کتنی چھوڑنی چاہیے، ایک مشت یا اس سے کم یا اس سے زیادہ، اس کی شریعت میں کوئی تعیین نہیں ہے لہذا اگر ایک مشت سے کم ڈاڑھی بھی ہو تو بھی جائزہے اور یہ شرعی حکم کی تعمیل میں داخل ہے۔ ایک مشت یا اس سے زائد ڈاڑھی رکھنا سنت غیر موکدہ یا سنن عادیہ میں سے ہے۔ 

پس جس کی ڈاڑھی ایک مشت سے کم ہو یا ایک مشت ہو یا ایک مشت سے زائد ہو ، سب اجر وثواب میں برابر ہیں۔ تفصیل کے لیے یہ لنک دیکھیں:
‪Fatwa on Darhi (Beard) Part 02.mp4‬‏ - YouTube

بدعت کے بارے نیا تصور
بدعت کے بارے پروفیسر صاحب نے اپنی کتاب 'کتاب البدعة' میں یہ موقف پیش کیا ہے کہ 

دین اسلام میں کسی بھی فعل وعمل کا اضافہ اس وقت تک بدعت نہیں کہلائے گا جب تک کہ اس فعل وعمل کی حرمت کتاب وسنت یا آثار صحابہ سے ثابت نہ ہو جائے۔ 

پس پروفیسر صاحب کے نقطہ نظر کے مطابق دین میں کسی اضافہ شدہ فعل و عمل کی حرمت کے بارے اگر کتاب اللہ یا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں کوئی نص یا اقوال صحابہ میں کوئی اثر موجود نہ ہو تو وہ فعل وعمل جائز اور مباح یا بدعت حسنہ کہلائے گا۔

قرآن مجید کی سائنسی اور باطنی تفسیر
پروفیسر صاحب کئی ایک مقامات پر قرآن مجید کا ایسا ترجمہ یا تفسیر بیان کی ہے جو قرآن مجید کے ظاہر یا اہل سنت والجماعت کے اصول تفسیر کے مطابق نہیں ہے مثلاً پروفیسر صاحب سورة 'النازعات' کی ابتدائی پانچ آیات 

وَالنَّازِعَاتِ غَرْ‌قًا ﴿١﴾ وَالنَّاشِطَاتِ نَشْطًا ﴿٢﴾ وَالسَّابِحَاتِ سَبْحًا ﴿٣﴾ فَالسَّابِقَاتِ سَبْقًا ﴿٤﴾ فَالْمُدَبِّرَ‌اتِ أَمْرً‌ا ﴿٥﴾ 

کی آیات کے دو تراجم میں ایک ترجمہ یہ بیان کیا ہے کہ 

'' توانائی کی ان لہروں کی قسم جو مادہ کے اندر گھس کر کیمیائی جوڑوں کو سختی سے توڑپھوڑ دیتی ہیں، توانائی کی ان لہروں کی قسم جو مادہ کے اندر سے کیمیائی جوڑوں کو نہایت نرمی اور آرام سے توڑ دیتی ہیں، توانائی کی ان لہروں کی قسم جو آسمانی خلاوفضا میں بلا روک ٹوک چلتی پھرتی ہیں، پھر توانائی کی ان لہروں کی قسم جو رفتار، طاقت اور جاذبیت کے لحاظ سے دوسری لہروں پر سبقت لے جاتی ہیں، پھر توانائی کی ان لہروں کی قسم جو باہمی تعامل سے کائناتی نظام کے بقا کے لیے توازن وتدبیر قائم رکھتی ہیں۔''

اسی طرح انہوں نے سورة نجم کی آیت 

وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَىٰ ﴿١﴾ 

کا ترجمہ کیا ہے کہ 

'' قسم ہے روشن ستارے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کی جب وہ (چشم زدن میں شب معراج اوپر جا کر ) نیچے اترے۔''

سورة زمر کی آیت مبارکہ إ

ِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ ﴿٣٠﴾ 

کاترجمہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

اے حبیب مکرم! بے شک آپ کو (تو) موت (صرف ذائقہ چکھنے کے لئے) آنی ہے اور وہ یقینا (دائمی ہلاکت کے لیے) مرد ہ ہو جائیں گے(پھر دونوں موتوں کا فرق دیکھنے والا ہوگا)۔''

سورة قصص کی آیت مبارکہ إ

ِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ ۚ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ ﴿٥٦﴾ 

کا ترجمہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

'' حقیقت یہ ہے کہ جسے آپ (ہدایت پر لانا) چاہتے ہیں، اسے صاحب ہدایت آپ خود نہیں بناتے، بلکہ (یوں ہوتا ہے کہ)جسے(آپ چاہتے ہیں اسی کو) اللہ چاہتا ہے (اور آپ کے ذریعے) صاحب ہدایت بنا دیتا ہے اور وہ راہ ہدایت کی پہچان رکھنے والوں سے خواب واقف ہے ( یعنی جو لوگ آپ کی چاہت کی قدر پہچانتے ہیں، وہی ہدایت سے نوازے جاتے ہیں)۔''

امر واقعہ یہ ہے کہ پروفیسر صاحب کا اس آیت کا یہ ترجمہ تراجم قرآن کی دنیا میں ایک ادبی شاہکار ہے۔

سورہ مریم کی آیت 

ِ إ ذْ قَالَ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ‌ وَلَا يُغْنِي عَنكَ شَيْئًا ﴿٤٢﴾ 

کا ترجمہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

'' جب انہوں نے اپنے باپ(یعنی چچا آزر سے جس نے آپ کے والد تارخ کے انتقال کے بعد آپ کو پالا تھا) سے کہا: اے میرے باپ! تم ان (بتوں) کی پرستش کیوں کرتے ہو جو نہ سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں اور تم سے کوئی (تکلیف دہ) چیز دور کر سکتے ہیں۔''

سورة کہف کی آیت مبارکہ 

قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ‌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ ۖ فَمَن كَانَ يَرْ‌جُو لِقَاءَ رَ‌بِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِ‌كْ بِعِبَادَةِ رَ‌بِّهِ أَحَدًا ﴿١١٠﴾ 

کا ترجمہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

'' فرما دیجئے: میں تو صرف (بخلقت ظاہری) بشر ہونے میں تمہاری مثل ہوں (اس کے سوا اور تمہاری مجھ سے کیا مناسبت ہے ، ذرا غور کرو) میری طرف وحی کی جاتی ہے (بھلا تم میں یہ نوری استعداد کہاں ہے کہ تم پر کلام الہی اتر سکے)۔''

اسی طرح پروفیسر صاحب نے سورةرحمن کی آیت 

مَرَ‌جَ الْبَحْرَ‌يْنِ يَلْتَقِيَانِ ﴿١٩﴾ 

میں دو دریاؤں کی تفسیر حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما سے کی ہے۔ اپنی کتاب 'ذبح عظیم' میں سورة صافات کی آیت 

وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ ﴿١٠٧﴾ 

میں 'ذبح عظیم' سے مراد حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو لیا ہے۔

شیعہ ہونے کا الزام
بریلوی مکتب فکر کے بعض اہل علم نے پروفیسر طاہر القادری پرتفضیلی شیعہ ہونے کا بھی الزام عائد کیا ہے 

جیسا کہ مفتی غلام سرور قادری صاحب نے اپنی کتاب 'پروفیسرطاہر القادری: علمی وتحقیقی جائزہ' میں کہا ہے۔ پروفیسر طاہر القادری صاحب نے 'قصر بتول' میں 'مولود کعبہ' کے نام سے ایک تقریر میں یہ کہا

''تمام صحابہ بھی اکھٹے ہو جائیں تو علم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کوئی ثانی نہیں ۔'' (روزنامہ جنگ، ١٩ مئی، ١٩٨٧ء)

اسی طرح پروفیسر طاہر القادری صاحب جامعہ المنتظر ، لاہور میں مجلس عزا پڑھتے ہوئے کہا کہ سنیت اور شیعیت میں کوئی جھگڑا نہیں ہے اور اصل مسئلہ خوارجیت کا ہے یا دوسرے الفاظ میں سنی اور شیعہ ایک ہی ہیں اور ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ تفصیل کے لیے یہ لنک دیکھیں:
‪Address Majlis e Aza by Shaykh-ul-Islam Dr M Tahir ul Qadri in Jamey Al-Muntazir - Lahore‬‏ - YouTube

پروفیسر طاہر القادری صاحب اپنی کتاب 'السیف الجلی علی منکر ولایة علی' میں کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خلافت تین قسم کی تھی۔ ایک خلافت ظاہری اور دوسری خلافت باطنی۔ پہلی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ملی اور دوسری حضرت علی رضی اللہ عنہ کو۔ پہلی قسم کی خلافت سیاسی منصب تھا اور دوسری قسم کی خلافت روحانی منصب۔پہلی قسم کی خلافت انتخابی وشورائی تھی اور دوسری قسم کی وہبی و اجتبائی۔ پہلی قسم کی خلافت کا تقرر عوام الناس نے کیا اور دوسری کا اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے۔ پہلی قسم کی خلافت کا دائرہ کار فرش تھا اور دوسری کا عرش تک تھا۔ پہلی قسم کی خلافت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد خلفائے راشدین میں جاری ہوئی اور دوسری قسم کی خلافت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد اہل بیت کے بارہ اماموں میں جاری ہوئی۔ پہلی قسم میں آپ کی سیاسی وراثت جاری ہوئی اور دوسری قسم میں روحانی وراثت۔ دوسری قسم کی خلافت کو ولایت و امامت بھی کہتے ہیں۔

پروفیسر طاہر القادری صاحب نے اپنی کتاب 'مسئلہ ولادت امام مہدی' میں یہ بھی وضاحت کی ہے کہ دوسری قسم کی خلافت یعنی ولایت و امامت کے آخری خلیفہ امام مہدی علیہ السلام ہوں گے اور یہ بارہویں خلیفہ یا امام ہوں گے جیسا کہ اہل تشیع کے ہاں بھی امام مہدی علیہ السلام ان کے بارہویں ہی امام ہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب 'السیف الجلی علی منکر ولایة علی' میں کہا ہے کہ حضرت مولا علی المرتضی رضی اللہ عنہ اور حضرت مہدی الارض والسماء ، باپ بیٹا دونوں، اللہ کے' ولی' اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے 'وصی' ہیں۔ پروفیسر طاہر القادری صاحب کے بقول امام مہدی کا ظہور تقریباً کم ازکم ٨ سو سال بعد سن ٢٢٠٤ھ میں یا اس کے بھی ایک ہزار سال بعدہو گا۔ تفصیل کے لیے لنک دیکھیں:
‪Dr Tahir ul Qadri announces date of Imam Mahdi AS From Prophetic Hadith Traditions 2/2‬‏ - YouTube

ہمارے خیال میں اگر تو پروفیسر طاہرالقادری صاحب کے شیعہ ہونے سے ناقدین کی یہ مراد ہو کہ وہ اہل تشیع کو خوش کرنے کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت ابو بکر صدیق اور خلفائے راشدین پر ترجیح دیتے ہیں اور اہل تشیع کے تصور ولایت وامامت کے قائل ہیں اور امام مہدی علیہ السلام کو اثنا عشریہ اہل تشیع کی طرح اپنا بارہواں امام تسلیم کرتے ہیں تو یہ بات تاحال ان کی تقاریر اور کتب سے بالکل ثابت ہوتی ہے الا یہ کہ وہ مستقبل میں کسی وقت اپنے اس موقف سے رجوع کر لیں۔ یہ درست ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت خلفائے راشدین اور بقیہ جمیع صحابہ رضی اللہ عنہم پر ثابت کرنے میں اور ان کی ولایت وامامت کے ثبوت میں تکلف وتصنع اور خطابت وبلاغت کا اظہار کرتے ہیں لیکن وہ فقہ جعفری یا زیدیہ فقہ کے پیروکار نہیں ہیں بلکہ اپنے آپ کو سنی اور فقہ حنفی کا متبع بتلاتے ہیں۔ پس یہ کہنا درست ہے کہ پروفیسر طاہر القادری صاحب عقائد کے اعتبار سے تفضیلی شیعہ ہیں لیکن فقہ میں حنفی بریلوی ہیں جیسا کہ حنفیہ کے ہاں یہ تقسیم عام ہے کہ وہ فقہ میں حنفی ہوتے ہیں جبکہ عقیدہ میں تقلید کو حرام قرار دینے کی وجہ سے سلفیہ، معتزلہ، ماتریدیہ، وجودیہ، شہودیہ، صوفیہ، حیاتی اور مماتی وغیرہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ 

پروفیسر صاحب نے اپنی کتاب 'کتاب البدعة' میں ان اہل تشیع کے کفر کو یقینی اور قطعی قرار دیا ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی الوہیت کے قائل ہوں یا حضرت جبرئیل کے بارے یہ عقیدہ رکھیں کہ غلطی سے وحی حضرت علی کی بجائے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر لے آئے یاقرآن میں تحریف میں یا ترمیم کا عقیدہ رکھیں یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائیں یا یہ عقیدہ رکھیں کہ وصال رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم مرتد ہو گئے تھے یا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا انکار کرے۔

پروفیسر طاہر القادری صاحب کے خواب
پروفیسر صاحب پر ان کے خوابوں کی وجہ سے بھی مختلف مذہبی اور غیر مذہبی حلقوں کی طرف سے نقد ہوتی ہے۔ یہ خواب تفصیلی ہیں اور اس کی آڈیوز اور ویڈیوز موجود ہیں اور ان میں سے بعض خواب انٹرنیٹ پر' یوٹیوب' نامی ویب سائیٹ پر بھی دستیاب ہیں۔

پہلا خواب
ایک خواب کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سندھ کے کسی شہر میں ہوتی ہے۔ لوگ زیارت کے لیے جاتے ہیں لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو زیارت نہیں کرواتے۔ بالآخر پروفیسر صاحب اکیلے رہ جاتے ہیں اور انہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوتی ہے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پروفیسر صاحب سے شکوہ کرتے ہیں کہ میں اہل پاکستان، دینی جماعتوں، اداروں اور علماء سے نالاں ہو کر واپس جا رہا ہوں کیونکہ انہوں نے میری قدر نہیں کی اور اسی لیے میں نے ان سے ملاقات بھی نہ کی۔ پروفیسر صاحب اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی منتیں سماجتیں کرتے ہیں، پاؤں پڑتے ہیں، روتے ہیں تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دل نرم پڑ جاتا ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک شرط پر پاکستان رکنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں کہ پروفیسر طاہر القادری صاحب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی میزبانی کریں گے۔ پاکستان میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹھہرنے کا انتظام، کھانے پینے کا انتظام، پاکستان میں اندرون ملک سفر کے ٹکٹ اور قیام کا انتظام اور واپس مدینے تک کا ٹکٹ کا انتظام پروفیسر صاحب کریں گے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ تم 'ادارہ منہاج القرآن' قائم کرو میں وہاں تشریف لاؤں گا۔

دوسرا خواب
ایک دوسرے خواب کا خلاصہ یہ ہے کہ جمعہ کا دن ہے اور اذان کا وقت ہے۔ مسجد نبوی کا مقام ہے اور اجتماع عام ہے۔ مؤذن اذان دینے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حکم دیا جاتا ہے کہ اس مؤذن کو ہٹا دو، آج جمعہ کی اذان طاہر دے گا۔

تیسرا خواب
ایک اور خواب کا خلاصہ یہ ہے کہ صحرائی علاقہ میں ایک ریتلے ٹیلے پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں۔ آپ کی داہنی جانب حضرت ابو بکر صدیق اور بائیں جانب حضرت عثمان رضی اللہ عنہما ہیں۔ میں یعنی طاہر القادری چھوٹا سا بچہ تھا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں طرف اپنے پہلو میں لے لیا اور چاروں خلفائے راشدین سے میرا اور مجھ سے ان کا تعارف کروایا۔ 

چوتھا خواب

ایک خواب کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پروفیسر صاحب کی عمر ٦٣ برس مقرر کی جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑھا کر ٦٦ برس کر دی لیکن پروفیسر صاحب نے قبول نہ کی کیونکہ اس طرح عمر کے سلسلہ میں سنت نبوی کی خلاف ورزی کا ارتکاب تھا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پروفیسر صاحب کی بات مان کر دوبارہ ٦٣ سال کر دی۔ 

پروفیسر صاحب کے ناقدین 
جناب پروفیسر طاہر القادری صاحب کے ناقدین میں دو قسم کے لوگ ہیں۔ ایک مذہبی اور دوسرے غیر مذہبی۔ 

مذہبی طبقات کی نقد
مذہبی افراد میں سے تقریباً چاروں مسالک بریلوی، دیوبندی ، اہل الحدیث اور اہل تشیع کے بعض اہل علم نے ان پر نقد کی ہے۔ پروفیسر طاہر القادری صاحب پر نقد کا آغاز بریلوی مکتب فکر طرف سے ہوا۔ مشیر وفاقی شرعی عدالت مفتی غلام سرور قادری صاحب نے "پروفیر طاہر القادری : علمی وتحقیقی جائزہ" کے نام سے ایک کتاب مرتب کی جو ۱۹۸۸ء میں شائع ہوئی اس کتاب میں مفتی صاحب نے پروفیسر طاہر القادری صاحب کے بارے یہ کہا ہے کہ انہیں دیکھ کر قرآن پڑھنا بھی نہیں آتا ہے اور نہ ہی وہ صحیح ترجمہ کر سکتے ہیں۔ مفتی صاحب نے پروفیسر طاہر القادری صاحب کی آڈیو کیسٹس سے بھی ان کی عربی عبارات کی کچھ اغلاط نقل کی ہیں۔ 

مفتی صاحب نے پروفیسر صاحب پر یہ بھی طعن کیا ہے کہ پروفیسر صاحب دو انگل ڈاڑھی رکھنے کو بھی سنت قرار دیتے ہیں۔ مفتی صاحب یہ بھی نقل کی ہے کہ پروفیسر صاحب نے عورت کے آدھی بجائے مکمل دیت ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اور ان کا یہ موقف اجماع امت کے خلاف ہے۔ مفتی صاحب نے پروفیسر صاحب کو جھوٹا، جاہل اور تفضیلی شیعہ قرار دیا ہے۔ مفتی صاحب نے شیعیت کے علاوہ بھی بہت سنگین الزامات کی نسبت پروفیسر صاحب کی طرف کی ہے۔

اسی طرح بریلوی علماء میں سے مولانا ابو داؤد محمد صادق نے "پروفیسر طاہر القادری :علمائے اہل سنت کی نظر میں " ایک کتاب مرتب کی جس کا دوسرا نام" خطرے کی گھنٹی " بھی معروف ہوا۔ اسی طرح محمد نواز کھرل نے ان کے بارے "متنازع ترین شخصیت" نامی کتاب لکھی۔


مرکزی دار العلوم اہل سنت جامعہ رضویہ مظہر اسلام، فیصل آباد کے بریلوی علماء مولانا غلام رسول رضوی، مفتی محمد اسلم رضوی، محمدحبیب الرحمن، ابو صالح محمد بخش، محمد نظام الدین ، محمد سعید نقشبندی وغیرہ نے پروفیسر طاہر القادری کے خلاف ایک متفقہ فتوی جاری کیا جس میں پروفیسر صاحب کو اہل سنت کا دشمن قرار دیا گیا۔ ان کی اقتداء میں نماز پڑھنے کو ناجائز اور ان کے ادارہ منہاج القرآن میں بچوں کو تعلیم دینے سے روکا گیا۔


مفتی اشرف قادری صاحب نے پروفیسر طاہر القادری صاحب کے بارے کہا ہے کہ یہ شخص پہلے صحیح العقیدہ سنی اور حنفی تھا لیکن بعد میں مجتہد بن گیا ۔ اس نے عورت کی دیت کے مسئلہ میں اجماع امت کی خلاف ورزی کی ہے اور یہ کم ازکم اہل سنت والجماعت میں سے نہیں ہے۔ 

انہوں نے پروفیسر صاحب پر یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ پروفیسر صاحب نے امام خمینی کی وفات پر ایک امام باڑے میں کالا جبہ پہن کر تقریر کی ہے اور کہا ہے پاکستان کا بچہ بچہ خمینی ہو گا اور خمینی کا جینا علی رضی اللہ عنہ کی طرح تھا اور مرنا حسین رضی اللہ عنہ کی طرح۔ مفتی اشرف قادری صاحب نے طاہر القادری صاحب کو بدترین گمراہ اور فاسق بھی قرار دیا ہے۔ تفصیل کے لیے یہ لنک دیکھیں:
‪Dr Tahir ul Qadri Exposed by Mufti E Azam Pakistan Mufti Ashraf ul Qadri Sahib‬‏ - YouTube

گدی نشین سید عرفان شاہ صاحب نے پروفیسر طاہر القادری صاحب کو 'شیخ الاسلام' کی بجائے 'شیخ فی الاسلام ' یعنی بوڑھا مسلمان کا لقب دیا ہے۔ سید عرفان شاہ صاحب نے پروفیسر طاہر القادری صاحب پر اس عتبار سے نقد کی ہے پروفیسر صاحب نے گستاخ عیسائیوں کے ساتھ اخلاق کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی سید عرفان شاہ نے پروفیسر صاحب کے سخت الفاظ استعمال کیے ہیں۔ تفصیل کے لیے لنک دیکھیں:
‪Irfan shah on tahir ul qadri‬‏ - YouTube

مولانا کوکب نورانی صاحب نے پروفیسر طاہر القادری صاحب پر یہ نقد کی ہے کہ عیسائیوں کو اپنی مسجد میں عبادت کی دعوت دینے کے بعد ہم اسے سنی ماننے کو تیار نہیں ہیں 

اور یہ شخص 'طاہر القادری' سے 'طاہر الپادری' بن گیا ہے۔ 

تفصیل کے لیے لنک دیکھیں
‪Fitna Tahir ul Qadri.mpg‬‏ - YouTube

اہل الحدیث میں سے حکیم محمد عمران ثاقب صاحب نے "طاہر القادری :خادم دین متین یا افاک اثیم اور " طاہر القادری کی علمی خیانتیں' '

کے نام سے دو کتابیں لکھی ہیں جس میں انہوں پروفیسر طاہر القادری صاحب کے تصور بدعت، شرک، وسیلہ ، استغاثہ، شیعیت اور میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے نظریات پر شدید نقد کی ہے۔

دیوبندی مکتب فکر سے متعلق بعض اہل علم انہیں 'کینیڈین شیخ الاسلام' اور بعض سلفی اہل علم انہیں 'شوخ الاسلام' کالقب دیتے ہیں۔ ماہنامہ 'الاحرار' ملتان اور سہ ماہی 'ایقاظ' میں اس بارے پروفیسر صاحب پر بعض تنقیدی مضامین شائع ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں سیارہ اور قومی ڈائجسٹ میں ان پر ناقدانہ مضامین شائع ہوئے ہیں۔

غیر مذہبی طبقات کی نقد
غیر مذہبی لوگوں میں سے پروفیسر صاحب پر جن کی نقد معروف ہوئی ان میں ایک عدالتی فیصلہ بھی ہے۔ اس عدالتی فیصلے کا پس منظر یہ ہے کہ پروفیسر صاحب کی رہائش گاہ ماڈل ٹاؤن، لاہور پر ٢١ اپریل ١٩٩٠ء کی صبح کو پراسرار فائرنگ کا سانحہ پیش آیا اور پنجاب حکومت کی درخواست پر اس کیس کی تحقیق و تفتیش کے بعد عدالت نے فیصلہ جاری کیا۔ اس فیصلے کا ایک اقتباس ہم پروفیسر صاحب کے حق میں لکھی گئی ایک کتاب سے یہاں نقل کر رہے ہیں:

"بیان کردہ فائرنگ حقیقی واقعہ نہیں تھا۔ مسٹر قادری کا نقصان ان کی اپنی کوششو ں کا نتیجہ ہے 

ان کے اس لایعنی طرز عمل سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ مسٹر قادری ذہنی طور پر بیمار آدمی ہیں، 

اس لئے وہ اپنے دشمنوں سے جو کوئی بھی ہو سکتے ہیں، حد درجہ خوفزدہ ہوئے بلکہ 'دشمن فوبیا' میں مبتلا ہو گئے۔ لیکن ان دلائل کو آسانی سے زیر بحث لایا جا سکتا تھا۔ 

یہ واقعہ کہ مسٹر قادری' اپنے مخصوص خوابوں کو بیان کرنے کے لیے بے قرار رہتے ہیں یا ان کے غیر صحت مندانہ ذہن کی عکاسی کرتا ہے۔ 

ہو سکتا ہے کہ ان کو خواب آتے بھی ہوں۔ لیکن ان کے تعصبات کو بھی بالکل نظر انداز نہیں کیا جا سکتا 

جبکہ وہ اپنے خوابو ں کو ایک خاص انداز میں بیان کرتے ہیں اور اپنی شخصیت کو ایک خاص رنگ دیتے ہیں، اس ذہنی ساخت کی شخصیت سے ہر چیز ممکن ہے۔ نصف رات کے سمے ان پر مسلح آدمیوں کے حملے کے ڈرامے کو بھی اس میں شامل کیا جا سکتا ہے۔"

(ڈاکٹر محمد طاہر القادری میدان کارزار میں : ص ٢٠٩۔٢١٠، انکشاف پبلشرز، لاہور)

عدالت کے اس فیصلہ کے مطابق پروفیسر صاحب نے شہرت کے حصول کے لیے اپنی رہائش گاہ پر خود ہی فائرنگ کروائی تھی اور اس کی ذمہ داری اپنے سیاسی مخالفین پر عائد کر دی۔

Thursday, 22 September 2011

Hazrat Umar The Second Caliph of Islam

People say good leadership is like a prized perfume. Its very first scented waft announces its presence with astonishing freshness. Bad leadership like skunk just stinks.

Democracy is not a separate ideology from Islam. In fact democracy is very much there in Islam. There is no concept of dictatorship, popism (mullaiyat) and totalitarianism in Islam. Islam doesn't believe in any kind of monarchy and oligarchy. When we analyze what democracy is we come to the conclusion that it is nothing but the sense of responsibility and accountability. The absolute system of governing, which Islam presents totally based upon three golden fundamentals i.e. Consultation, Responsibility and Accountability. The political system of Islam totally depends upon Shooraiat (consultation). The significance of consultation in governance proves by this that a complete surah in Quran is named "Al-shoorah" (consultation).

The nectar of good governance and effective administration is enshrined in its leadership's personal integrity and self-accountability; in justice for all, and in people's freedom to speak out. The American Constitution prides itself for incorporating in its preamble the five basic responsibilities of the government – justice for all; ensuring domestic tranquility; providing for common defense; promoting general welfare and lastly, securing the blessings of liberty to people and to their posterity.

Hazrat Umar, the second Caliph of Islam, in the 7 th century AD extolled and applied these principles – already available to him through Islam – in letter and spirit, and without any exceptions during his reign.

"No man is above the law and no man below it; nor do we ask any man's permission when we require him to obey it. Obedience to the law is demanded as a right; not asked as a favor". -Theodore Roosevelt (1858-1919)

"Hazrat Umer (R.A) was courageous, unselfish, and passionately committed to the ideals of justice and equity which had been so lacking in the Meccan polity." – Karen Armstrong, "Muhammad: A Prophet for Our Time', pg185

Hazrat Umar, by all accounts, was an "energetic and brilliant" man. He can, of course, be called the forerunner of any, "visionary modern state", in the comity of 192 countries of the world, in which people are prosperous and safe, are treated equally by the law of the state, irrespective of their social or financial status; are habitually law-abiding, and fair in their dealings, are literate and tolerant, and above all, are thoroughly charitable and honest. He, during his tenure of ten years, six months and four days, not only accomplished these ideals in some very difficult times, but also lived to see people willingly live by them.

As described in connection with the life of Hazrat Abu-Bakr, during his illness he consulted the "Shura" about the next "Khalifah" and then gave his decision in favour of Hadrat Umar (R.A.) who took the charge of Caliphate after the death of Hadrat Abu Bakr (R.A.) His caliphate marked the "Golden Age" of Islam.

He was a very pious Muslim. His success lay in two things-fear of Allah and his love for the Holy Prophet (PBUH). He never used even oil from the Bait-ul-Mal (Public Treasury) to burn a lamp at night for his personal needs. Whenever he finished the official work he put off the lamp. He used to patrol in the city at night to find out the needs and requirements, and conditions of the people. He did not hesitate to take his wife to work as a midwife for a poor woman. The salary he got from the Bait-ul-Mal was so low that it was hardly enough for him and his family's needs. When some of the eminent Muslims requested him to increase the amount he, said, "The Holy Prophet (Sallallahu 'alaihi wa Sallam) has left a standard by his personal example. I must follow him".

Hadrat Umar was the most just ruler in the Islamic History. All the citizens, including the Caliph himself, were equal before law. Once he appeared before a court at Medina to clarify his position against a complaint. The Qadi (Judge) wanted to stand in his honour, but he did not allow him to do so, so that there would be no distinction between him and an ordinary person before Law. Courts were completely independent and free to give its verdict on any matter that was presented before them even if it was against state or khalifah. The government couldn't interfere in their decisions. He was really the founder of modern democratic system.

As far as Khalifa is concerned, he had no right and power to forgive or condone those who were prosecuted and convicted by the courts. There was complete supremacy and rule oflaw. They were all equal in the eyes of law whether they were rich or poor, ruler or labourer. Nothing was hidden from anyone regarding matters or policies relating to Government and state.

Khalifa used to tell participants in Jummah prayer in mosque about important issues. Every citizen could enquire about any thing. Democracy was ruling in its best shape. Khalifa was held responsible and was subject to answer to his people. History is full of different examples that how Khalifa consulted Majlis-e-Shoorah on different issues and how sahabah reacted, criticised and gave their opinions.

Hazrat Umar (RA) had given such type of general freedom of criticism and expression to the people on his actions and orders that an ordinary person didn't hesitate or reluctant to criticise or object on khalifa itself.

Once a person said to Hazrat Umar (RA) many times: "O'Umar, be afraid of Allah". A person amongst the audience tried to stop that person. Hazrat Umar (RA) said, "No, let him say. If those people will not say anything to me then what is the use of those?

Besides, Hazrat Umer, by temperament, was a hard taskmaster, and was very strict and uncompromising in matters of justice and accountability. But, his kind of leader was the need of the day. Hazrat Abu Bakr was very right when during the last days of his life, he said about Hazrat Umer. "Umer has been strict because I was soft. The burden of the State affairs will soften him out". Hazrat Talha on hearing that Hazrat Umer was to become the Caliph, had come running to Hazrat Abu Bakr with this concern, " In your presence, Umer treated us so. How will he treat us when you are gone and he becomes the Caliph? Now that you are about to meet God; think how you will explain this to Him". Hazrat Abu Bakr replied, "I'll tell God. For Your people, I have appointed one who has been the best".

Hazrat Umer was, no doubt, strict, but he was always resolute, decisive, assertive, and clear headed. Quick, not hasty decision and its compliance was the hallmark of his rule. It is important to know that he was never unpopular or unacceptable to the Tribal Arabs, because he was totally transparent, and honest. "His inner self is better than his outer self. He has no second among us", was what was said about him by Hazrat Usman at the time of his becoming the caliph. Besides, there was around him ever present, the wisest among the wise, Hazrat Ali.

Be it fixing the stipend for the caliph, or acting as caliph in his absence when Hazrat Umer had had to leave for Syria to apprise himself of the condition of the soldiers during the breakout of an epidemic; or advising Hazrat Umer not to leave Medina, but ask the governors of Kufa, Basra and Syria to send their army contingents to counter the Iranians at Nehavend in 642,, to count only a few occasions, Hazrat Ali's able guidance like a guiding star had always been there for him.

Once Hazrat Umer fell ill. It was suggested that he be given honey as a cure, and there was no honey at his home. A good stock of it, however, was there in the Bait-ul-Maal. Hazrat Umer sough the permission of the people in Masjid-i-Nabvi if he could take a little bit of honey from there. One express purpose behind seeking this open permission was to let the people know what little rights the caliph had in the use of public money.

Once the first lady, Um-e- Kulsum, sent some perfume vials as a gift to the women of Kaiser of Rome. They, out of goodwill, returned the bottles of perfume, but filled with precious jewels. Hazrat Umer heard about the exchange. He ordered confiscation of the jewels, stating, "Perfume was yours, but the messenger used in the process was a government employee". He ordered that the jewels be deposited in Baitul Maal, and his wife be compensated for the actual value of the perfume.

Once his daughter, and Prophet's wife, Hazrat Hafsa, came to him to claim her share in the war-booty on account of her special double status, "Zuwalqarba". Hazrat Umer disappointed her by saying, "You will have your share in my portion, not in the war booty. It is sad that you tried to hoodwink your own father". She felt ashamed for ever putting up such a demand.

One big factor in the success of Hazrat Umer was his strict control over the public exchequer. He suspended Hazrat Khalid bin Walid, (and Hazrat Bilal as well), for his failure to submit the details of the expenditures. The relaxed supervision of the fiscal matter in later periods, (and in modern times), created un-surmountable problems for them.

In one khutba, he made it clear on all the eight governors, "Always keep in mind that I have appointed you over people, not as their masters, or as their over-lords with a view to suppressing them; but as their 'Imams', as their 'Role-Models', so that people may follow you. You are to guard their rights, and not to humble or manhandle them… do not keep your doors closed at them in a manner that the strong is able to cause harm to the weak. Don't rank yourselves above people because that will amount being unfair to them". Some of the conditions he laid down for them were:

You shall not ride a Turkish horse (symbol of elitism)
You shall not attire yourself in fine/silken clothes (sign of extravagance)
You shall not eat flour bread free of brawn. (excessive worldliness)
You shall not post a guard/security at your door (inaccessibility)
You shall remain available to the complainant all the time.

This declaration was to be read out in front of the appointees as well as in the public. In one such meeting, a person rose and said that one of his governors had unjustly inflicted 100 lashes on him. The official who had done this was none else but Hazrat Umro bin Al Aas. Hazrat Umer asked the complainant to redress his grievance by inflicting the same number of lashes on the governor. Hazrat Umro bin Al-Aas, stood up and said that such a practice was to make it difficult for an official to perform his duties. Hazrat Umer instantly replied, "But I do not want to be on the side of a criminal, too". Hazrat Umro bin Al Aas had had to plead for clemency from the accuser, who agreed to accept two gold coins for each lash. (Kitab Al Kharaj pg 66).

Hazrat Umer never compromised in matters of justice and accountability. People tolerated his severe punishments when they saw him doing the same in case of his own kith and kin. His son, Abu Shehma when found drunk, was inflicted 10 lashes by none else but by the caliph himself. And he expired during the award of the punishment. Qadama bin Mazoon was a Sahabi of great standing and was his brother-in-law too. He, too, was charged on the same account, and was publicly awarded 10 lashes.

Hazrat Ayaz bin Ghanam was appointed as the governor of Egypt. A report was received that Ayaz was leading a lifestyle that was not in line with the stated declaration. He had given himself to wearing fine silken clothes, and had also begun posting a guard at his residence. Hazrat Mohammad bin Musalama Ansari, a great Sahabi and his Ombudsman, or Chief Investigator was asked to look into the matter. On enquiry, the charges were found true. Hazrat Umer ordered that Ayaz bin Ghanam's robe be replaced with a coarse woolen outfit, and he be reassigned to the tending of a herd of sheep. People heard Ayaz saying, "I wish I had been dead". Hazrat Umer reminded him. "Why do not feel small in shepherding a herd. After all your father had earned this title of 'Ghanam' for being a shepherd". Al Kharaj page 66.

These days in Pakistan, a lot of mud slinging is being carried out against the different chairmen of the National Accountability Bureau in the alleged corruption cases of high officials. Hazrat Umer in that post had appointed Hazrat Mohammad bin Musalama Ansari, one of the most respected Sahabis. His credentials were that he had participated in all the battles fought during the Prophet's time. In one case, the Prophet himself had appointed him as his assistant in Medina. So when Hazrat Mohammad bin Musalama Ansari investigated against an official, it meant total transparency. Truth would not stay hidden, nor anybody could dare disputing that the action taken was politically motivated.

Once a son of Hazrat Umro bin Al-Aas, the conqueror of Egypt, beat a non-Muslim without any reason. Hazrat Umer had that respected son of Hazrat Umro bin Al Aas thrashed publicly, stating, "Since when did you begin enslaving people whose mothers had given birth to them as free?"

On one occasion he said from the pulpit, "O People, in case you ever find me tilting towards worldliness; what will you do then?" A man rose from the gathering, drew his sword and said, "You will be beheaded with it". Hazrat Umer in order to further test him, said, "You, daring to say so to me". He remained resolved and said, "Yes, it will be like this for you". Hazrat Umer then said, 'Thank God. I have men like you who have the courage to straighten me out if I ever I chose to deviate from the right path".

Once a Christian complained to Hazrat Umer when he was in the Harem in Makka that he had been doubly taxed on his horse. He submitted this complaint when Umer was delivering the khutba there. Later when he returned to the capital, the same Nasrani (Christian) who had lodged the complaint came to him to remind him of it. Hazrat Umer told him, "I'm the Hanifi, who took care of your complaint there and then".

During the famine days in 639 or around and while returning from Syria, he stopped by a lone tent in which there lived an old woman. He asked her, "How is Umer doing?" She replied, "I heard about him coming from Syria. God's curse be on him, I haven't received a single Hibba from him during these hard times." "How should Umer know about you, living so far away?' asked Hazrat Umer. She angrily replied, "What kind of caliph is he if he doesn't know how people are living under him". Hazrat Umer cried bitterly outside her tent. He later fixed a daily allowance for all those who were poor, jobless, or were people with special needs. Anybody leading apparently an easy life, but availing himself of that allowance was personally tested on the caliph whenever possible. If found guilty, he was chided in such words as, "You have belittled yourself in my eyes". During those hard times, Hazrat Umer was often found in a great agonizing state. He would cry and pray, "O God, do not inflict these people with hardships because of my doings".

Hazrat Umer did not believe in the concept of pre-destination as did many of his veteran officials and Sahabis such as Hazrat Abu Obaida, and Hazrat Muaz bin Jabal. During the breakout of an epidemic in 639 in Syria and Egypt. The army had been stationed at a low lying area. Hazrat Umer asked the commander, Hazrat Abu Obaidah, to remove it to the higher lands. He refused to do so contending it was, "Ifrar min Qadrutullah, i.e. it amounted to running from Taqdeer-e-Illahi". Meanwhile about 25 thousand soldiers perished. Hazrat Umer and Hazrat Umro bin al Aas always contented that the epidemic was a curse like the one which once had befallen Bani Israel. It needed to be dealt with "Tadbeer, logic and effort". But Hazrat Obaidullah and later Hazrat Muaz died, sticking to their pre-fated philosophy, contending that it was a blessing in the sense that it was test of their faith in God.

In short he was the best example of an ideal character, and was the greatest "Khalifah" of Islam after Abu Bakr (R.A.). He selflessly devoted his whole energy for the cause of Islam. Muslims will always be indebted to him for his great achievements.

Tuesday, 20 September 2011

عیسی علیہ السلام کی نشانیاں


Gohar Shahi









وحید الدین کی تنقید اکابرین پر

سیرت کی کتابوں اور علما ٴکے تذکروں میں بے شمار حوالے اس قسم کے مل سکتے ہیں، دور نہ جائیے صاحبِ مشکوٰة کی الاکمال فی اسماء الرجال دیکھ لیجئے، انہوں نے اکابر کا تذکرہ کن الفاظ میں کیا ہے، لیکن بصد افسوس کہنا پڑتا ہے کہ اس دور کے ناہنجار انشاپرداز اکابرِ امت کے اسما ٴگرامی نہایت گھٹیا انداز میں لیتے ہیں اور بڑے ہی سفلہ انداز میں ان پر تنقید کر گزرتے ہیں، ایک صاحب رقم طراز ہیں: شاہ ولی اللہ ایک ذی علم آدمی ہیں، غزالی ایک پڑھے لکھے آدمی ہیں۔
ایک اور صاحب نے تو حد کردی ہے کہ شاہ ولی اللہ، شاہ عبدالعزیز، جہادِ آزادیٴ ہند ۱۸۵۷ء میں حصہ لینے والے علما ٴمولانا محمود الحسن شیخ الہند، سب کو غلط کار اور کوتاہ فہم قرار دیا ہے، ان کے مقابلہ میں گاندھی کے اجتہاد کو درست قرار دیا ہے، صد حیف ہے اس انشاپردازی پر، یوں لگتا ہے قیامت کی جواب دہی کا ذرا بھی احساس نہیں ہے ان لوگوں کو۔
اندھے کی لٹھ چلانے کے بعد یہ مصنف لکھتا ہے: چنانچہ علما ٴ کی مقلدانہ رائے پر گاندھی کی مجتہدانہ رائے برتر ثابت ہوئی۔
شاید قارئین کے لئے یہ باور کرنا مشکل ہوگا کہ ایک مسلمان مصنف یہاں تک اپنی کوردانشی کا ثبوت دے سکتا ہے کہ وہ علمائے ملت کو بے بصیرت اور ان کے مقابلہ میں ایک مشرک کو صحیح الفکر مجتہد قرار دے، یہ سن کر انہیں مزید تعجب ہوگا کہ اس کے نام کے ساتھ مولانا کا سابقہ بھی موجود ہے، اور وہ جگہ جگہ اپنے مضامین میں قرآنی آیات، احادیث اور بزرگانِ امت کے اقوال Quote کرتا ہے، اس کے باوجود وہ لکھتا ہے:
۱:…"اورنگ زیب عالمگیر نے برصغیر ہند میں اسلام کا پولیٹکل ایمپائر بنانا چاہا ․․․․․․ اس کے بعد سے آج تک تقریباً تین سو سال سے تمام رہنماوٴں کا یہی سب سے زیادہ پسندیدہ خواب رہا ہے ․․․․․ تاہم یہ تین سو سالہ کوششیں بے حساب جانی اور مالی قربانیوں کے باوجود سراسر بے نتیجہ رہیں۔" (ص:۲۶، ۲۷)
۲:…"علما ٴکی مقلدانہ رائے پر گاندھی کی مجتہدانہ رائے برتر ثابت ہوئی ․․․․․․ ہمارے تمام علما ٴسو سال سے بھی زیادہ عرصہ تک جہاد کے نام پر ایک ایسے خونیں عمل میں مشغول رہے، جس کا کوئی نتیجہ تباہی کے سوا اور نکلنے والا نہ تھا، اسی خونیں جہاد کے دوران انہوں نے برصغیر ہند کے مسلمانوں کو ناقابل بیان تباہی سے دوچار کیا، یہ صرف مہاتما گاندھی تھے، جنہوں نے ان کو اس تباہ کن غار سے باہر نکالا۔" (ص:۴۲)
۳:…"پچھلے چھ سو سال سے مسلم دنیا کوئی بھی ایسی کتاب پیش نہ کرسکی، جس کو تخلیق عمل (Creative Work)کہا جاسکے۔" (ص:۷۰)
۴:…"شاہ ولی اللہ کا یہ کارنامہ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے گرتی ہوئی مغل سلطنت کو سنبھالنے کی کوشش کی، انہوں نے نواب نجیب الدولہ کے ذریعہ کابل کے احمد شاہ ابدالی کو بلوایا، اس نے ۱۷۶۱ء میں پانی پت کے مقام پر مرہٹوں کو شکست دے کر، مغل سلطنت کے دشمن کو کچل دیا، مگر نتیجہ کے اعتبار سے دیکھئے تو یہ واقعہ شاہ ولی اللہ کے کارنامہ کے خانہ میں درج کرنے کے بجائے اس قابل نظر آئے گا کہ اس کو ان کی بے بصیرتی کے خانہ میں لکھا جائے۔" (ص:۱۷۶)
۵:…"بیسویں صدی کے نصف آخر میں تقریباً پوری مسلم دنیا میں اسلامی انقلاب کی تحریکیں چلائی گئیں، ان تحریکوں کے قائد علما ٴاور اسلام پسند مفکرین تھے۔ ایران، پاکستان، مصر، سوڈان، شام، الجیریا، انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور دوسرے بہت سے مسلم علاقوں میں اس کی مثالیں دیکھی جاسکتی ہیں،مگر یہ لوگ صرف اسلام کو بدنام کرنے کا سبب بنے۔" (ص:۱۸۶)
قارئین محترم آپ سوچتے ہوں گے کہ یہ کلمات کسی مسلمان کے قلم سے نکلے ہیں یا غیرمسلم کے، جناب! یہ ہیں ہندوستان کے معروف مصنف مولانا وحید الدین خاں اور جس کتاب سے یہ اقتباسات دئے گئے ہیں، اس کا نام ہے "فکر اسلامی"۔ کسی نے سچ کہا ہے: برعکس نہتد نام زنگی کافور! ہمارے خیال میں اس کی تردید کی چنداں ضرورت نہیں ہے، تاہم تین آیاتِ قرآنی اور ایک حدیث شریف سن لیجئے:
۱:…"اَفَمَنْ کَانَ مُوٴْمِنًا کَمَنْ کَانَ فَاسِقًا لَّا یَسْتَونَ۔" (الم سجدہ:۱۸)
ترجمہ:…"تو جو شخص موٴمن ہو، کیا وہ اس شخص جیسا ہوجاوے گا جو بے حکم ہے، وہ آپس میں برابر نہیں ہوسکتے۔"
۲:…"اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ کَالْفُجَّارِ۔" (ص:۲۸)
ترجمہ:…"یا ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں کے برابر کردیں گے۔"
۳:…"اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّئَاتِ اَنْ نَّجْعَلَھُمْ کَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَوَآءً مَّحْیَاھُمْ وَمَمَاتُھُمْ، سَآءَ مَا یَحْکُمُوْنَ۔" (الجاثیہ:۲۱)
ترجمہ:…"یہ لوگ جو برے برے کام کرتے ہیں کیا یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں کے برابر رکھیں گے جنہوں نے ایمان اور عمل صالح اختیار کیا کہ ان سب کا جینا اور مرنا یکساں ہوجاوے، یہ برا حکم لگاتے ہیں۔"
حدیث شریف: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اِذَا سَمِعْتَ الرَّجُلَ یَقُوْلُ: ھَلَکَ النَّاسُ! فَھُوَ اَھْلَکُھُمْ۔" (موٴطا امام مالک ص:۳۸۶، مسلم شریف ج:۲ ص:۳۲۹،سنن ابی داوٴد ج:۲ ص:۳۲۴، مسند احمد وغیرہ)
ترجمہ:…"جب آپ کسی کو یہ کہتے سنیں کہ لوگ ہلاک ہوگئے، تو سمجھو وہ سب سے زیادہ ہلاکت پر ہے۔"
میرا خیال یہ ہے کہ خان صاحب ذہنی طور پر معذور


ہیں، یا پھر ہندووٴں کے نمک خوار، والله تعالیٰ اعلم!

Monday, 19 September 2011

Download Books about Qadianiat

 سرخ رنگ سے دیے گیے ہیںان میں قادیانی کتب کی عکسی فوٹو بھی شامل ہیں
 
جن کتب کے نام سبز رنگ سے ہیں وہ تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور گستاخ رسول کی سزا کے متعلق ہیں۔
 
اگر کسی مصنف نے امت کے اجتماعی عقیدہ کے خلاف کوئی بات تحریر کی ہو تو مرکز سراجیہ اس سے متفق نہیں ہوگا۔
 
ثبوت حاظر ہیں جدید جلد 1      محمد متین خالد
Download (58.2 MB)PDFView
 
ثبوت حاظر ہیں جدید جلد 2      محمد متین خالد
Download (65 MB)PDFView
 
ثبوت حاظر ہیں جدید جلد 3      محمد متین خالد
Download (35.7 MB)PDFView
 
ثبوت حاظر ہیں جدید جلد 4      محمد متین خالد
Download (36 MB)PDFView
 
 ثبوت حاضر ہیں مختصر            محمد متین خالد
Download (17 MB)PDFView
 
تحفظ ختم نبوت اہمیت فضیلت      محمد متین خالد
Download (18 MB)PDFView
 
اسلام بلاتا ہے                           محمد متین خالد
Download (15 MB)PDFView
 
قادیانیت اس بازار میں                 محمد متین خالد
Download  (7 MB)PDFView
 
قادیانیت سے اسلام تک               محمد متین خالد
Download  (5 MB)PDFView
 
عدالتی فیصلے                          محمد متین خالد
Download (13 MB)PDFView
 
قادیانیت ہماری نظر میں               محمد متین خالد
Download (19 MB)PDFView
 
کامیاب مناظرہ                        محمد متین خالد
Download (9.25 MB)PDFView
 
علامہ اقبال اور فتنہ قادیانیت         محمد متین خالد
Download  (9  MB)PDFView
 
غدار پاکستان                            محمد متین خالد
Download (24 MB)PDFView
 
قادیانیت دہشتگرد تنظیم                محمد متین خالد
Download (16 MB)PDFView
 
شہیدان ناموس رسالت                محمد متین خالد
Download  (6 MB)PDFView
 
ربوہ اور قادیان جو دیکھا            محمد متین خالد
Download (16 MB)PDFView
 
ناموس رسالت اور سازشیں         محمد متین خالد
Download (29 MB)PDFView
 
قادیانیت کی عریاں تصویریں         محمد متین خالد
Download (25MB)PDFView
 
قادیانی راسپوٹینوں کا انجام          محمد متین خالد
Download (13 MB)PDFView
 
دجال قادیان                              طاہر عبدالرزاق
Download  (3  MB)PDFView
 
مرگ مرزائیت                           طاہر عبدالرزاق
Download  (4  MB)PDFView
 
قادیانیت کش                             طاہر عبدالرزاق
Download  (4 MB)PDFView
 
قادیانیت شکن                           طاہر عبدالرزاق
Download  (5  MB)PDFView
 
شعور ختم نبوت                        طاہر عبدالرزاق
Download (737Kb)PDFView
 
قادیانی افسانے                         طاہر عبدالرزاق
Download  (3 MB)PDFView
 
شمع ختم نبوت کے پروانوں        طاہر عبدالرزاق
Download (3  MB)PDFView
 
کاروان تحریک ختم نبوت            طاہر عبدالرزاق
Download  (3  MB)PDFView
 
جنہیں ختم نبوت سے عشق تھا     طاہر عبدالرزاق
Download (4  MB)PDFView
 
تحریک ختم نبوت کی یادیں        طاہر عبدالرزاق
Download (3  MB)PDFView
 
دفاع ختم نبوت                           طاہر عبدالرزاق
Download  (4 MB)PDFView
 
محاصرہ قادیانیت                       طاہر عبدالرزاق
Download (4  MB)PDFView
 
قادیانی غداروں کی نشاندہی         طاہر عبدالرزاق
Download (23 MB)PDFView
 
قادیانیت کے تعاقب میں               طاہر عبدالرزاق
Download  (3 MB)PDFView
 
شاہراہ عشق کے مسافر             طاہر عبدالرزاق
Download  (3 MB)PDFView
 
ختم نبوت کے محافظ                  طاہر عبدالرزاق
Download  (3 MB)PDFView
 
مجاہدین ختم نبوت کی داستانیں     طاہر عبدالرزاق
Download  (4 MB)PDFView
 
جہاد ختم نبوت کے جانثار            طاہر عبدالرزاق
Download  (3 MB)PDFView
 
ناموس محمدصلعم کے پاسبان       طاہر عبدالرزاق
Download  (3 MB)PDFView
 
قادیانی کرتوت                          طاہر عبدالرزاق
Download (22 MB)PDFView
 
جوختم نبوت پہ فدا تھے               طاہرعبدالرزاق
Download  (21MB)PDFView
 
نغمات ختم نبوت                        طاہر عبدالرزاق
Download  (2 MB)PDFView
 
Download (11MB)PDFView
 
اسلام کو قادیانیت سے بچائیے       طاہرعبدالرزاق
Download (21 MB)PDFView
 
قادیانیت ریزہ ریزہ ہوتی ہے         طاہر عبدالرزاق
Download (21 MB)PDFView
 
تفہیم ختم نبوت                          طاہر عبدالرزاق
Download (14 MB)PDFView
 
ظفراللہ خان قادیانی                    طاہر عبدالرزاق
Download (18 MB)PDFView
 
اسلام کے اجا لے                      طاہر عبدالرزاق
Download (12 MB)PDFView
 
دفاع ختم نبوت اسلام کا مورچہ     طاہر عبدالرزاق
Download (19 MB)PDFView
 
چراغ مصطفوی                        طاہر عبدالرزاق
Download (21 MB)PDFView
 
ہم نے قادیان میں کیا دیکھا؟        طاہر عبدالرزاق
Download (15 MB)PDFView
 
ربوہ کی پراسرار کہانیاں             طاہر عبدالرزاق
Download (19 MB)PDFView
 
تحفظ ختم نبوت                          طاہر عبدالرزاق
Download  (9 MB)  PDFView
 
غازی عامر عبدالرحمٰن چیمہ        محمد متین خالد
Download (35 MB)PDFView
 
معرفت اسم محمد                      محمد متین خالد
Download  (3 MB)PDFView
 
مسلہ ختم نبوت                        مولانا محمد نافع
Download  (5 MB)PDFView
 
قادیانیت اسلام اور سائنس     عرفان محمود برق
Download  (4 MB)PDFView
 
ختم نبوت کامل                          مفتی محمد شفیع
Download  (7 MB)PDFView
 
علامات قیامت اور نزول مسیح     مفتی محمد شفیع
Download  (3 MB)PDFView
 
علامات قیامت اور ظہور مہدی   سہیل باواصاحب
Download  (16 MB)PDFView
 
ردقادیانیت کے زریں اصول مولانا منظور چنیوٹی
Download  (8 MB)PDFView
 
قومی ڈائجسٹ                           قادیانیت نمبر
Download  (9 MB)PDFView
 
تھالی کابینگن                            اشتیاق احمد
Download (10 MB)PDFView
 
تحریک احمدیت                             بشیر احمد
Download (10 MB)PDFView
 
قادیانیت مطالعہ                ابوالحسن علی ندوی
Download  (3 MB)PDFView
 
کادیانیت کا سیاسی تجزیہ صاحبزادہ طارق محمود
Download (15 MB)PDFView
 
Download (19 MB)PDFView
 
Download  (2 MB)PDFView
 
Download  (1 MB)PDFView
 
قادیانی فتنہ                       ختم نبوت اکیڈمی لندن
Download (11 MB)PDFView
 
 صد سالہ تاریخ           انٹر نیشنل ختم نبوت مومنٹ
Download (32 MB)PDFView
 
اندر کی باتیں                 عبد الباسط سابق قادیانی
Download  (3 MB)PDFView
 
اہم پیشنگوئیاں                محمد اقبال رنگونی
Download  (1 MB)PDFView
 
تحفظ ناموس رسالت                        ساجد اعوان
Download  (9 MB)PDFView
 
توہین رسالت                  مفتی جمیل احمد تھانوی
Download  (1 MB)PDFView
 
جھوٹے نبی                     ابوالقاسم رفیق دلاوری
Download (11 MB)PDFView
 
رفع و نزول مسیح                    مولانا عبد الطیف
Download (18MB)PDFView
 
شہر سدوم                                     شفیق مرزا
Download  (2 MB)PDFView
 
ختم نبوت کامل نمبر              مولانا سرفراز خان
Download  (5  MB)PDFView
 
توضیح المرام                      مولانا سرفراز خان
Download  (2 MB)PDFView
 
خاتم النبیین                   علامہ انور شاہ کشمیری
Download  (4 MB)PDFView
 
سیف چشتیائ               پیر مہر علی شاہ گولڑوی
Download  (7 MB)PDFView
 
تجزیہ قادیانیت                      محمد اقبال رنگونی
Download (4 MB)PDFView
 
تفاسیر قرآن اور مرزائ      شاہ عالم گورکھپوری
Download  (6 MB)PDFView
 
بنام قادیانی عوام                  نثار احمد خان فتحی
Download (14 MB)PDFView
 
مقدمہ بھاولپور1935 جلد1       اسلامک فاونڈیشن
Download (38 MB)PDFView
 
مقدمہ بھاولپور1935 جلد2       اسلامک فاونڈیشن
Download (26 MB)PDFView
 
مقدمہ بھاولپور1935 جلد3       اسلامک فاونڈیشن
Download (28 MB)PDFView
 
تاریخی دستاویز                         مولانا عبدالقیوم
Download (24 MB)PDFView
 
اقبال اور قادیانیت                     بشیر احمد ایم۔اے
Download (16 MB)PDFView
 
تحریک ختم نبوت                آغا شورش کشمیری
Download  (8 MB)PDFView
 
سید عطا اللہ شاہ بخاری        آغا شورش کشمیری
Download (16 MB)PDFView
 
احمقوں کی جنت                            جی۔آر۔اعوان
Download  (3 MB)PDFView
 
 عقیدہ ختم نبوت                     ڈاکٹر طاھر القادری
Download (40 MB)PDFView
 
بائیس جھوٹے نبی                       نثار احمد فتحی
Download  (2 MB)PDFView
 
چھوٹا منہ بڑی بات                   حافظ عبدالرحمان
Download  (3 MB)PDFView
 
مجموعہ رسائل                       حافظ عبدالرحمان
Download  (2 MB)PDFView
 
مقدمہ قادیانی مزہب                         الیاس برنی
Download  (4 MB)PDFView
 
حیات امیر شریعت                            جانباز مرزا
Download (10 MB)PDFView
 
مرزائیت اور اسلام                   احسان الہی ظہیر
Download  (3 MB)PDFView
 
قادیانی مسئلہ                         ابوالاعلی مودودی
Download  (1 MB)PDFView
 
پیغام ہدایت                         مولانا منظور چنیوٹی
Download (15 MB)PDFView
 
مقالات ختم نبوت                  مولانا منظور چنیوٹی
Download (14 MB)PDFView
 
آسان راستہ                            ڈاکٹر خالد محمود
Download  (1 MB)PDFView
 
عقیدہ الامت فی ختم نبوت           ڈاکٹر خالد محمود
Download  (4 MB)PDFView
 
کفریات مرزا                           علامہ نور محمد
Download  (4 MB)PDFView
 
مغلظات مرزا                          علامہ نور محمد
Download  (6 MB)PDFView
 
کرشن مرزا                            علامہ نور محمد
Download  (4 MB)PDFView
 
مرزائیت نیے زاویوں سے        مولانا حنیف ندوی
Download (14 MB)PDFView
 
حرف اقبال               علامہ اقبال اوپن یونیوسٹی
Download (6.48MB)PDFView
 
قانون توہین رسالت      اسماعیل قریشی صاحب
Download (13.3MB)PDFView
 
کیا امریکہ جیت گیا؟                محمد متین خالد
Download (8.91MB)PDFView
 
تحفہ قادیانیت 1                 مولانا یوسف لدھیانوی
Download  (8 MB)PDFView
 
تحفہ قادیانیت 2                 مولانا یوسف لدھیانوی
Download  (5 MB)PDFView
 
تحفہ قادیانیت 3                 مولانا یوسف لدھیانوی
Download  (7MB)PDFView
 
تحفہ قادیانیت 4                 مولانا یوسف لدھیانوی
Download  (8 MB)PDFView
 
تحفہ قادیانیت 5                 مولانا یوسف لدھیانوی
Download  (5 MB)PDFView
 
تحفہ قادیانیت 6                 مولانا یوسف لدھیانوی
Download  (6 MB)PDFView
 
آئینہ قادیانیت                            مولانا اللہ وسایا
Download  (7 MB)PDFView
 
قادیانی شبہات کے جوابات 1        مولانا اللہ وسایا
Download (5 MB)PDFView
 
قادیانی شبہات کے جوابات 2        مولانا اللہ وسایا
Download  (8 MB)PDFView
 
قادیانی مزہب کا علمی محاسبہ            الیاس برنی
Download (10 MB)PDFView
 
رئیس قادیان                                 رفیق دلاوری
Download  (8MB)PDFView
 
قومی اسمبلی کی کاروائ             مولانا اللہ وسایا
Download  (9 MB)PDFView
 
الخیفۃ المہدی فی الاحادیث    مولاناحسین احمد مدنی
Download  (3 MB)PDFView
 
احتساب قادیانیت 1              مولانا لال حسین اختر
Download  (4 MB)PDFView
 
احتساب قادیانیت 2            مولانا ادریس کاندھلوی
Download  (5 MB)PDFView
 
احتساب قادیانیت 3         مولانا حبیب اللہ امرتسری
Download  (5 MB)PDFView
 
احتساب قادیانیت 4         مولانا اشرف علی تھانوی
Download  (7 MB)PDFView
 
احتساب قادیانیت 5        مولانا محمدعلی مونگیری
Download  (6 MB)PDFView
 
احتساب قادیانیت 6      قاضی سلیمان منصورپوری
Download  (6 MB)PDFView
 
احتساب قادیانیت 7      مولانا محمدعلی منونگیری
Download  (8 MB)PDFView
 
احتساب قادیانیت 8         مولانا ثناء اللہ امرتسری
Download  (6 MB)PDFView
 
احتساب قادیانیت 9         مولانا ثناء اللہ امرتسری
Download  (7 MB)PDFView
 
احتساب قادیانیت 10             مولانا مرتضی حسن
Download  (7 MB)PDFView
 
احتساب قادیانیت 11                      بابو پیر بخش
Download  (8 MB)PDFView
 
احتساب قادیانیت 12                     بابو پیر بخش
Download  (7 MB)PDFView
 
احتساب قادیانیت 13                 مفتی محمد شفیع
Download  (5 MB)PDFView
 
احتساب قادیانیت 14        ماسڑ نظام الدین بی اے
Download  (5 MB)PDFView
 
احتساب قادیانیت 15       مولانا احمد علی لاہوری
Download  (23 MB)PDFView
 
احتساب قادیانیت 16             مولانایوسف بنوری
Download (21 MB)PDFView
 
احتساب قادیانیت 17               عبد الغنی پٹیالوی
Download (23 MB)PDFView
 
احتساب قادیانیت 18          مولانا منظور نعمانی
Download (20 MB)PDFView
 
احتساب قادیانیت 19       مولاناابراہیم سیالکوٹی
Download (23 MB)PDFView
 
احتساب قادیانیت 20    مولانا محمد مسلم عثمانی
Download (23 MB)PDFView
 
احتساب قادیانیت 21             مولانا نور اللہ خان
Download (30 MB)PDFView
 
احتساب قادیانیت 22             مولانا ایم ایس خالد
Download (29 MB)PDFView
 
احتساب قادیانیت 23             مولانا ایم ایس خالد
Download (20 MB)PDFView
 
احتساب قادیانیت 24      مولانا عبد الطیف مسعود
Download (30 MB)PDFView
 
احتساب قادیانیت 25         مولانا محمد عالم آسی
Download (21 MB)PDFView
 
احتساب قادیانیت 26         مولانا محمد عالم آسی 
Download (24 MB)PDFView
 
  احتساب قادیانیت 27       آغا شورش کاشمیری  
Download (19 MB)PDFView
 
احتساب قادیانیت 28            قاضی زاہدالحسینی 
Download (24 MB)PDFView

تحریک ختم نبوت 1953             مولانا اللہ وسایا
Download (19 MB)PDFView
 
تحریک ختم نبوت 1974 (1)       مولانا اللہ وسایا
Download (13 MB)PDFView
 
تحریک ختم نبوت 1974 (3)       مولانا اللہ وسایا
Download (14 MB)PDFView
 
Download  (6 MB)PDFView
 
مناظرے                                 مولانا اللہ وسایا
Download  (7 MB)PDFView
 
فراق یاراں                             مولانا اللہ وسایا
Download  (7 MB)PDFView
 
فتاوٰی ختم نبوت 1       مفتی سعید احمد جلالپوری
Download (18 MB)PDFView
 
فتاوٰی ختم نبوت 2       مفتی سعید احمد جلالپوری
Download (14 MB)PDFView
 
فتاوٰی ختم نبوت 3       مفتی سعید احمد جلالپوری
Download  (8 MB)PDFView
 
اختلافات مرزا                         علامہ نور محمد
Download  (3 MB)PDFView
 
کذبات مرزا                            علامہ نور محمد
Download  (5 MB)PDFView
 
الصارم المسلول            مولانا غلام احمد حریری
Download(32.4 MB)PDFView
 
   
 
 
:: Arabic Books::
الصارم المسلول (عربی) 2             امام ابن تیمیہ
Download (25 MB)PDFView
 
الصارم المسلول (عربی) 3             امام ابن تیمیہ
Download (25 MB)PDFView
 
الصارم المسلول (عربی)1              امام ابن تیمیہ
Download (20 MB)PDFView
 
 
Download (10 MB)PDFView
 
 القادياني و القاديانية         ابوالحسن علي الندوي
Download (10 MB)PDFView
 
 
Download (10 MB)PDFView
 
   
 
:: English Books::
Gift for qadianis
Download  (6MB)PDFView
 
qadiyaniat Defeated in Parliament
Download (750Kb)PDFView
 
Ahmadiyaa movement
Download (10 MB)PDFView
 
The view of Ummah on qadiyanism
Download (1 MB)PDFView
 
qadiyani Conversion (facts)?
Download (283Kb)PDFView
 
JESUS the Massiah
Download (294Kb)PDFView
 
Sign before the day of Judegment
Download (552Kb)PDFView
 
Finality of the Prophethood
Download  (4 MB)PDFView
 
qadyaniat in the eyes of Law
Download (29 MB)PDFView
 
Mirror to qadianiyat
Download (17 MB)PDFView
 
qadianism A Critical Study
Download (13 MB)PDFView
 
A Simple way of looking qadianism
Download (199Kb)PDFView
 
The Disciple of dajjal
Download (1 MB)PDFView
 
LAW of Blasphemy in ISLAM
Download (34.2 MB)PDFView
 
Sign of Qiyamah & Arrival of Maseeh
Download  (7 MB)PDFView
 
Decision of the Court
Download (19 MB)PDFView
 
A comparison b/w ISLAM & qadiani
Download (354Kb)PDFView
 
qadiani movement A Critical Study
Download  (2 MB)PDFView
 
JESUS & The ahmadiyya movement
Download (299Kb)PDFView
 
JESUS will return
Download (428Kb)PDFView
 
The Movement Of Khatm-E-Nubuwat
Download (4.8 MB)PDFView